قسم ہے جو ہم نے ایسا کہا ہو
ڈاکٹر امرود کبھی کبھی ایسے امرود کو قیمے بھرا سموسہ یا سینڈوچ بھی کہتا ہے،
barq@email.com
ہم نے ایک بات کیا کی کہ اس کے ''بتنگڑ'' بننا شروع ہوئے۔ ایسے ایسے بتنگڑ کہ جن کا اصل بات سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ یعنی وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا، وہ بات ان کو بہت ناگوار گزر گئی۔ یوں کہیے کہ
ہم نے ایک اینٹ پہ تعمیر کیا تاج محل
تم نے اک بات کہی لاکھ فسانے نکلے
بات صرف ڈاکٹر امرود کے حج پر جانے کی تھی لیکن پھیلتے پھیلتے بنی گالہ تک جا پہنچی حالانکہ ہم نے بنی گالہ کا نام تک نہیں لیا تھا اشارہ تک نہیں کیا تھا کیونکہ اشارے کرنا ''شریف'' لوگوں کا کام ہی نہیں ہے اور ہم اگر شریف نہیں بھی ہیں تو شریفوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھا تو رہا ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے کوئی بات ہی نہیں کی تھی صرف ڈاکٹر امرود کے حج پر جانے اور ''بخیریت'' لوٹ آنے کی کہانی سنائی۔
''بخیریت'' اس لیے کہ بلاد عرب سے کوئی ایسی ویسی خبر بالکل نہیں آئی تھی حالانکہ ڈاکٹر امرود جہاں بھی جاتے ہیں داستان چھوڑ آتے ہیں، ڈاکٹر امرود کو آپ بھولے تو نہیں ہوں گے، اس کالم میں اکثر اس کا ''ذکر بے خیر'' ہوتا رہا ہے لیکن عرصے سے اس کے بارے میں کچھ لکھا نہیں ہے اس لیے تھوڑا سا تعارف نئے پڑھنے والوں کے لیے ہو جائے تو کیا برا ہے، ڈاکٹر امرود پہلے ڈاکٹر نہیں تھا پشاور کے ایک اسپتال کے گیٹ کے سامنے امرود بیچا کرتا تھا جو اکثر ''ٹو ان ون'' ہوتے تھے یعنی پھل کا پھل اور گوشت کا گوشت، اور گوشت جسے ڈاکٹر امرود موٹے گوشت اور چھوٹے گوشت سے الگ کرنے کے لیے ''باریک'' گوشت یا بغیر ہڈی کا گوشت کہتا ہے جو امرود کے اندر خودبخود پیدا ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر امرود کبھی کبھی ایسے امرود کو قیمے بھرا سموسہ یا سینڈوچ بھی کہتا ہے، امرود بیچتے ہوئے جب میں نے دیکھا کہ لوگ اسپتال اپنے پیروں سے چل کر آتے ہیں اور دو چار دن بعد بارہ پیروں (آٹھ آدمیوں کے اور چار، چارپائی کے) پر واپس جاتے ہیں تو میں نے سوچا کہ اس کام کے لیے اتنی بڑی بلڈنگ بے شمار ڈاکٹرز اور اتنے تام جھام کی ضرورت ہی کیا ہے یہ کام تو میں اکیلے بھی کر سکتا ہوں، چنانچہ اس نے اپنے گاؤں میں دکان کھولی جسے لوگ تو دکان کہتے ہیں لیکن ڈاکٹر امرود کلینک بتاتا ہے، دو پیروں پر چل کر آنے والوں کو بارہ پیروں پر واپس بھجوانے کا کام خوب چل نکلا، اپنے ایک بھائی کو اس نے بغل میں پھلوں کی دکان ڈلوا دی جس کا مین آئٹم باریک گوشت کے سموسے یعنی امرود تھے جو ڈاکٹر صاحب ہر مریض کو بلکہ اس کے لواحقین کو تجویز کرتے تھے۔
