جامعہ کراچی نے الحاق شدہ نجی کالجوں کو ایم بی اے کرانے سے روک دیا
فیصلہ ایچ ای سی کے روڈمیپ پرکیا، کالجوں کے پاس ساڑھے3سال میں ایم بی اے کرانے کی صلاحیت موجودنہیں
کراچی یونیورسٹی برنس اسکول نے ایم بی اے کادورانیہ ساڑھے3 سال کردیا، پروگرام ایم ایس کے مساوی ہوگا،خالدعراقی فوٹو: ایکسپریس
جامعہ کراچی نے الحاق شدہ نجی کالجوں کوایم بی اے میں داخلے دینے سے روک دیا،طلباکونئے سال میں داخلے نہیں دیے جاسکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے شہرمیں قائم الحاق شدہ نجی کالجوں کوایم بی اے کرانے سے روک دیاہے اورنئے تعلیمی سال 2016کے موقع پرایم بی اے پروگرام میں داخلے نہ دینے کے باقاعدہ احکام جاری کردیے ہیں جن کالجوں کوایم بی اے پروگرام میں داخلے دینے سے روکا گیا ہے ۔
ان میں آدم جی، ایڈمسن، ایمز، الحمد، سی اے ایم ایس، سی بی ایف، کے آئی ٹی ای کائٹ، لیاقت کالج، میری ٹائم، ایس ایس اے ٹی، یوسی کالج شامل ہیں، یہ فیصلہ ''کراچی یونیورسٹی برنس اسکول کی جانب سے اپنا ایم بی اے پروگرام 2 سے بڑھا کر ساڑھے 3 سال پرمحیط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس بارپہلی مرتبہ داخلے دیئے جارہے ہیں۔
یہ پروگرام ''ایم ایس''کے مساوی ہوگااوراس پروگرام سے فارغ التحصیل طالب علم براہ راست پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے اہل ہونگے۔ ''ایکسپریس'' کومعلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کا موقف ہے کہ چونکہ ساڑھے 3 سال پر مشتمل ایم بی اے پروگرام میں ایم ایس، ایم فل کے کورسز بھی شامل ہوں گے اور شہرمیں قائم نجی کالجوں کی انتظامیہ کے پاس ساڑھے 3 سال پرمحیط ایم بی اے پروگرام چلانے کے لیے مطلوبہ فیکلٹی موجود ہی نہیں ہے لہذایہ کالج ساڑھے 3 سال پرمشتمل ایم بی اے پروگرام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کے بعد جامعہ کراچی کی الحاق کمیٹی نے باقاعدہ خط کے ذریعے ان کالجوںکوآئندہ ایم بی اے پروگرام میں داخلے نہ دینے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ایکسپریس کے رابطہ کرنے پرجامعہ کراچی کے رئیس کلیہ انتظام وانصرام پروفیسرڈاکٹرخالد عراقی نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے دیئے ہوئے ''روڈمیپ'' پرکراچی یونیورسٹی بزنس اسکول نے ایم بی اے پروگرام 2سے بڑھاکرساڑھے 3 سال کیاہے اوریونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل اس پروگرام کی منظوری بھی دے چکی ہے۔ جس کے تحت ایم بی اے پروگرام ایم ایس کے مساوی ہوگاجبکہ شہرکے نجی کالج اس پروگرام کوشروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جبکہ جامعہ کراچی کالجوںکواس بات کی اجازت نہیں دے سکتی ہے یونیورسٹی خود ساڑھے 3 سالہ ایم بی اے پروگرام شروع کردے جبکہ کالجوں میں3سالہ ایم بی اے ہی چلایاجاتارہے۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے شہرمیں قائم الحاق شدہ نجی کالجوں کوایم بی اے کرانے سے روک دیاہے اورنئے تعلیمی سال 2016کے موقع پرایم بی اے پروگرام میں داخلے نہ دینے کے باقاعدہ احکام جاری کردیے ہیں جن کالجوں کوایم بی اے پروگرام میں داخلے دینے سے روکا گیا ہے ۔
ان میں آدم جی، ایڈمسن، ایمز، الحمد، سی اے ایم ایس، سی بی ایف، کے آئی ٹی ای کائٹ، لیاقت کالج، میری ٹائم، ایس ایس اے ٹی، یوسی کالج شامل ہیں، یہ فیصلہ ''کراچی یونیورسٹی برنس اسکول کی جانب سے اپنا ایم بی اے پروگرام 2 سے بڑھا کر ساڑھے 3 سال پرمحیط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس بارپہلی مرتبہ داخلے دیئے جارہے ہیں۔
یہ پروگرام ''ایم ایس''کے مساوی ہوگااوراس پروگرام سے فارغ التحصیل طالب علم براہ راست پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے اہل ہونگے۔ ''ایکسپریس'' کومعلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کا موقف ہے کہ چونکہ ساڑھے 3 سال پر مشتمل ایم بی اے پروگرام میں ایم ایس، ایم فل کے کورسز بھی شامل ہوں گے اور شہرمیں قائم نجی کالجوں کی انتظامیہ کے پاس ساڑھے 3 سال پرمحیط ایم بی اے پروگرام چلانے کے لیے مطلوبہ فیکلٹی موجود ہی نہیں ہے لہذایہ کالج ساڑھے 3 سال پرمشتمل ایم بی اے پروگرام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کے بعد جامعہ کراچی کی الحاق کمیٹی نے باقاعدہ خط کے ذریعے ان کالجوںکوآئندہ ایم بی اے پروگرام میں داخلے نہ دینے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ایکسپریس کے رابطہ کرنے پرجامعہ کراچی کے رئیس کلیہ انتظام وانصرام پروفیسرڈاکٹرخالد عراقی نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے دیئے ہوئے ''روڈمیپ'' پرکراچی یونیورسٹی بزنس اسکول نے ایم بی اے پروگرام 2سے بڑھاکرساڑھے 3 سال کیاہے اوریونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل اس پروگرام کی منظوری بھی دے چکی ہے۔ جس کے تحت ایم بی اے پروگرام ایم ایس کے مساوی ہوگاجبکہ شہرکے نجی کالج اس پروگرام کوشروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جبکہ جامعہ کراچی کالجوںکواس بات کی اجازت نہیں دے سکتی ہے یونیورسٹی خود ساڑھے 3 سالہ ایم بی اے پروگرام شروع کردے جبکہ کالجوں میں3سالہ ایم بی اے ہی چلایاجاتارہے۔