سشما سوراج کی آمد اور زمینی حقائق

خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے حوالہ سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد خوش آیند ہے

خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی کیفیات کشمیر میں اٹھنے والی شورش اور حق خود اختیاری کے حصول کی جنگ، اورکشمیریوں کی پکار پر بھارت کو توجہ دینا ہوگی۔ فوٹو : ایکسپریس نیوز

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان میں اچھے تعلقات کا پیغام لائی ہوں تاکہ دونوں ملک آگے بڑھیں ۔ بھارتی وزیر خارجہ 'ہارٹ آف ایشیا کانفرنس' میں شرکت کے لیے منگل کو اسلام آباد پہنچیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سشما سوراج نے کانفرنس میں شرکت کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف اور مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال، پاک بھارت کرکٹ سیریز اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک بھارت تعلقات کی دیو مالائی کیفیت بھی عجیب طلسم ہوش ربا ہے، اگرچہ سشما سوراج کی آمد پہلا تجربہ نہیں، اور جو کسی قسم کے جامع مذاکرات کے انعقاد یا تعلقات کی بحالی کی برف کے پگھلنے سے مشروط بھی نہیں جیسا کہ بعض دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اس کانفرنس سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں تاہم سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے اسے مثبت قراردیا ہے، اس سے تناؤ اور بد اعتمادی کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے حوالہ سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد خوش آیند ہے،اس سے تین سالہ وہ دو طرفہ جمود ٹوٹے گا جب جامع مذاکرات کو بھارتی حکومت نے یک لخت منسوخ کردیا تھا۔ دو طرفہ بات چیت کے امکانات کی کھڑکی اب کھلی ہے، تو امن کی خاطر اسے ویلکم کہنا نامناسب نہیں۔ اصل میں جامع مذاکرات ہونے کی کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آئے گی تب ہی پاک بھارت تعلقات خطے کی حرکیات اور کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے دوطرفہ تصفیہ کا راستہ کھلے گا۔

نور خان ایئر بیس پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سشما سوراج نے کہا کہ وہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے خاص طور پر آئی ہیں کیونکہ یہ پاکستان میں ہو رہی ہے اور یہ افغانستان سے متعلق ہے، اس لیے بھارت کے لیے اس کی اہمیت ہے، ان ملاقاتوں میں پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے اور آگے بڑھنے پر بات ہو گی، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے حوالہ سے ان کا یہ فقرہ بھارتی اخبار ''ایشین ایج''نے نقل کیا ہے کہ '' اگر شریانیں بند ہوں تو ایشیا کا دل کام نہیں کریگا۔'' حالانکہ ایشیا کے اس دل کی سیاسی مسیحائی کے لیے پاکستان روز اول سے منتظر ہے کہ بھارتی قیادت عقل و منطق اور کشادہ نظری و وسیع القلبی سے کام لے۔ تاہم سشما سے کوئی گلہ نہیں ، ان کی طرف سے کانفرنس میں شرکت ایک تعمیری بہانہ ہے، امن کے لیے جو قدم نیک نیتی سے اٹھ جائیں اور اس کے راستے ایشیا کے دل سے گزریں تو اس کے اثرات بہتر ہی برآمد ہونگے۔ شاعر نے اسی موقع کی مناسبت سے کہا ہے کہ دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی،اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے۔

بات تب بنے گی جب پاک بھارت بات چیت غیر مشروط طور ہو اور دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ کو نتیجہ خیز بنائے ۔ورنہ چھ عشرے سے زائد عرصہ بیت گیا اور مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ بھارتی حکمران زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ تاریخی عوامل کو بھی پیش نظر رکھیں جب کہ خطے کے ڈان کی حیثیت سے نہیں بلکہ پاکستان سے معاملات کے پرامن تصفیہ کے لیے اس ٹھوس حقیقت کا ادراک کریں کہ سامنے ایک خود دار و باوقار ایٹمی ملک ہے جس کے خطے کے حوالہ سے موقف کو عالمی برادری نے پہلی بار سمجھا ہے ۔


سشما جی نے وزیراعظم نواز شریف اور مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز اور دیگر سینئر حکام سے گفتگو کے بعد کہا کہ افغانستان سے امن و سلامتی کے لیے مل کے کام کرنے کو تیار ہیں، نواز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ سشما کے مطابق پاک بھارت قیادت کو اب بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے تعلقات کو بہتر کر لینا چاہیے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ارباب اختیار کو بھارت سے ضرور یہ کہنا چاہیے کہ پاکستان نے خطے میں امن اور دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اپنی سی کوشش کی ، پاکستان کے ایک فوجی جنرل تو خطے کی تاریخ بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے آگرہ گئے ۔

سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے بقول ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، مگر وہی بھارتی سفارتی عیاری اور چانکیائی سیاست کاری تھی کہ مذاکرات کا سفینہ ساحل پر ڈبو دیا گیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جنرل صاحب اپنے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کا ایک انتہائی لچکدار فارمولاساتھ لے کر گئے تھے، مگر واجپائی کی طرف سے ناکام کی جانے والی بات چیت کے اختتام پر یہ بیان ریکارڈ پر آگیا کہ جنرل مشرف تاریخی شعور سے نابلد تھے ۔بہر کیف اب ماضی کو کریدنے کا وقت نہیں، اس لاحاصل جستجو سے بالاتر ہوکر پاک بھارت معاملات کے دوطرفہ تصفیہ کے لیے جامع مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

خطے کی صورتحال کو دہشت گردی ،عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو داعش سے خطرہ ہے، اس ضمن میں سشما نے پاکستان چین افغانستان اور دیگر ممالک کو بھارت آنے کی دعوت دی۔ بادی النظر میں سشما سوراج کا دورہ اعتماد سازی کی ایک اچھی کوشش تک محدود ہے کیونکہ پاک بھارت تعلقات کی گمبھیرتا کئی برسوں کی کشمکش، بھارت کی کہہ مکرنیوں ،اٹوٹ انگ کی رٹ اورکشمیر سمیت اہم مسائل پر ہمیشہ لیت و لعل کی شاطرانہ اور محض گفتارانہ محور پر محیط ہے۔

اس لیے سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین کی رائے ہے کہ زیادہ پرجوش ہونے کی ضرورت نہیں، مگر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہیے جو استنبول عمل کا حصہ ہے، اور افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے 2011 ء میں اس کی بنیاد ڈالی گئی، کانفرنس میں بھارت سمیت 14 ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں جب کہ 17 سپورٹنگ ملک اور 12 عالمی تنظیموں کے مندوبین نے اس میں حصہ لیا۔ یہ کرٹین ریزر ہے۔ اطلاع ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اگلے سال سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔

مودی کے بارے میں بھارتی ممتاز صحافی نہال سنگھ کا کہنا ہے کہ ہر وزیراعظم اس عہدہ پر فائز ہوکر کچھ سیکھتا ہے،مودی بھی ''لرننگ پروسیس'' میں ہیں۔ وہ تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے شیوسینا کے پھیلائے ہوئے زہر کا تریاق کرنے کا یارا نہیں رکھتے جو ان کی اپنی تربیت اور عقائد کا نتیجہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سشما کس مینڈیٹ کے تحت اور کس دل سے آئی ہیں۔

نواز شریف نے ان سے ملاقات کے دوران جن زمینی حقائق سے انھیں آگاہ کیا ہوگا، وہ ایک طرح سے سوغات ہیں، جنہیں لے جا کر وہ مودی سرکار کے سامنے رکھ دیں۔ سشما جی کی نرم و گرم گفتاری اپنی جگہ انھیں سنجیدگی اور تدبر سے کانفرنس کی سفارشات بھارتی حکومت کے سامنے لانی چاہئیں۔

دہشتگردی کے خاتمہ کی جنگ اگرچہ مشترکہ ذمے داری ہے مگر بھارت دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ دے کہ اس جنگ میں خود اس کا کردار کتنا واجبی ہے اور پاکستان اس کے عوام اور ملکی معیشت نے کتنا نقصان اٹھایا ہے تو ساری حقیقت کھل کر عالمی برادری کے سامنے آجائے گی۔ خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی کیفیات کشمیر میں اٹھنے والی شورش اور حق خود اختیاری کے حصول کی جنگ، اورکشمیریوں کی پکار پر بھارت کو توجہ دینا ہوگی۔ اس کا جابرانہ علاقائی ایجنڈہ اب نہیں چلے گا۔
Load Next Story