تنخواہ سے محروم ملازمین نے حیدرآباد کا پانی بند کردیا
بچوںکے ہمراہ فلٹر پلانٹ پر مظاہرہ، افسران کیخلاف نعرے، ایک ماہ کی ادائیگی پر احتجاج ختم
تنخواہ نہ ملنے پر بلدیہ سٹی کے نئے ملازمین مشتعل، بینک میں توڑ پھوڑ، عملے کو دھمکیاں۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس
واسا حیدرآباد کے ملازمین نے6 ماہ کی تنخواہیں نہ ملنے پر جمعرات کی صبح شہر کو پانی کی فراہمی بند کر دی۔
ملازمین نے اپنے بچوں کے ہمراہ احتجاج بھی کیا۔حیدرآباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹر یٹر و چیف آفیسر سید برکات احمد رضوی اور ایم ڈی واسا نے ملاز مین سے ملاقات کر کے انہیں ایک ماہ کی تنخواہ فوری طور پر دینے جبکہ 2 ماہ کی تنخواہیں عید بعد پہلے ورکنگ ڈے میں دینے کا وعدہ کر لیا جس کیلیے رقم حکومت سندھ نے بطور امداد فراہم کر دی ہے تاہم بینک ٹائمنگ کے باعث پیسے تاخیر سے ملے، ملازمین نے مذاکرات کے بعد چوتھی بار احتجاج موخر کر دیا۔ قبل ازیں واسا ملازمین نے جمعرات کی صبح ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہوں کی ادائیگی تک احتجاجاً پانی کی فراہمی بند رکھنے کا اعلان کر دیا، انھوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ نیو فلٹر پلانٹ جامشورو روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور افسران کے خلاف نعرے لگائے۔ دوسری جانب وعدے کے مطابق ٹی ایم اے سٹی ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ ادا نہیں کی جا سکی۔
صرف اگست کی تنخواہ دی گئی جس کی وجہ حکومت سندھ کی امدادی رقم کی بینک میں دیر سے آمد بتائی جا رہی ہے۔ تنخواہ ملنے کی آس لیے نئے و پرانے ملازمین اور پینشنرز سارا دن ٹی ایم اے سٹی کی عمارت میں واقع بینک کے سامنے موجود رہے جبکہ بلدیاتی افسران اپنے دفاتر سے غائب تھے۔ 5 بجے کے قریب تنخواہ سے محروم نئے ملازمین نے بلدیاتی افسران کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے اور بینک میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، بینک ملازمین نے کیش کائونٹر بند کر کے اپنی جانیں بچائیں۔
اس موقع پر تنخواہوں سے محروم کئی ماہ سے ڈیوٹی نہ کرنے والے نئے ملازمین نے بینک ملازمین کو دھمکیاں بھی دیں ، بینک انتظامیہ نے صرف انہی لوگوں کو تنخواہ ادا کی جنہیں وہ ہنگامہ آرائی سے پہلے ٹوکن جاری کر چکی تھی۔ ایک اور مرحلے پر تنخواہوں سے محروم ڈیوٹی نہ کرنے والے نئے ملازمین نے ٹی ایم اے سٹی دفتر میں صفائی کے انتظامات کی جاری تیاریاں دیکھنے آنے والی ایک سیاسی شخصیت کے گھیرائو کی کوشش کی اور انہوں نے نازیبا الفاظ بھی ادا کیے لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔
ملازمین نے اپنے بچوں کے ہمراہ احتجاج بھی کیا۔حیدرآباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹر یٹر و چیف آفیسر سید برکات احمد رضوی اور ایم ڈی واسا نے ملاز مین سے ملاقات کر کے انہیں ایک ماہ کی تنخواہ فوری طور پر دینے جبکہ 2 ماہ کی تنخواہیں عید بعد پہلے ورکنگ ڈے میں دینے کا وعدہ کر لیا جس کیلیے رقم حکومت سندھ نے بطور امداد فراہم کر دی ہے تاہم بینک ٹائمنگ کے باعث پیسے تاخیر سے ملے، ملازمین نے مذاکرات کے بعد چوتھی بار احتجاج موخر کر دیا۔ قبل ازیں واسا ملازمین نے جمعرات کی صبح ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہوں کی ادائیگی تک احتجاجاً پانی کی فراہمی بند رکھنے کا اعلان کر دیا، انھوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ نیو فلٹر پلانٹ جامشورو روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور افسران کے خلاف نعرے لگائے۔ دوسری جانب وعدے کے مطابق ٹی ایم اے سٹی ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ ادا نہیں کی جا سکی۔
صرف اگست کی تنخواہ دی گئی جس کی وجہ حکومت سندھ کی امدادی رقم کی بینک میں دیر سے آمد بتائی جا رہی ہے۔ تنخواہ ملنے کی آس لیے نئے و پرانے ملازمین اور پینشنرز سارا دن ٹی ایم اے سٹی کی عمارت میں واقع بینک کے سامنے موجود رہے جبکہ بلدیاتی افسران اپنے دفاتر سے غائب تھے۔ 5 بجے کے قریب تنخواہ سے محروم نئے ملازمین نے بلدیاتی افسران کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے اور بینک میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، بینک ملازمین نے کیش کائونٹر بند کر کے اپنی جانیں بچائیں۔
اس موقع پر تنخواہوں سے محروم کئی ماہ سے ڈیوٹی نہ کرنے والے نئے ملازمین نے بینک ملازمین کو دھمکیاں بھی دیں ، بینک انتظامیہ نے صرف انہی لوگوں کو تنخواہ ادا کی جنہیں وہ ہنگامہ آرائی سے پہلے ٹوکن جاری کر چکی تھی۔ ایک اور مرحلے پر تنخواہوں سے محروم ڈیوٹی نہ کرنے والے نئے ملازمین نے ٹی ایم اے سٹی دفتر میں صفائی کے انتظامات کی جاری تیاریاں دیکھنے آنے والی ایک سیاسی شخصیت کے گھیرائو کی کوشش کی اور انہوں نے نازیبا الفاظ بھی ادا کیے لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