سی این جی مالکان 2روپے لگا کر 50کمائیں اب ایسا نہیں ہوگا چیف جسٹس
سی این جی اسٹیشنوں کیلیے 20.80روپے کلوآپریٹنگ سرچارج ختم، ہفتہ وار کے بجائے اوگرا نئی قیمت کا تعین 6ماہ بعدکرے گی
سی این جی اسٹیشنوں کیلیے 20.80روپے کلوآپریٹنگ سرچارج ختم، ہفتہ وار کے بجائے اوگرا نئی قیمت کا تعین 6ماہ بعدکرے گی، قیمت یکم جولائی 2012 کی سطح پر بحال۔ فوٹو: آن لائن/فائل
حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے2 رکنی بینچ کو بتایا ہے کہ سی این جی ایسوسی ایشن اور اوگرا کے درمیان مفاہمت کا معاہدہ معطل کرکے سی این جی کی قیمت یکم جولائی2012 کی سطح پر بحال کر دی گئی ہے اور نئی قیمتوں کے تعین کا اختیار بھی اوگرا کے سپرد کردیا گیا۔
جبکہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلے تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین اور سی این جی کو پٹرولیم سے منسلک کرنیکی پالیسی بھی معطل کر دی گئی ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔ سیکریٹری پٹرولیم وقار مسعود نے عدالت کو بتایا کہ سی این جی اسٹیشنوں کیلیے20روپے80پیسے فی کلو گرام آپریٹنگ سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اوگرا نئی قیمت کا تعین گیس کی دستیابی اور گیس سٹیشن کے آڈٹ کے بعد اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرے گی۔
عدالت نے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج اور سی این جی اسٹیشن مالکان کیلیے پہلے سے13فیصد منافع مقرر کر نے پر تحفظات کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ بادی النظر میں ڈیولپمنٹ سرچارج،آپریٹنگ سرچارج اور منافع کا پہلے سے تعین غیر قانونی ہے۔ اوگرا عدالت کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر یکم نومبر تک نئی قیمت کا تعین کرے۔ اوگرا کو سی این جی مالکان کا منافع طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان نے بتایا کہ ریجن ون کیلیے گیس کی کمپنی قیمت 19روپے54 پیسے اور ریجن ٹو کیلیے17روپے83پیسے کلو مقرر ہے۔ وفاقی حکومت ریجن ون کیلیے17روپے78پیسے اور ریجن ٹو کیلیے15 روپے83 پیسے انفرااسٹرکچر سرچارج وصول کرتی ہے، اس کے علاوہ اس پر20 روپے 80 پیسے فی کلو کے حساب سے آپریٹنگ سرچارج اور17 فیصد جنرل سیلزٹیکس بھی لاگو ہے۔
سی این جی مالکان کیلیے11روپے 19 پیسے منافع الگ مقرر ہے۔ عدالت نے میزانیے پر سخت تشویش کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کو لوٹا جا رہا ہے، سی این جی سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔ اس لیے90لاکھ روپے میں اسٹیشن کا لائسنس بکتا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عوام کا استحصال ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ منافع50فیصد سے زیادہ ہے، دنیا میں کہیں بھی25 فیصد سے زیادہ منافع نہیں ملتا۔ یہ منافع تو کسی اسٹاک مارکیٹ یا بڑے بزنس میں بھی نہیں ہوتا، عوام کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر کوئی اپنا کاروبار بند کرنا چاہتا ہے تو بے شک بند کر دے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سی این جی مالکان 2روپے لگا کر50روپے منافع کمائیں اب ایسا نہیں ہو گا۔ گیس کی قیمتوں کو کسی طور پر بھی پٹرولیم مصنوعات سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس جواد خواجہ نے چیئرمین اوگرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا حکومت کا ذیلی ادارہ ہے نہ چیئرمین زرخرید غلام ہے، اوگرا نے اس شخص کے حق کا تحفظ کرنا ہے جو بس میں سفر کرتا اور پیسے بھرتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سے متصادم منافع کمانا جرم ہے۔ اس بارے میں قانون موجود ہے لیکن عمل نہیں ہو رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس قدر لاقانونیت ہے کہ آمنے سامنے سی این جی سٹیشن لگے ہوئے ہیں اور دو سٹیشن ایک میٹر پر چلتے ہیں۔ اگر سیٹھ کو آپریٹنگ اخراجات بھی حکومت دے گی اور منافع اس کے اوپر ہو گا تو پھر حکومت کو کہیں گے سب سٹیشن سرکاری تحویل میں لیکر خود چلائے۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ نے بتایا کہ مالکان بھی اس فارمولے کیخلاف ہیں، معاہدہ خواہش کے برعکس ہوا، چیف جسٹس نے کہا پاکستان فلاحی ریاست ہے اور اس میں وہی ہو گا جو صارف کے مفاد میں ہو گا، وہ نہیں ہو گا جو سیٹھ چاہے گا۔