دوسری طرف دوسرے بھائی کے لیے تجہیز و تکفین کے سامان کی دکان کچھ عرصے بعد ڈلوا دی گئی جس پر جلی حروف میں لکھا تھا ''آج'' ادھار کل نقد ۔۔۔ اس کے اور اس کے بھائی کا نظریہ تھا کہ دنیا میں یہی ایک ایسا دھندہ ہے جس میں قرض خور اور ڈیفالٹر نہیں ہوتے کیوں کہ کوئی اپنے بزرگوں کو قرض کے گور و کفن میں نہیں رہنے دیتا چاہے وہ کوئی سیاستدان یا سرکاری بینکوں کا قرضہ خور ہی کیوں نہ ہو، یہ تینوں کاروبار اتنے کامیاب ثابت ہوئے کہ تینوں بھائیوں کے وارے نیارے ہو گئے۔
بہت ساری جائیداد بن گئی اور بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر گئے۔ خود ڈاکٹر امرود نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ایم بی بی ایس کروایا اور جو قصہ ہم سنانے جا رہے ہیں اس کا تعلق اسی ایم بی بی ایس سے ہے کیونکہ آج کل تقریباً سارے قصے یا تو ''ایم'' سے شروع ہوتے ہیں یا بی بی سے اور یا ایس سے یعنی سسٹر اور بی بی اور سنز ۔۔۔۔ بیٹے کے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹر امرود کو وہی سُوجھا جو اکثر آسانی سے کمانے والوں کو سوجھتا ہے۔
حج پر جانے سے پہلے اس نے اپنی دکان اور اپنے مریض بیٹے کے سپرد کیے، واپس آنے کے بعد جب نمائش اور دکھاؤں سے فرصت ملی تو بیٹے نے حالات سناتے ہوئے کہا ابا وہ جو آپ کا دمے والا مریض تھا اسے میں نے علاج کر کے ٹھیک کر دیا اور جو دل کا مریض تھا جس کا آپ بیس سال سے علاج کر رہے تھے وہ بھی بھلا چنگا ہو گیا اور وہ گردے ۔۔۔۔۔ لیکن آگے بات مکمل نہیں کر سکا کیوں کہ اس کا باپ اپنا سر پیٹنے لگا تھا اور بولے جا رہا تھا کم بخت تم نے تو میری ساری دودھیل گائیں ذبح کر ڈالیں۔ ان ہی مریضوں کی برکت سے تو میں نے تجھے پڑھا کر ڈاکٹر بنایا ہے، گھر تعمیر کیا ہے، جائیدادیں بنائی ہیں
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
تف ہے ایسی ڈاکٹری پر جو مریضوں کا قلع قمع کرے، ہائے میں نے کتنی محنت سے اپنے مریضوں اور ان کے امراض کو پالا پوسا تھا یہ بات تو یہیں پر ختم ہو گئی یا یوں کہیے کہ یہیں سے اصل بات شروع ہو گئی کیونکہ ''اٹ از ناٹ دی اینڈ آف اسٹوری'' بلکہ دس از دی بریکنگ آف پراپر اسٹوری ۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ نے دیکھا ۔۔۔ کہ ہم نے اس میں کہیں بھی بنی گالہ اور کے پی کے کا ذکر نہیں کیا ہے نہ ہی جناب کپتان خان اور اپنے صوبے کے وزیر اعلیٰ کا ذکر کیا ہے لیکن یہ لوگ، یہ بتنگڑ بنانے والے لوگ، یہ منفی تنقیدیے اس کہانی کو کھینچ کھانچ کر وہاں وہاں لے گئے جہاں ہمارا تصور تک جانے سے ڈرتا ہے، دراصل ہم یہ کیس اپنے پڑھنے والوں کے سامنے ''ثالثی'' کے لیے پیش کر رہے ہیں کہ وہ انصاف سے کام لیتے ہوئے بتائیں کہ ہم نے اس کہانی میں کہیں بھی کسی بھی شکل میں تحریک انصاف یا اس کے کرتا دھرتاؤں اور ان کے مقامات عالیہ کا ذکر کیا ہے؟
لیکن لوگ یہ بتنگڑ بنا رہے ہیں کہ ہم نے ڈاکٹر امرود کے پردے اور اس کے بیٹے کے پردے میں کے پی کے اور بنی گالہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کرشن نے کہا ارجن سے ۔۔۔۔ نا پیار بڑھا دشمن سے ۔۔۔ یدھ کر یدھ کر ۔۔۔ یعنی کرشن نے ارجن سے کہا کہ اگر تم یوں کرپشن ختم کر دو گے اور صوبے میں یہاں وہاں تک خیر ہی خیر ہو جائے گی تو ہم اپنی سیاست کی بھینس کو کس کھونٹے سے باندھیں گے۔ یہ کرپشن ہی تو ہے جس کی برکت سے یہ وارے نیارے ہیں اور انصاف کا کارخانہ چل رہا ہے، اگر کرپشن ختم ہو گئی تو باقی کے پاکستان میں ''انصاف'' کو کون فنانس کرے گا اب آپ ہی بتایئے کہ ہم نے ایسا کچھ کہا ہے۔
