کراچی آپریشن کا ہدف واضح ہوگیا

حکومت سندھ نے آپریشن کے لیے رینجرز کو پولیسنگ کے خصوصی اختیارات دیے ہیں اختیارات کی مدت5 دسمبر کو ختم ہوچکی ہے

جرائم پیشہ عناصر اور سیاسی و دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کا جنرل راحیل شریف کا عزم نو بھی سامنے آیا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن جامع ادارہ جاتی اور سیاسی اتفاق رائے کے نتیجے میں شروع کیا گیا جس کا مقصد کراچی میں امن، استحکام اور ترقی کو واپس لانا اور شہر کے لوگوں کو جرائم پیشہ افراد اور دہشتگرد مافیا کے شکنجے سے آزاد کرانا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مکمل حمایت سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کامیابیوں اور قربانیوں کو کسی بھی حالات میں ضایع نہیں ہونے دینگے، کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا، آپریشن کی کامیابی کا بڑا فائدہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ کو ہوگا۔ وہ پیرکو گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعظم کی کراچی آمد اور بلدیاتی انتخابات اور ان کے نتائج کے بعد کراچی آپریشن کے حوالے سے اہم فیصلوں کا اعلان در حقیقت اس بات کا اعلان تھا کہ سیاسی و عسکری قیادت آپریشن کے تسلسل کے مسئلے پر ایک پیج پر ہے ، رینجرز کی توسیع کوئی ناقابل حل مسئلہ نہیں، رینجرز بدستور اپنی آئینی و قانونی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

لہٰذا اجلاس کا حتمی مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہر قسم کے ابہام اندیشوں اور پھیلائی گئی افواہوں کا خاتمہ لازمی ہے،اور اس ضمن میں بتان وہم و گماں کے سارے ابھارے گئے واہمے اور من پسند تاثرات کا بھی ازالہ ہونا شرط اول ہے۔ خوش آیند پیش رفت یہ ہوئی کہ قومی حلقوں کو یہ مثبت پیغام بھی دیا گیا کہ ملکی سالمیت، جمہوری عمل کے ارتقا، معیشت کے استحکام عوام کی فلاح و بہبود کے اہم ترین اہداف کی تکمیل کے لیے کوششوں کا جاری رہنا اور بلدیاتی انتخابات کے پر امن انعقاد کے بعد کراچی آپریشن کے نتائج کا جائزہ لینا از حد ناگزیر تھا کیونکہ کراچی آپریشن کی سیاسی سمت پر متنوع اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں ، بعض تجزیہ کاروں اور سیاسی رہنماؤں کا انداز نظر یہ ہے کہ آپریشن کی سیاسی سمت کا از سر نو تعین ضروری ہے۔

نیز اس بے یقینی کو دور کرنا بھی ضروری ہے کہ رینجرز کو توسیع نہ دی گئی تو خدا نخواستہ سندھ میں مارشل لا یا گورنر راج سے ملتاجلتا کوئی سیٹ اپ لانے کا خطرہ دو چند ہوجائے گا، ادھر بلدیاتی انتخابات میں متحدہ کی ڈرامائی واپسی ایک نیا فیکٹر ہے ۔ عالمی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں بھی کراچی کے مستقبل کے سیناریو سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اسے دہشتگردوں کا نشیمن بھی نہیں بننا چاہیے ، آپریشن کی زد سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز اور کرپٹ افراد پر بھی پڑرہی ہے جو سیاسی لبادے اوڑھے ہوئے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر اور سیاسی و دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کا جنرل راحیل شریف کا عزم نو بھی سامنے آیا۔


اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف،وفاقی وزیردفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی ، کورکمانڈ کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران حکومت اور عسکری قیادت کا اس بات پر اتفاق مستحسن ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کور ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار،آئی ایس آئی کے ڈائریکٹرجنرل لیفٹینٹ جنرل رضوان اختر اور سندھ رینجرزکے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی میں امن وامان کے حوالے سے آرمی چیف کو بریفنگ دی۔آرمی چیف نے کہاکہ آپریشن کی وجہ سے شہر میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور بلدیاتی انتخابات کا پرامن انعقاد ممکن ہوا، اس پر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں جنرل راحیل شریف نے وفاقی اورصوبائی حکومتوں اور اداروں کے درمیان رابطے بڑھانے اور انھیں مزید مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی آپریشن کو 'ریورس' نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ آپریشن دہشتگردوں، ان کے ہمدردوں اور ان کے مالی معاونت کاروں کیخلاف ہے اور ان سب کے درمیان 'برائی کے گٹھ جوڑ'کو توڑدیا جائے گا۔ اجلاس کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان سے پیر کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں کراچی میں رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر مشاورت جاری ہے اور یہ تجویز زیر غور ہے کہ ان اختیارات میں توسیع کی سندھ اسمبلی سے توثیق کرائی جائے ، بہر حال یہ بات طے ہے کہ سندھ رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کی سمری حکومت سندھ کی منظوری کی منتظر ہے۔

حکومت سندھ نے آپریشن کے لیے رینجرز کو پولیسنگ کے خصوصی اختیارات دیے ہیں ، اختیارات کی مدت5 دسمبر کو ختم ہوچکی ہے۔ تاہم سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ رینجرز کی توسیع کا معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔ وقت آگیاہے کہ اسٹیبلشمنٹ، سندھ حکومت اور تمام سیاسی شراکت کار شکوے شکایات سے بالاتر رہتے ہوئے کراچی میں امن کے کاز کے لیے ایک ہوجائیں۔دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے۔
Load Next Story