غیاث پراچہ نے کہا کہ ایک قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے ہمیں منظور ہو گا۔ سیکریٹری پٹرولیم نے ڈیولپمنٹ سرچارج پر وضاحت کیلیے وقت مانگ لیا۔ عدالت نے مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کرکے آبزرویشن دی کہ سیکریٹری کے بیان کی روشنی میں20روپے فوری کم ہو گئے۔ ایم ڈی سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس بھی پیش ہوئے اور بتایا کہ کمپنیوں کو صرف 2 روپے کلو منافع ملتا ہے۔ آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے کیس میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اوگرا کو سی این جی کا منافع طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ سی این جی پٹرولیم مصنوعات کی مد میں نہیں آتی۔ اس پر لیا جانے وال10روپے اضافی منافع ناجائز ہے۔
یہ منافع صارفین کا گلا دبا کر وصول کیا جارہا ہے۔ کم قیمت میں پٹرول اور گیس خرید کر عوام کو مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ بتایا جائے کہ گیس80روپے فی کلو کس جواز کے تحت فروخت کی جا رہی ہے۔ کاروبارکریں لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ نہ ڈالیں۔ غیاث پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ سی این جی والے پانچ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وہ کوئی اضافی منافع نہیں لیتے۔ مہینے میں بارہ دن سی این جی سٹیشن بند رہتے ہیں۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آپ کے پاس کوئی آیا تھا کہ آپ سی این جی لگائیں؟ جسے سی این جی کا کاروبار راس نہیں آتا بند کر دے۔ سی این جی سٹیشن مالکان فی کلو33روپے کس طرح اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں؟۔
جسٹس خواجہ نے کہاکہ سی این جی کے92 روپے53 پیسے میں67 روپے سوالیہ نشان ہیں۔ اوگرا اور سی این جی مالکان کی آپس میں یاری لگتی ہے، ہم نے سرا پکڑ لیا ہے۔ بس کی چھت پر سفر کرنیوالے کی جیب سے پیسے نکلوائے گئے۔ یہ پیسہ کس کی جیب میں گیا جلد پتہ چل جائیگا۔ چیف جسٹس نے گیس کنکشن پری پیڈکرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ آپریٹنگ کاسٹ مالکان کو برداشت کرنی چاہیے۔ مناپلی کی وجہ سے سارا بوجھ صارفین پر ڈال اجاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر بھی سرچارج کے حوالے سے سیکریٹری پٹرولیم سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت نے صرف عبوری حکم جاری کیا ہے، درخواستوں کی سماعت جاری رہے گی اور عدالت یکم نومبر سے دوبارہ ان درخواستوں کی سماعت کرے گی۔
جبکہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلے تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین اور سی این جی کو پٹرولیم سے منسلک کرنیکی پالیسی بھی معطل کر دی گئی ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔ سیکریٹری پٹرولیم وقار مسعود نے عدالت کو بتایا کہ سی این جی اسٹیشنوں کیلیے20روپے80پیسے فی کلو گرام آپریٹنگ سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اوگرا نئی قیمت کا تعین گیس کی دستیابی اور گیس سٹیشن کے آڈٹ کے بعد اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرے گی۔
عدالت نے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج اور سی این جی اسٹیشن مالکان کیلیے پہلے سے13فیصد منافع مقرر کر نے پر تحفظات کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ بادی النظر میں ڈیولپمنٹ سرچارج،آپریٹنگ سرچارج اور منافع کا پہلے سے تعین غیر قانونی ہے۔ اوگرا عدالت کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر یکم نومبر تک نئی قیمت کا تعین کرے۔ اوگرا کو سی این جی مالکان کا منافع طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان نے بتایا کہ ریجن ون کیلیے گیس کی کمپنی قیمت 19روپے54 پیسے اور ریجن ٹو کیلیے17روپے83پیسے کلو مقرر ہے۔ وفاقی حکومت ریجن ون کیلیے17روپے78پیسے اور ریجن ٹو کیلیے15 روپے83 پیسے انفرااسٹرکچر سرچارج وصول کرتی ہے، اس کے علاوہ اس پر20 روپے 80 پیسے فی کلو کے حساب سے آپریٹنگ سرچارج اور17 فیصد جنرل سیلزٹیکس بھی لاگو ہے۔