جس سے یہ مطلب نکالا جائے ہم نے تو ڈاکٹر امرود کا ذکر کیا ہے جو اسپتال کے گیٹ پر امرود بیچتا تھا اور یہیں سے اسے کلینک ڈالنے کا آئیڈیا سوجھا، اس کے بیٹے کا ذکر کیا ہے جس نے دودھ دینے والی گائیں ذبح کر ڈالیں، ایک واقعہ یاد آیا جس طرح آج ہم آپ سے انصاف طلب کر رہے ہیں اسی طرح ایوب خان کے زمانے میں بنوں کے ایک ایم پی اے یا ایم این اے نے بھی جلسہ عام میں طلب کیا تھا، بنوں کے ایک پارک میں جلسہ عام منعقد کر کے اس ایم پی اے نے کمال کا انصاف طلب کیا تھا اس زمانے میں ایوب خان کے بنیادی جمہوریت کا انتخاب ہوا تھا جس میں صرف یونین کونسل کے ممبر ووٹ دے سکتے تھے۔
اس جلسے میں بھی وہی لوگ تھے اس ایم پی اے نے کہا، لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ووٹ خریدے ہیں اور ممبروں کو پیسے دیے ہیں آپ خود ہی بتایئے کہ میں نے آپ کو پیسے دیے، قسم سے کہیے آپ نے مجھ پر ووٹ بیچا ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی ''ہاں'' کیسے کہہ سکتا تھا سو ہم نے آج عوام کے اس جلسہ عام میں پوچھتے ہیں کہ ہم نے ایسا کچھ کہا ہے جس میں کے پی کے یا بنی گالہ کی طرف اشارہ ہو یا جناب کپتان خان یا محترم وزیر اعلیٰ کا کنائیہ ہو۔ ایسا کچھ بھی نہیں۔ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، کے پی پی اور بنی گالہ کی طرف ہم نے بالکل بھی اشارہ نہیں کیا ہے۔
ہم نے ایک اینٹ پہ تعمیر کیا تاج محل
تم نے اک بات کہی لاکھ فسانے نکلے
بات صرف ڈاکٹر امرود کے حج پر جانے کی تھی لیکن پھیلتے پھیلتے بنی گالہ تک جا پہنچی حالانکہ ہم نے بنی گالہ کا نام تک نہیں لیا تھا اشارہ تک نہیں کیا تھا کیونکہ اشارے کرنا ''شریف'' لوگوں کا کام ہی نہیں ہے اور ہم اگر شریف نہیں بھی ہیں تو شریفوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھا تو رہا ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے کوئی بات ہی نہیں کی تھی صرف ڈاکٹر امرود کے حج پر جانے اور ''بخیریت'' لوٹ آنے کی کہانی سنائی۔
''بخیریت'' اس لیے کہ بلاد عرب سے کوئی ایسی ویسی خبر بالکل نہیں آئی تھی حالانکہ ڈاکٹر امرود جہاں بھی جاتے ہیں داستان چھوڑ آتے ہیں، ڈاکٹر امرود کو آپ بھولے تو نہیں ہوں گے، اس کالم میں اکثر اس کا ''ذکر بے خیر'' ہوتا رہا ہے لیکن عرصے سے اس کے بارے میں کچھ لکھا نہیں ہے اس لیے تھوڑا سا تعارف نئے پڑھنے والوں کے لیے ہو جائے تو کیا برا ہے، ڈاکٹر امرود پہلے ڈاکٹر نہیں تھا پشاور کے ایک اسپتال کے گیٹ کے سامنے امرود بیچا کرتا تھا جو اکثر ''ٹو ان ون'' ہوتے تھے یعنی پھل کا پھل اور گوشت کا گوشت، اور گوشت جسے ڈاکٹر امرود موٹے گوشت اور چھوٹے گوشت سے الگ کرنے کے لیے ''باریک'' گوشت یا بغیر ہڈی کا گوشت کہتا ہے جو امرود کے اندر خودبخود پیدا ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر امرود کبھی کبھی ایسے امرود کو قیمے بھرا سموسہ یا سینڈوچ بھی کہتا ہے، امرود بیچتے ہوئے جب میں نے دیکھا کہ لوگ اسپتال اپنے پیروں سے چل کر آتے ہیں اور دو چار دن بعد بارہ پیروں (آٹھ آدمیوں کے اور چار، چارپائی کے) پر واپس جاتے ہیں تو میں نے سوچا کہ اس کام کے لیے اتنی بڑی بلڈنگ بے شمار ڈاکٹرز اور اتنے تام جھام کی ضرورت ہی کیا ہے یہ کام تو میں اکیلے بھی کر سکتا ہوں، چنانچہ اس نے اپنے گاؤں میں دکان کھولی جسے لوگ تو دکان کہتے ہیں لیکن ڈاکٹر امرود کلینک بتاتا ہے، دو پیروں پر چل کر آنے والوں کو بارہ پیروں پر واپس بھجوانے کا کام خوب چل نکلا، اپنے ایک بھائی کو اس نے بغل میں پھلوں کی دکان ڈلوا دی جس کا مین آئٹم باریک گوشت کے سموسے یعنی امرود تھے جو ڈاکٹر صاحب ہر مریض کو بلکہ اس کے لواحقین کو تجویز کرتے تھے۔
دوسری طرف دوسرے بھائی کے لیے تجہیز و تکفین کے سامان کی دکان کچھ عرصے بعد ڈلوا دی گئی جس پر جلی حروف میں لکھا تھا ''آج'' ادھار کل نقد ۔۔۔ اس کے اور اس کے بھائی کا نظریہ تھا کہ دنیا میں یہی ایک ایسا دھندہ ہے جس میں قرض خور اور ڈیفالٹر نہیں ہوتے کیوں کہ کوئی اپنے بزرگوں کو قرض کے گور و کفن میں نہیں رہنے دیتا چاہے وہ کوئی سیاستدان یا سرکاری بینکوں کا قرضہ خور ہی کیوں نہ ہو، یہ تینوں کاروبار اتنے کامیاب ثابت ہوئے کہ تینوں بھائیوں کے وارے نیارے ہو گئے۔
بہت ساری جائیداد بن گئی اور بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر گئے۔ خود ڈاکٹر امرود نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ایم بی بی ایس کروایا اور جو قصہ ہم سنانے جا رہے ہیں اس کا تعلق اسی ایم بی بی ایس سے ہے کیونکہ آج کل تقریباً سارے قصے یا تو ''ایم'' سے شروع ہوتے ہیں یا بی بی سے اور یا ایس سے یعنی سسٹر اور بی بی اور سنز ۔۔۔۔ بیٹے کے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹر امرود کو وہی سُوجھا جو اکثر آسانی سے کمانے والوں کو سوجھتا ہے۔
حج پر جانے سے پہلے اس نے اپنی دکان اور اپنے مریض بیٹے کے سپرد کیے، واپس آنے کے بعد جب نمائش اور دکھاؤں سے فرصت ملی تو بیٹے نے حالات سناتے ہوئے کہا ابا وہ جو آپ کا دمے والا مریض تھا اسے میں نے علاج کر کے ٹھیک کر دیا اور جو دل کا مریض تھا جس کا آپ بیس سال سے علاج کر رہے تھے وہ بھی بھلا چنگا ہو گیا اور وہ گردے ۔۔۔۔۔ لیکن آگے بات مکمل نہیں کر سکا کیوں کہ اس کا باپ اپنا سر پیٹنے لگا تھا اور بولے جا رہا تھا کم بخت تم نے تو میری ساری دودھیل گائیں ذبح کر ڈالیں۔ ان ہی مریضوں کی برکت سے تو میں نے تجھے پڑھا کر ڈاکٹر بنایا ہے، گھر تعمیر کیا ہے، جائیدادیں بنائی ہیں
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
