چیف جسٹس کا کراچی میں کانفرنس سے خطاب
ریاست کا کام مختلف طبقات کے درمیان معاشی ہم آہنگی پیدا کرنا اور پھر اسے برقرار رکھنا ہے
معاشرے کے مختلف طبقات کے ریاستی مفادات میں ہم آہنگی ہو گی تو معاشرہ میں ٹھہراؤ اور استحکام ہو گا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی گزشتہ کچھ عرصے سے مملکت خداداد کے نظام میں راہ پا جانے والی خرابیوں اور خامیوں کی مسلسل نشاندہی کرتے ہوئے ذمے دار اصحاب کی اس طرف توجہ منعطف کرا رہے ہیں اور اصلاح احوال پر زور دیتے ہوئے نہایت درد مندی سے بہت صائب مشورے بھی دے رہے ہیں۔
اپنے تازہ بیان میں جو انھوں نے گزشتہ شب کراچی کے ایک ہوٹل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے تحت منعقدہ قانون کی تعلیم سے متعلق تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ جناب چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں جن بلند و بالا عزائم اور توقعات پر پورا اترنے کے لیے شعبہ قانون سے وابستہ افراد پر بھاری اور کٹھن ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ذاتی اور پیشہ ورانا طور پر نہایت اکلی اقدار، دیانت، کردار اور اہلیت کا مظاہرہ کریں۔ جناب چیف جسٹس کی اس بات کا وزن ہر وہ شخص محسوس کر سکتا ہے جس کو کبھی تھانہ کچہری سے واسطہ پڑا ہو۔ ویسے تو دیگر شعبوں میں بھی کوئی قابل رشک صورتحال نہیں ہے بلکہ آوے کا آوا ہی بگڑا نظر آتا ہے اور اصلاح احوال کا سوچنے والے کو فارسی کا وہ پرانا شعر یاد آنے لگتا ہے کہ :
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا دہم
یعنی جسم پر اتنے زیادہ زخم اور گھاؤ ہیں کہ اب پھاہا کہاں کہاں رکھا جائے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ زخمی کا علاج ہی نہ کیا جائے بلکہ ایسی صورتحال میں تو علاج پر فوری اور ہنگامی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی بات پر عزت مآب چیف جسٹس کا زور ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ پاکستانی معاشرہ بنیاد ی طور پر ایک مذہبی روایات پر چلنے والا معاشرہ ہے جہاں مذہبی اقدار و احکامات کی پیروی کی جاتی ہے، دستور پاکستان بھی آزادی، مساوات، تحمل، معاشرتی انصاف اور اسلامی عقائد کی روشنی میں ممکن ہے، ظلم و جبر پر قائم ریاست اور معاشرے اپنی ساخت میں غیر مستحکم اور ناپائیدار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جناب چیف جسٹس نے پاکستان میں نظام انصاف کا بے لاگ تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام اسلامی، انگریزی قوانین کا مجموعہ ہے جس میں آمریت کا رنگ بھی شامل ہے گویا یہ ایک اعتبار سے چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کو قابل اعتماد انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
شعبہ قانون سے وابستہ افراد پر بھاری اور کٹھن ذمے داری کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا انھیں ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر نہایت اعلیٰ اقدار و کردار مظاہرہ کرنے کی تلقین کی لیکن ساتھ ہی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ یہاں قانون کی تعلیم قدیم اور فرسودہ اصول و ضوابط پر استوار ہے، اسلامی، انگریزی قوانین کے ساتھ ساتھ آمرانہ رنگ آمیزی کے باعث یہ مختلف عقائد و تصورات کا مجموعہ ہے، یہ قانون پڑھانے والوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں طلبا کو اچھی طرح آگاہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہم جوڈیشل تعلیم کے معیار میں اضافے کے لیے جن تجاویز پر غور کر رہے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان میں قومی جوڈیشل تعلیمی پالیسی ترتیب دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سول سروس میں بھی اصلاحات کی جائیں تا کہ ترقیوں اور کارکردگی کے تجزیئے میں سنیارٹی کے بجائے مہارتوں اور صلاحیتوں کو فوقیت دی جائے، کیونکہ سنیارٹی کی اہلیت پر فوقیت ایک منفی رویے کو جنم دیتی ہے، جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے، بہتری کے لیے باہر سے بھاری معاوضوں پر ماہرین کو بلانے کے بجائے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل مقامی افراد کو موقع دینا چاہیے۔
