شام میں عالم گیر فوجی کارروائی کا آغاز

دہشت گردی کی داعش کے نام سےمنظرعام پرآنیوالی خطرناک تنظیم کےخلاف بین الاقوامی سطح پرکارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے

اگر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا سلسلہ نہ رکا تو دنیا ایک بڑی جنگ کا شکار ہو سکتی ہے اور ایسی جنگ کا اشارہ پوپ بھی دے چکے ہیں. فوٹو: فائل

PESHAWAR:
دہشت گردی کی داعش کے نام سے منظر عام پر آنیوالی خطرناک تنظیم کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور برطانیہ کے بعد جرمنی کی پارلیمنٹ نے بھی شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی منظوری دیدی ہے۔ شام میں داعش کے خلاف کارروائی کرنے والے امریکی اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے سے متعلق جرمنی کے ایوان میں قرارداد پیش کی گئی جس کے حق میں 445 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ 146 ارکان نے شام میں فوج بھیجنے کی مخالفت کی۔

جن جرمن اراکین پارلیمنٹ نے فوج بھجوانے کی مخالفت کی ان کے نقطہ نظر کا تو سرکاری پریس ریلیز میں کوئی تذکرہ نہیں البتہ حمایت میں زیادہ ووٹ ملنے کے بعد جرمنی نے شام میں 1200 سے زائد فوجی اور جیٹ طیارے بھیجنے کا اعلان کر دیا گیا ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا یہ علاقہ عالمی میدان جنگ میں تبدیل ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی کے لیے فرانس نے جرمنی سے مدد طلب کی تھی۔

شام میں داعش کے خلاف امریکا، فرانس اور برطانیہ پر مشتمل اتحاد میں جرمنی کی شمولیت کے بعد جرمنی وہ ملک ہو گا جو شام کی مہم میں سب سے زیادہ فوجی فراہم کرے گا۔ جب کہ داعش کے خلاف کارروائی میں جرمن ٹورنیڈو جیٹ طیارے بھی حصہ لیں گے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون شام میں جلد فائر بندی کے حوالے سے پر امید ہیں جنھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوری میں شام کے ایک بڑے حصے میں خانہ جنگی کے رکنے کا قوی امکان ہے۔ اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکی کہ ایک ہزار سے زائد جرمن فوجیوں کے شام میں داخل ہونے کے بعد لڑائی میں اضافہ ہو گا کہ فائر بندی کی راہ ہموار ہو گی جیسا کہ یو این سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے۔


ادھر سعودی عرب میں شامی اپوزیشن کے رہنماؤں کا اجلاس اگلے ہفتے ہو رہا ہے۔ اس دوران حزب اختلاف کے تمام شامی دھڑے ایک مشترکہ پالیسی پر اتفاق رائے کرتے ہوئے صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کریں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی شامی حکومت اور باغی داعش کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر براک اوباما نے واضح کیا ہے کہ عراق پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے، عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے خصوصی فورسز کے مزید دستے بھیجنے کا فیصلہ 2003ء کی طرح امریکا کی اس ملک پر چڑھائی کا اشارہ نہیں ہے۔ جب کہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کی تعینات کی مخالفت کر دی ہے۔

ادھر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک نائٹ کلب پر ہونیوالے پٹرول بم حملے میں 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔داعش کے خطرے نے دنیا میں نئی صف بندی کر دی ہے۔ امریکا اور مغربی یورپ شام میں کارروائی کریں گے جب کہ روس اور ایران بھی داعش کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ ترکی بھی یورپی اتحاد میں شام ہے لیکن عملاً داعش کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ قاہرہ کے ہوٹل میں حملہ ہوا، اس سے پہلے مالی میں ہوٹل پر حملہ ہوا لیکن دو روز قبل امریکا میں دہشت گردی کی ایک واردات ہوئی۔ یوں دیکھا جائے تو دنیا ایک نئی طرز کی جنگ میں داخل ہو رہی ہے۔

اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان کا ہو رہا ہے۔ شام و عراق کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ شام اور عراق کا خطہ عالمی چپقلش کا اکھاڑا بنا ہوا ہے۔ اس لڑائی کا خمیازہ عام شامی اور عراقی بھگت رہا ہے۔ یہاں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں جب کہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو کر دیگر ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔عالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ اگر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا سلسلہ نہ رکا تو دنیا ایک بڑی جنگ کا شکار ہو سکتی ہے اور ایسی جنگ کا اشارہ پوپ بھی دے چکے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تیسری عالمی جنگ سے بچا جائے۔
Load Next Story