تف ہے ایسی ڈاکٹری پر جو مریضوں کا قلع قمع کرے، ہائے میں نے کتنی محنت سے اپنے مریضوں اور ان کے امراض کو پالا پوسا تھا یہ بات تو یہیں پر ختم ہو گئی یا یوں کہیے کہ یہیں سے اصل بات شروع ہو گئی کیونکہ ''اٹ از ناٹ دی اینڈ آف اسٹوری'' بلکہ دس از دی بریکنگ آف پراپر اسٹوری ۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ نے دیکھا ۔۔۔ کہ ہم نے اس میں کہیں بھی بنی گالہ اور کے پی کے کا ذکر نہیں کیا ہے نہ ہی جناب کپتان خان اور اپنے صوبے کے وزیر اعلیٰ کا ذکر کیا ہے لیکن یہ لوگ، یہ بتنگڑ بنانے والے لوگ، یہ منفی تنقیدیے اس کہانی کو کھینچ کھانچ کر وہاں وہاں لے گئے جہاں ہمارا تصور تک جانے سے ڈرتا ہے، دراصل ہم یہ کیس اپنے پڑھنے والوں کے سامنے ''ثالثی'' کے لیے پیش کر رہے ہیں کہ وہ انصاف سے کام لیتے ہوئے بتائیں کہ ہم نے اس کہانی میں کہیں بھی کسی بھی شکل میں تحریک انصاف یا اس کے کرتا دھرتاؤں اور ان کے مقامات عالیہ کا ذکر کیا ہے؟
لیکن لوگ یہ بتنگڑ بنا رہے ہیں کہ ہم نے ڈاکٹر امرود کے پردے اور اس کے بیٹے کے پردے میں کے پی کے اور بنی گالہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کرشن نے کہا ارجن سے ۔۔۔۔ نا پیار بڑھا دشمن سے ۔۔۔ یدھ کر یدھ کر ۔۔۔ یعنی کرشن نے ارجن سے کہا کہ اگر تم یوں کرپشن ختم کر دو گے اور صوبے میں یہاں وہاں تک خیر ہی خیر ہو جائے گی تو ہم اپنی سیاست کی بھینس کو کس کھونٹے سے باندھیں گے۔ یہ کرپشن ہی تو ہے جس کی برکت سے یہ وارے نیارے ہیں اور انصاف کا کارخانہ چل رہا ہے، اگر کرپشن ختم ہو گئی تو باقی کے پاکستان میں ''انصاف'' کو کون فنانس کرے گا اب آپ ہی بتایئے کہ ہم نے ایسا کچھ کہا ہے۔
جس سے یہ مطلب نکالا جائے ہم نے تو ڈاکٹر امرود کا ذکر کیا ہے جو اسپتال کے گیٹ پر امرود بیچتا تھا اور یہیں سے اسے کلینک ڈالنے کا آئیڈیا سوجھا، اس کے بیٹے کا ذکر کیا ہے جس نے دودھ دینے والی گائیں ذبح کر ڈالیں، ایک واقعہ یاد آیا جس طرح آج ہم آپ سے انصاف طلب کر رہے ہیں اسی طرح ایوب خان کے زمانے میں بنوں کے ایک ایم پی اے یا ایم این اے نے بھی جلسہ عام میں طلب کیا تھا، بنوں کے ایک پارک میں جلسہ عام منعقد کر کے اس ایم پی اے نے کمال کا انصاف طلب کیا تھا اس زمانے میں ایوب خان کے بنیادی جمہوریت کا انتخاب ہوا تھا جس میں صرف یونین کونسل کے ممبر ووٹ دے سکتے تھے۔
اس جلسے میں بھی وہی لوگ تھے اس ایم پی اے نے کہا، لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ووٹ خریدے ہیں اور ممبروں کو پیسے دیے ہیں آپ خود ہی بتایئے کہ میں نے آپ کو پیسے دیے، قسم سے کہیے آپ نے مجھ پر ووٹ بیچا ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی ''ہاں'' کیسے کہہ سکتا تھا سو ہم نے آج عوام کے اس جلسہ عام میں پوچھتے ہیں کہ ہم نے ایسا کچھ کہا ہے جس میں کے پی کے یا بنی گالہ کی طرف اشارہ ہو یا جناب کپتان خان یا محترم وزیر اعلیٰ کا کنائیہ ہو۔ ایسا کچھ بھی نہیں۔ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، کے پی پی اور بنی گالہ کی طرف ہم نے بالکل بھی اشارہ نہیں کیا ہے۔