جناب چیف جسٹس نے یہاں ایک اور کلیدی نقطے کو اجاگر کیا ہے کہ غیر ملکی ماہرین کو بہت بھاری مراعات پر بلوانے کے بجائے پاکستانی ماہرین کو عزت و احترام کے ساتھ قومی خدمت کا موقع دیا جائے تو وہ کہیں زیادہ بہتر نتائج برآمد کرا سکتے ہیں، قومی خزانے کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔ جناب چیف جسٹس نے کہا '' میری رائے میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پیشہ ورانہ ترقیوں کے لیے مسلسل تحصیل علم کی شرط لاگو کر دی جائے، تا کہ ہم نئے علوم اور مہارتوں کے حصول کو یقینی بنا سکیں'' انھوں نے کہا کہ آئین عدلیہ کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
جناب چیف جسٹس کی یہ بات حکومت کے بطور خاص غور کرنے کی ہے کہ ''ریاست کا اصل کام عدل قائم کرنا ہے''۔ اگر ریاست اپنے اس بنیادی کام پر پوری توجہ دینے لگے تو ملک و قوم کے تمام آلام و مصائب از خود ہی معدوم ہونے لگیں گے۔ انھوں نے پیشہ ورانہ ترقی کے لیے حصول علم کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اگر ریاستی ادارے خصوصاً انتظامیہ اور مقننہ عوامی فلاح کے پہلو کو سامنے رکھ کر کام کریں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ریاست کا کام مختلف طبقات کے درمیان معاشی ہم آہنگی پیدا کرنا اور پھر اسے برقرار رکھنا ہے۔
اجتماعی عدل اسے ہی کہا جاتا ہے۔معاشرے کے مختلف طبقات کے ریاستی مفادات میں ہم آہنگی ہو گی تو معاشرہ میں ٹھہراؤ اور استحکام ہو گا، طبقاتی رسہ کشی ختم ہو گی جس کے نتیجے میں جرائم اور مالی کرپشن میں کمی ہو گی۔ اگر ریاست طبقاتی کشمکش کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر عدالتوں پر بوجھ خودبخود کم ہو جائے گا۔ عزت مآب چیف جسٹس کی باتوں پر ریاستی اداروں خصوصاً مقننہ اور انتظامیہ کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور اس کے ساتھ قانون دان طبقے کو بھی اپنا رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔
عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی گزشتہ کچھ عرصے سے مملکت خداداد کے نظام میں راہ پا جانے والی خرابیوں اور خامیوں کی مسلسل نشاندہی کرتے ہوئے ذمے دار اصحاب کی اس طرف توجہ منعطف کرا رہے ہیں اور اصلاح احوال پر زور دیتے ہوئے نہایت درد مندی سے بہت صائب مشورے بھی دے رہے ہیں۔
اپنے تازہ بیان میں جو انھوں نے گزشتہ شب کراچی کے ایک ہوٹل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے تحت منعقدہ قانون کی تعلیم سے متعلق تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ جناب چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں جن بلند و بالا عزائم اور توقعات پر پورا اترنے کے لیے شعبہ قانون سے وابستہ افراد پر بھاری اور کٹھن ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ذاتی اور پیشہ ورانا طور پر نہایت اکلی اقدار، دیانت، کردار اور اہلیت کا مظاہرہ کریں۔ جناب چیف جسٹس کی اس بات کا وزن ہر وہ شخص محسوس کر سکتا ہے جس کو کبھی تھانہ کچہری سے واسطہ پڑا ہو۔ ویسے تو دیگر شعبوں میں بھی کوئی قابل رشک صورتحال نہیں ہے بلکہ آوے کا آوا ہی بگڑا نظر آتا ہے اور اصلاح احوال کا سوچنے والے کو فارسی کا وہ پرانا شعر یاد آنے لگتا ہے کہ :
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا دہم
