وزارت خزانہ ایف بی آر ملازمین کا الاؤنس بحال کرنے پر تیار

بقایا جات کے ساتھ الاؤنس کی بحالی پر رواں مالی سال1ارب 40 کروڑلاگت آئیگی

ایف بی آرنے اضافی فنڈز کی درخواست کر دی،وزارت خزانہ کو سمری مل گئی،ذرائع فوٹو: فائل

وزارت خزانہ نے ایف بی آر ملازمین کا منجمد الاؤنس بحال کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا، ملازمین کو بقایا جات کے ساتھ الاؤنس کی بحالی پر رواں مالی سال 1ارب 40 کروڑ روپے لاگت آئے گی جس کیلیے ایف بی آر نے وزارت خزانہ کو بجٹ گرانٹ کی مد میں اضافی فنڈز مختص کرنے کی درخواست کردی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی ہدایت پر وزارت خزانہ نے ایف بی آر سے الاؤنس کی بحالی کیلیے درکار فنڈز کی تفصیلات طلب کی تھی جو وزارت خزانہ کو موصول ہو گئی ،رواں ماہ فیصلے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلی سہ ماہی میں 40 ارب کے ریونیو شارٹ فال کی وجوہ میں ایک وجہ ایف بی آر ملازمین کا بنیادی تنخواہ کے برابر 100 فیصد الاؤنس بجٹ میں اعلان کردہ تنخواہ میں اضافے کے مطابق نہ کرنا بھی تھا جس سے ملازمین میں بددلی پائی جاتی تھی۔


ذرائع کے مطابق ایف بی آر حکام کا موقف ہے کہ الاؤنس بحال کرنے سے ریونیو کلیکشن میں بہتری آئے گی۔ ''ایکسپریس'' کو وزارت خزانہ سے دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ کو ملنے والی سمری میں بتایا گیاکہ ایف بی آرملازمین کا منجمد شدہ الاؤنس بحال کرنے کیلیے 1 ارب 40کروڑ روپے کے اضافی فنڈز درکار ہوں گے جس میں 12کروڑ 81 لاکھ روپے ہیڈ کوارٹرز کے ملازمین، 48 کروڑ 98 لاکھ روپے پاکستان کسٹمز سروس کے ملازمین اور 78کروڑ21 لاکھ روپے ان لینڈ ریونیو سروس کے ملازمین کے الاؤنس کی بحالی پر خرچ ہونگے۔

سمری کے مطابق سال 2012 میں بھی یہ الاؤنس منجمد کیا گیااور اس وقت فنانس ڈویژن کی سفارش پر وزیراعظم نے اسے بحال کرنے کی منظوری دی تھی، یہ الاؤنس صرف ان ملازمین کو دیا جاتا ہے جو کارکردگی کا معیار جانچنے کیلیے وضع کردہ اہلیت و گائیڈ لائن کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔

سمری کے مطابق مذکورہ حقائق کی بنیاد پر ایف بی آر ملازمین کا الاؤنس بحال کرنے کے حوالے سے 10جولائی کو بھی وزیر خزانہ کو نوٹ بھجوایا گیا تھا، اب وزارت خزانہ کے الاؤنس بحال کرنے کیلیے درکار فنڈز کی تفصیلات طلب کرنے پر یہ سمری بھجوائی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ الاؤنس کی بحالی پر یکم جولائی 2015 سے جون 2016تک 1ارب 40کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
Load Next Story