ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ایک اہم پیش رفت
ہارٹ آف ایشیا استنبول پروسیس کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کر دیا گیا
ہارٹ آف ایشیا استنبول پروسیس کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
ISLAMABAD:
ہارٹ آف ایشیا استنبول پروسیس کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں طالبان سمیت تمام افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا گیا ہے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی نے پریس بریفنگ میں مشترکہ اعلامیے کی تفصیلات بتائیں جس میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں تعاون اور اپنا کردار ادا کریں۔ امن کے عمل کو آگے بڑھانے اور پائیدار امن کے لیے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا اور بات چیت کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے اس کو دوبارہ سے شروع کیا جائے۔ تمام ممالک کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔
مشترکہ اعلامیہ کی اصل روح اور اس کی مرکزیت افغانستان کی سیاسی سماجی اقتصادی اور عسکری صورتحال سے منسلک ہے، ہارٹ آف ایشیا کا تصور بھی افغانستان میں امن سلامتی اور ترقی کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے خاتمہ پر مبنی ہے، اس لیے کانفرنس کے شرکا کا زور اس بات پر تھا کہ افغان صورتحال میں بہتری کے لیے امن و سلامتی کا مشعل بردار بھی افغان حکومت ہو، دیگر ممالک اس کے ساتھ ساتھ چلیں۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ نائن الیون کے نتیجہ میں دنیا دہشتگردی کے عالمی زد میں آئی، افغانستان کا تورا بورا کر دیا گیا، اور خطے میں عدم استحکام کے ساتھ ہی عالمی جہادی تنظیموں نے القاعدہ ، طالبان اور اب داعش کے نام سے قتل و غارتگری کے ذریعے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا عندیہ دیا ہے، اس تناظر میں کانفرنس کے شرکا نتیجہ خیزی کا مطالبہ اگر کرتے ہیں تو وہ بلاجواز نہیں، اب تک ہونے والی کانفرنسوں کا لب لباب خطے میں امن کی صورت گری کی شکل میں آ جانا چاہیے۔
مگر چین، جاپان اور امریکا سمیت دیگر ممالک نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے ابتدائی مقاصد کے حصول کے لیے جن نکات پر اختلافی طرز عمل اختیار کیا تھا اس کی بنیادی وجہ عدم نتائج کا خوف بھی تھا، کرزئی حکومت شعور سے عاری تھی تاہم صدر اشرف غنی افغانستان اور طالبان کی ہولناک کشمکش کا اگر خاتمہ چاہتے ہیں تو پاکستان کی مدد حاصل کریں۔
اعلامیے کے مطابق استنبول پروسیس کے رکن ممالک ایک دوسرے کی خود مختاری، یکجہتی اور سیاسی آزادی احترام کرتے ہیں، علاقے میں دیرپا امن کے قیام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ افغانستان میں عالمی سیکیورٹی فورسز کے مشن کا خاتمہ افغانستان کی خودانحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، افغانستان میں امن اور استحکام آئے گا اور اس کے خطے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ رکن ممالک افغانستان کی امداد و معاونت جاری رکھیں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے پر الزام تراشی بند کریں، ہارٹ آف ایشیا ممالک کو دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرروت ہے۔ عالمی برادری افغان مہاجرین کے لیے مناسب امداد فراہم کرے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ خطے میں امن و ترقی سب کا مشترکہ ہدف ہے، وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کا امن کے لیے مشترکہ وژن ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا اگلا اجلاس آیندہ سال دہلی میں ہو گا۔
افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے لیے کسٹمز پالیسیوں میں نرمی کے مثبت نتائج نکلیں گے، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے اس لعنت سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ امن ترقی کے لیے اور ترقی پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں ''ہارٹ آف ایشیا استنبول عمل'' کی پانچویں وزارتی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعظم نے سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحدی انتظام کو جلد حتمی شکل دینے پر بھی زور دیا۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز چار فریقی مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم نواز شریف نے کی۔ افغان صدر اشرف غنی، امریکی نائب وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور چین کی وزیر خارجہ وانگ ژی کی قیادت میں وفود شریک ہوئے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ امن کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان اور خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ چین نے افغان امن مذاکرات کی میزبانی کی دوبارہ پیشکش کر دی۔ اس پر بھی اتفاق ہوا کہ تینوں ملک طالبان کے امن عمل میں شرکت کے لیے سازگار ماحول کے لیے کام کریں گے۔ یاد رہے افغانستان، یورپی یونین اور امریکا کے درمیان بھی ایک اجلاس ہوا۔ جس میں2016ء میں وارسا اور برسلز میں افغانستان پر ہونے والی کانفرنسوں کی تیاریوں اور خطے کے تازہ ترین سیکیورٹی اور معاشی حالات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایشیا کانفرنس کے انعقاد کا کریڈٹ بلاشبہ پاکستان کو جاتا ہے مگر اس کی کامیابی کا انحصار رکن ممالک کے پر جوش اشتراک عمل پر ہے۔ دہشتگردی کے عفریت سے بھی نمٹنا ہے جب کہ افغانستان میں امن خطے کا عظیم ترچیلنج ہے، چنانچہ تمام رکن ممالک اپنے اجتماعی عزم اور مشترکہ وسائل و حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ہارٹ آف ایشیا استنبول پروسیس کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں طالبان سمیت تمام افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا گیا ہے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی نے پریس بریفنگ میں مشترکہ اعلامیے کی تفصیلات بتائیں جس میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں تعاون اور اپنا کردار ادا کریں۔ امن کے عمل کو آگے بڑھانے اور پائیدار امن کے لیے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہو گا اور بات چیت کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے اس کو دوبارہ سے شروع کیا جائے۔ تمام ممالک کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔
مشترکہ اعلامیہ کی اصل روح اور اس کی مرکزیت افغانستان کی سیاسی سماجی اقتصادی اور عسکری صورتحال سے منسلک ہے، ہارٹ آف ایشیا کا تصور بھی افغانستان میں امن سلامتی اور ترقی کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے خاتمہ پر مبنی ہے، اس لیے کانفرنس کے شرکا کا زور اس بات پر تھا کہ افغان صورتحال میں بہتری کے لیے امن و سلامتی کا مشعل بردار بھی افغان حکومت ہو، دیگر ممالک اس کے ساتھ ساتھ چلیں۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ نائن الیون کے نتیجہ میں دنیا دہشتگردی کے عالمی زد میں آئی، افغانستان کا تورا بورا کر دیا گیا، اور خطے میں عدم استحکام کے ساتھ ہی عالمی جہادی تنظیموں نے القاعدہ ، طالبان اور اب داعش کے نام سے قتل و غارتگری کے ذریعے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا عندیہ دیا ہے، اس تناظر میں کانفرنس کے شرکا نتیجہ خیزی کا مطالبہ اگر کرتے ہیں تو وہ بلاجواز نہیں، اب تک ہونے والی کانفرنسوں کا لب لباب خطے میں امن کی صورت گری کی شکل میں آ جانا چاہیے۔
مگر چین، جاپان اور امریکا سمیت دیگر ممالک نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے ابتدائی مقاصد کے حصول کے لیے جن نکات پر اختلافی طرز عمل اختیار کیا تھا اس کی بنیادی وجہ عدم نتائج کا خوف بھی تھا، کرزئی حکومت شعور سے عاری تھی تاہم صدر اشرف غنی افغانستان اور طالبان کی ہولناک کشمکش کا اگر خاتمہ چاہتے ہیں تو پاکستان کی مدد حاصل کریں۔
اعلامیے کے مطابق استنبول پروسیس کے رکن ممالک ایک دوسرے کی خود مختاری، یکجہتی اور سیاسی آزادی احترام کرتے ہیں، علاقے میں دیرپا امن کے قیام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ افغانستان میں عالمی سیکیورٹی فورسز کے مشن کا خاتمہ افغانستان کی خودانحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، افغانستان میں امن اور استحکام آئے گا اور اس کے خطے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ رکن ممالک افغانستان کی امداد و معاونت جاری رکھیں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے پر الزام تراشی بند کریں، ہارٹ آف ایشیا ممالک کو دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرروت ہے۔ عالمی برادری افغان مہاجرین کے لیے مناسب امداد فراہم کرے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ خطے میں امن و ترقی سب کا مشترکہ ہدف ہے، وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کا امن کے لیے مشترکہ وژن ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا اگلا اجلاس آیندہ سال دہلی میں ہو گا۔
افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے لیے کسٹمز پالیسیوں میں نرمی کے مثبت نتائج نکلیں گے، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے اس لعنت سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ امن ترقی کے لیے اور ترقی پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں ''ہارٹ آف ایشیا استنبول عمل'' کی پانچویں وزارتی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعظم نے سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحدی انتظام کو جلد حتمی شکل دینے پر بھی زور دیا۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز چار فریقی مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم نواز شریف نے کی۔ افغان صدر اشرف غنی، امریکی نائب وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور چین کی وزیر خارجہ وانگ ژی کی قیادت میں وفود شریک ہوئے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ امن کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان اور خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ چین نے افغان امن مذاکرات کی میزبانی کی دوبارہ پیشکش کر دی۔ اس پر بھی اتفاق ہوا کہ تینوں ملک طالبان کے امن عمل میں شرکت کے لیے سازگار ماحول کے لیے کام کریں گے۔ یاد رہے افغانستان، یورپی یونین اور امریکا کے درمیان بھی ایک اجلاس ہوا۔ جس میں2016ء میں وارسا اور برسلز میں افغانستان پر ہونے والی کانفرنسوں کی تیاریوں اور خطے کے تازہ ترین سیکیورٹی اور معاشی حالات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایشیا کانفرنس کے انعقاد کا کریڈٹ بلاشبہ پاکستان کو جاتا ہے مگر اس کی کامیابی کا انحصار رکن ممالک کے پر جوش اشتراک عمل پر ہے۔ دہشتگردی کے عفریت سے بھی نمٹنا ہے جب کہ افغانستان میں امن خطے کا عظیم ترچیلنج ہے، چنانچہ تمام رکن ممالک اپنے اجتماعی عزم اور مشترکہ وسائل و حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں۔