یعنی جسم پر اتنے زیادہ زخم اور گھاؤ ہیں کہ اب پھاہا کہاں کہاں رکھا جائے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ زخمی کا علاج ہی نہ کیا جائے بلکہ ایسی صورتحال میں تو علاج پر فوری اور ہنگامی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی بات پر عزت مآب چیف جسٹس کا زور ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ پاکستانی معاشرہ بنیاد ی طور پر ایک مذہبی روایات پر چلنے والا معاشرہ ہے جہاں مذہبی اقدار و احکامات کی پیروی کی جاتی ہے، دستور پاکستان بھی آزادی، مساوات، تحمل، معاشرتی انصاف اور اسلامی عقائد کی روشنی میں ممکن ہے، ظلم و جبر پر قائم ریاست اور معاشرے اپنی ساخت میں غیر مستحکم اور ناپائیدار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جناب چیف جسٹس نے پاکستان میں نظام انصاف کا بے لاگ تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام اسلامی، انگریزی قوانین کا مجموعہ ہے جس میں آمریت کا رنگ بھی شامل ہے گویا یہ ایک اعتبار سے چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کو قابل اعتماد انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
شعبہ قانون سے وابستہ افراد پر بھاری اور کٹھن ذمے داری کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا انھیں ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر نہایت اعلیٰ اقدار و کردار مظاہرہ کرنے کی تلقین کی لیکن ساتھ ہی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ یہاں قانون کی تعلیم قدیم اور فرسودہ اصول و ضوابط پر استوار ہے، اسلامی، انگریزی قوانین کے ساتھ ساتھ آمرانہ رنگ آمیزی کے باعث یہ مختلف عقائد و تصورات کا مجموعہ ہے، یہ قانون پڑھانے والوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں طلبا کو اچھی طرح آگاہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہم جوڈیشل تعلیم کے معیار میں اضافے کے لیے جن تجاویز پر غور کر رہے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان میں قومی جوڈیشل تعلیمی پالیسی ترتیب دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سول سروس میں بھی اصلاحات کی جائیں تا کہ ترقیوں اور کارکردگی کے تجزیئے میں سنیارٹی کے بجائے مہارتوں اور صلاحیتوں کو فوقیت دی جائے، کیونکہ سنیارٹی کی اہلیت پر فوقیت ایک منفی رویے کو جنم دیتی ہے، جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے، بہتری کے لیے باہر سے بھاری معاوضوں پر ماہرین کو بلانے کے بجائے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل مقامی افراد کو موقع دینا چاہیے۔
جناب چیف جسٹس نے یہاں ایک اور کلیدی نقطے کو اجاگر کیا ہے کہ غیر ملکی ماہرین کو بہت بھاری مراعات پر بلوانے کے بجائے پاکستانی ماہرین کو عزت و احترام کے ساتھ قومی خدمت کا موقع دیا جائے تو وہ کہیں زیادہ بہتر نتائج برآمد کرا سکتے ہیں، قومی خزانے کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔ جناب چیف جسٹس نے کہا '' میری رائے میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پیشہ ورانہ ترقیوں کے لیے مسلسل تحصیل علم کی شرط لاگو کر دی جائے، تا کہ ہم نئے علوم اور مہارتوں کے حصول کو یقینی بنا سکیں'' انھوں نے کہا کہ آئین عدلیہ کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
جناب چیف جسٹس کی یہ بات حکومت کے بطور خاص غور کرنے کی ہے کہ ''ریاست کا اصل کام عدل قائم کرنا ہے''۔ اگر ریاست اپنے اس بنیادی کام پر پوری توجہ دینے لگے تو ملک و قوم کے تمام آلام و مصائب از خود ہی معدوم ہونے لگیں گے۔ انھوں نے پیشہ ورانہ ترقی کے لیے حصول علم کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اگر ریاستی ادارے خصوصاً انتظامیہ اور مقننہ عوامی فلاح کے پہلو کو سامنے رکھ کر کام کریں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ریاست کا کام مختلف طبقات کے درمیان معاشی ہم آہنگی پیدا کرنا اور پھر اسے برقرار رکھنا ہے۔
اجتماعی عدل اسے ہی کہا جاتا ہے۔معاشرے کے مختلف طبقات کے ریاستی مفادات میں ہم آہنگی ہو گی تو معاشرہ میں ٹھہراؤ اور استحکام ہو گا، طبقاتی رسہ کشی ختم ہو گی جس کے نتیجے میں جرائم اور مالی کرپشن میں کمی ہو گی۔ اگر ریاست طبقاتی کشمکش کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر عدالتوں پر بوجھ خودبخود کم ہو جائے گا۔ عزت مآب چیف جسٹس کی باتوں پر ریاستی اداروں خصوصاً مقننہ اور انتظامیہ کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور اس کے ساتھ قانون دان طبقے کو بھی اپنا رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