قومی نقائص کی درست نشاندہی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ بحیثیت قوم ہم بے یقینی کا شکار ہیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ بحیثیت قوم ہم بے یقینی کا شکار ہیں، فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ بحیثیت قوم ہم بے یقینی کا شکار ہیں، کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں، بے شمار وسائل کے باوجود غربت، جہالت، بے روزگاری، ناانصافی اور لاقانونیت کی دلدل میں دھنس چکے ہیں، ان مسائل کے حل کے لیے کوئی مسیحا آسمان سے اترے گا نہ ہی کوئی باہر سے مدد کو آئے گا، اب بھی اگر ایک قوم بن جائیں تو ایک دہائی میں اقوام عالم کی صف اول میں شامل ہو سکتے ہیں۔

جناب چیف جسٹس کی یہ آبزرویشنز ہمارے ارباب بست و کشاد کے لیے چشم کشا ثابت ہونی چاہئیں کیونکہ کسی قوم کے نجات دھندہ کبھی باہر سے نہیں آیا کرتے، یہ فریضہ قوم کے اپنے بیٹوں کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے اور قدرت ان کی دست غیب سے مدد کرتی ہے۔ عزت مآب چیف جسٹس نے یہ باتیں لاہور میں پاکستان بار کونسل اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ چیف جسٹس نے اس بات پر شدید دکھ کا اظہار کیا کہ قومی وسائل کا جس بے دردی سے ضیاع کیا گیا اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انھوں نے حکمرانوں پر زور دیا وہ سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔


چیف جسٹس نے اس بات کو لمحہ فکریہ قرار دیا قیام پاکستان کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی تھیں مگر افسوس ہم آج بھی صحیح معنوں میں قوم نہیں بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے شاہین صفت نوجوان اندرونی حالات سے بددل ہو کر ترک وطن کی راہ اختیار کرتے ہیں لیکن اب بیرونی دنیا میں بھی ان پر دروازے بند ہو رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو اس حقیقت کا شعور ہی نہیں کسی ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے والے یہی نوجوان ہوتے ہیں جن کو ہمارا فرسودہ نظام بست و کشاد اس قدر بے دریغ انداز میں ضایع کر رہا ہے۔

جناب چیف جسٹس نے جن قومی وسائل کے ضیاع کا اشارہ دیا ہے ان میں سب سے بڑا اثاثہ یہی نوجوان ہیں جن کو غیر فطری حلقہ بندیوں میں تقسیم کر کے ان کے حقیقی جوہر کا اتلاف کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے صاف صاف الفاظ میں کہا کہ بد انتظامی اور کرپشن کے باعث ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے اور بطور قوم ہم بے حسی اور بے یقینی کا شکار ہیں لیکن اگر اختلافات ختم کر دیں تو ہم صف اول کی قوموں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنی منزل سے کوسوں دور ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ احتساب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں' ہمارا مقصد نظام کو تباہ کرنا نہیں ججوں کو مضبوط کرنا ہے۔
Load Next Story