کراچی آپریشن ایپکس کمیٹی کے اہم فیصلے

سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا پولیس میں اصلاحات لانے

سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا پولیس میں اصلاحات لانے، فوٹو: فائل

سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا پولیس میں اصلاحات لانے، کراچی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنے، اس میں مزید تیزی لانے اور اس کا دائرہ وسیع کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ سندھ میں انسداد دہشت گردی کی مزید 30 عدالتیں قائم کرنے، دہشتگردی کے مقدمات کی موثر انداز میں پیروی کے لیے 200 نئے پبلک پراسیکیوٹرز اور اتنی ہی تعداد میں پولیس کے تفتیشی افسران کی تقرری کے علاوہ سندھ پولیس میں مزید 8 ہزار اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔

اجلاس وزیر اعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں گورنر عشرت العباد، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ ایپکس کمیٹی کا اجلاس اہمیت کا حامل ہے۔ اسے اب نتیجہ خیز ہونا چاہیے جس کے لیے پولیس اور رینجرز کو دہشتگردوں کی فوری گرفتاری کے لیے آگے بڑھنا ہو گا۔


گزشتہ روز کراچی میں ملٹری اہلکاروں پر دہشتگردانہ حملہ کرنے کا اندوہ ناک واقعہ معمولی نوعیت کا نہیں بلکہ ٹارگٹ کلرز کے تربیت یافتہ عناصر کی پہلے سے طے شدہ کارروائی کا حصہ لگتا ہے، افسوس کہ پولیس کو ٹھوس شواہد نہیں مل سکے، جب کہ رینجرز نے ملزمان کی اطلاع دینے پر 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، ادھر ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے قریب پہنچ گئے ہیں لیکن دعوؤں اور غیر مربوط تفتیش سے بچتے ہوئے انٹیلی جنس شیئرنگ کا دائرہ سندھ بھر تک وسیع ہونا چاہیے۔

200 مزید عدالتوں کا قیام، 8 ہزار اہلکاروں کی بھرتی اور200 نئے پبلک پراسیکیوٹرز کی تعیناتی احسن فیصلے ہیں، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا، صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے بریفنگ میں کہا کراچی میں دہشتگرد اپنی آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔

شہر میں آپریشن ہونے کے باعث دہشتگردوں نے اندرون سندھ پناہ لی ہوئی ہے، اب آپریشن کو پورے سندھ میں پھیلایا جائے گا۔ حکومت سندھ کو بلاشبہ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، مسائل بے پناہ ہیں جن پر مکمل سیاسی اشتراک عمل اور سخت انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات کے تحت قابو پایا جا سکتا ہے جب کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمہ کے لیے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کے تحت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے مثبت نتائج نظر آنے چاہئیں۔ کراچی کو دہشتگردوں سے پاک کرنا ناگزیر ہے۔
Load Next Story