الیکٹرانک میڈیا کی طاقت

ٹی وی چینلز کے معروف پروگراموں میں ٹاک شوز سرفہرست ہیں، جن میں طنز و مزاح کے پروگرام بھی شامل ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پرویز مشرف کی حکومت سے پہلے ہمارا الیکٹرانک میڈیا سرکاری ٹی وی تک محدود تھا اور اس کا کام حکمران طبقے کی مدح سرائی تک محدود تھا۔ سابق صدر ایک فوجی ڈکٹیٹر تھا مگر وہ غالباً پاکستان کی تاریخ کا پہلا آمر تھا جس نے نہ صرف الیکٹرانک میڈیا کو فروغ دینے کا کام انجام دیا بلکہ اسے اس قدر آزادی دی کہ وہ حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں پر تنقید بلکہ شدید تنقید کرنے میں آزاد ہو گیا۔ حتیٰ کہ پرویز مشرف کی حکومت کے خاتمے میں بھی اس کا بڑا کردار رہا۔

ٹی وی چینلز کے معروف پروگراموں میں ٹاک شوز سرفہرست ہیں، جن میں طنز و مزاح کے پروگرام بھی شامل ہیں۔ صحافی خواہ ان کا تعلق پرنٹ میڈیا سے ہو یا الیکٹرانک میڈیا سے عموماً بد حالی کا شکار رہتے ہیں لیکن اب ہمارا الیکٹرانک میڈیا اپنے صحافیوں پر اتنا مہربان ہو گیا ہے کہ اینکر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ تو ہوئیں تمہیدی باتیں۔ اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا اسی قدر طاقتور ہو گیا ہے کہ اس کے نام سے برسر اقتدار کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی ٹانگیں بھی کانپنے لگ جاتی ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا الیکٹرانک میڈیا اپنی طاقت کا استعمال درست سمت میں کر رہا ہے، یعنی ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کر رہا ہے؟ آج کی دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، دریافت اور تحقیق کی دنیا ہے۔ سائنس کی ترقی نے ماضی کے خیالات و نظریات کو عزت و احترام کے ساتھ ایک طرف رکھ دیا ہے، آج دنیا کا ہر ملک ان میدانوں میں آگے بڑھنے کی مجنونانہ کو ششیں کر رہا ہے ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں۔

آنے والی دنیا جدید علوم کی دنیا ہو گی، ترقی یافتہ ملک چاند کی تسخیر کے بعد ہمارے نظام شمسی کے دوسرے سیاروں پر کمند ڈال رہے ہیں۔ لوگ مریخ پر رہائش کے لیے زمینیں الاٹ کرا رہے ہیں خلائی شٹل بھاری کرایہ لے کر عوام کو خلاء کی سیر کرا رہی ہے جہاں سے ہم اپنی دنیا یعنی کرۂ ارض کا حیرت کے ساتھ مشاہدہ کر سکتے ہیں لیکن ہماری اجتماعی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم ابھی چاند پر پہنچنے کی باتوں کو دین میں مداخلت کہہ رہے ہیں اور عید کے چاند دیکھنے پر ٹکڑوں میں بٹ کر تین تین عیدیں کر رہے ہیں ۔

اس لیے کہ ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی ابھی تک قبائلی اور جاگیردارانہ نظام سے چمٹے ہوئے ہیں اور ابھی تک قبائلی فکر سے آزاد ہونا تو دور کی بات پوری دنیا پر قبائلی نظام مسلط کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے خودکش حملوں، بارودی جیکٹوں، بارودی گاڑیوں کا راستہ اپنا رہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا قبائلی اور جاگیردارانہ کلچر کے متوالوں کے لیے کھلا میدان بنا ہوا ہے یا بددیانت سیاست دانوں کی بددیانتیوں کی داستانیں ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا پسندیدہ ٹاک بنی ہوئی ہیں۔


تقریباً تمام ٹاک شوز کا مرکزی موضوع سیاست دانوں کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات ہے۔ الیکٹرانک میڈیا دانستہ یا نادانستہ اپنے ٹاک شوز کے ذریعے عوام میں ذہنی انتشار پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے، اس کلچر کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ عوام حکمران طبقات اور اپوزیشن کے کرتوت سے واقف ہو کر ان سے دور ہو رہے ہیں لیکن سیاسی میدان میں کوئی بہت متبادل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندھوں میں کانے کو راجہ بنانے پر مجبور ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک میں سرے سے اچھے ایماندار با صلاحیت لوگ موجود ہی نہیں؟ نہیں ایسا نہیں، بلکہ ہر شعبۂ زندگی میں باکمال لوگ موجود ہیں لیکن گمنامی کے اندھیروں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ کیا میڈیا ان باصلاحیت لوگوں کی موجودگی سے لا علم ہے یا ان کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کر رہا ہے؟ الیکٹرانک میڈیا کے اکابرین کو سنجیدگی سے ان سوالوں پر غور کرنا چاہیے۔ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے کارکنوں کی بہادری اور بے خوفی کا عالم یہ ہے کہ وہ قبرستانوں میں جا کر قبروں سے مردوں کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں نکال کر ان کا ناجائز استعمال کرنے والے ملاؤں، باباؤں کو بے نقاب تو کر رہے ہیں لیکن یہ سمجھنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں کہ یہ خرافات قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی دین ہیں۔

جب تک یہ نظام زندہ ہے، کٹھ ملاؤں، باباؤں کو ختم کیا جا سکتا ہے نہ عوام کو ان کی گرفت سے نکالا جا سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اسی طبقہ فکر کے لوگ مختلف لباسوں میں الیکٹرانک میڈیا پر سب سے زیادہ جگہ حاصل کر رہے ہیں یا پھر ایان علی، ریحام خان ہمارے الیکٹرانک میڈیا کی پسندیدہ شخصیتیں بنی ہوئی ہیں۔ اس پر ستم یہ ہے کہ اس قسم کے ملا بابا کلچر کو فروغ دینے کے لیے خصوصی چینلز بھی رات دن مصروف کار ہیں اور عوام کے پہلے ہی سے پسماندہ ذہنوں کو اور پسماندہ کرنے میں صدقِ دل سے مصروف ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارے سیاسی میدان میں وہ لوگ سرے سے موجود ہی نہیں جو پاکستان کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لا سکیں۔ ہماری بد بختی یہ ہے کہ چند موٹروے اور کالی پیلی بس سروس بنا کر ہم عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔ حقیقی ترقی کے لیے سائنس ٹیکنالوجی تحقیق و تجربات کے شعبوں میں پیش قدمی ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ عوام کو ذہنی پسماندگی سے نکالنا بھی ضروری ہے اس کے لیے جدید علوم سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی سمیت مختلف ترقی یافتہ شعبوں کے ماہرین ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، مفکروں، فلسفیوں کو ٹاک شوز میں لانا ہی نہیں بلکہ انھیں مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔

آج ہم صبح سے شام تک مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا رونا تو روتے نظر آتے ہیں لیکن ان عذابوں کو جنم دینے والے نظاموں کو بدلنے کے لیے ان صاحب علم، صاحب بصیرت لوگوں کی خدمات حاصل کرنے پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں جو ان بلاؤں کو جڑ سے اکھیڑ پھینکنے کی اہلیت اور علم رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اہل لوگوں سے خالی نہیں بس توجہ اور احساس کی ضرورت ہے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔
Load Next Story