سی این جی مالکان کیلیے11روپے 19 پیسے منافع الگ مقرر ہے۔ عدالت نے میزانیے پر سخت تشویش کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کو لوٹا جا رہا ہے، سی این جی سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔ اس لیے90لاکھ روپے میں اسٹیشن کا لائسنس بکتا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عوام کا استحصال ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ منافع50فیصد سے زیادہ ہے، دنیا میں کہیں بھی25 فیصد سے زیادہ منافع نہیں ملتا۔ یہ منافع تو کسی اسٹاک مارکیٹ یا بڑے بزنس میں بھی نہیں ہوتا، عوام کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر کوئی اپنا کاروبار بند کرنا چاہتا ہے تو بے شک بند کر دے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سی این جی مالکان 2روپے لگا کر50روپے منافع کمائیں اب ایسا نہیں ہو گا۔ گیس کی قیمتوں کو کسی طور پر بھی پٹرولیم مصنوعات سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس جواد خواجہ نے چیئرمین اوگرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا حکومت کا ذیلی ادارہ ہے نہ چیئرمین زرخرید غلام ہے، اوگرا نے اس شخص کے حق کا تحفظ کرنا ہے جو بس میں سفر کرتا اور پیسے بھرتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سے متصادم منافع کمانا جرم ہے۔ اس بارے میں قانون موجود ہے لیکن عمل نہیں ہو رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس قدر لاقانونیت ہے کہ آمنے سامنے سی این جی سٹیشن لگے ہوئے ہیں اور دو سٹیشن ایک میٹر پر چلتے ہیں۔ اگر سیٹھ کو آپریٹنگ اخراجات بھی حکومت دے گی اور منافع اس کے اوپر ہو گا تو پھر حکومت کو کہیں گے سب سٹیشن سرکاری تحویل میں لیکر خود چلائے۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ نے بتایا کہ مالکان بھی اس فارمولے کیخلاف ہیں، معاہدہ خواہش کے برعکس ہوا، چیف جسٹس نے کہا پاکستان فلاحی ریاست ہے اور اس میں وہی ہو گا جو صارف کے مفاد میں ہو گا، وہ نہیں ہو گا جو سیٹھ چاہے گا۔
غیاث پراچہ نے کہا کہ ایک قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے ہمیں منظور ہو گا۔ سیکریٹری پٹرولیم نے ڈیولپمنٹ سرچارج پر وضاحت کیلیے وقت مانگ لیا۔ عدالت نے مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کرکے آبزرویشن دی کہ سیکریٹری کے بیان کی روشنی میں20روپے فوری کم ہو گئے۔ ایم ڈی سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس بھی پیش ہوئے اور بتایا کہ کمپنیوں کو صرف 2 روپے کلو منافع ملتا ہے۔ آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے کیس میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اوگرا کو سی این جی کا منافع طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ سی این جی پٹرولیم مصنوعات کی مد میں نہیں آتی۔ اس پر لیا جانے وال10روپے اضافی منافع ناجائز ہے۔
یہ منافع صارفین کا گلا دبا کر وصول کیا جارہا ہے۔ کم قیمت میں پٹرول اور گیس خرید کر عوام کو مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ بتایا جائے کہ گیس80روپے فی کلو کس جواز کے تحت فروخت کی جا رہی ہے۔ کاروبارکریں لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ نہ ڈالیں۔ غیاث پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ سی این جی والے پانچ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وہ کوئی اضافی منافع نہیں لیتے۔ مہینے میں بارہ دن سی این جی سٹیشن بند رہتے ہیں۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آپ کے پاس کوئی آیا تھا کہ آپ سی این جی لگائیں؟ جسے سی این جی کا کاروبار راس نہیں آتا بند کر دے۔ سی این جی سٹیشن مالکان فی کلو33روپے کس طرح اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں؟۔
جسٹس خواجہ نے کہاکہ سی این جی کے92 روپے53 پیسے میں67 روپے سوالیہ نشان ہیں۔ اوگرا اور سی این جی مالکان کی آپس میں یاری لگتی ہے، ہم نے سرا پکڑ لیا ہے۔ بس کی چھت پر سفر کرنیوالے کی جیب سے پیسے نکلوائے گئے۔ یہ پیسہ کس کی جیب میں گیا جلد پتہ چل جائیگا۔ چیف جسٹس نے گیس کنکشن پری پیڈکرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ آپریٹنگ کاسٹ مالکان کو برداشت کرنی چاہیے۔ مناپلی کی وجہ سے سارا بوجھ صارفین پر ڈال اجاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر بھی سرچارج کے حوالے سے سیکریٹری پٹرولیم سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت نے صرف عبوری حکم جاری کیا ہے، درخواستوں کی سماعت جاری رہے گی اور عدالت یکم نومبر سے دوبارہ ان درخواستوں کی سماعت کرے گی۔