بلوچستان میں نئے وزیراعلیٰ کی آمد

مری معاہدہ سیاسی و آئینی پاسداری اور جمہوری رویے میں نظر آنے والی سیاسی بلوغت کا مظہر ہے اور اچھا فیصلہ ہے

بلوچستان حکومت کے حوالے سے مری معاہدہ پر عملدرآمد کا معاملہ جس خوش اسلوبی سے سیاسی انداز میں حل کیا گیا ہے، فوٹو : این این آئی

SHABQADAR, CHARSADDA:
مری معاہدہ کے تحت ڈاکٹر عبدالمالک کے عہدے کی مدت پوری ہونے پر وزیر اعظم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر نواب ثناء اﷲ زہری کو بلوچستان کا آیندہ وزیر اعلیٰ نامزد کر دیا۔ آیندہ 3 روز کے اندر ڈاکٹر عبدالمالک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم نے یہ فیصلہ مری اعلامیہ کی روشنی اور اپنے سیاسی اتحادیوں کی مشاورت کے بعد کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میرے دل کے قریب ہے اور اس توقع کا اظہار کیا کہ نئے وزیر اعلیٰ صوبے میں امن و سلامتی کو یقینی بنائیں گے، وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ معاونت فراہم کرتی رہیگی۔

تاہم بلوچستان کو جس امن، خوشحالی، سیاسی استحکام اور بھائی چارے کی ضرورت ہے اس کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت اور سرپرستی کے بغیر یہ چیلنج ثنااللہ زہری کی نئی حکومت کو بھی درپیش رہیگا۔ بلوچستان کے اندوہناک مسائل میں سرفہرست لاپتہ افراد کی بازیابی اور جاری شورش اور بدامنی کا خاتمہ ہے۔ براہمداغ بگٹی، حیربیار مری اور دیگر قوم پرست رہنما جو بیرون ملک سکونت پذیر ہیں ان سے مصالحت کی حکمت عملی وضع کی جائے۔ بلوچستان میں شرپسندوں سے ضرور نمٹا جائے مگر ثنا حکومت کو صوبہ میں امن و بھائی چارہ کے لیے زیتون کی شاخ بلند کرنے کا امکان بھی روشن رکھنا چاہیے۔

سیاسی تپش کے خاتمہ کے لیے نئی صوبائی حکومت کو ہر قسم کے قبائلی دباؤ، ترغیبات اور انتظامی مجبوریوں سے الگ رہتے ہوئے بلوچستان کو روشن فکری، رواداری اور شفاف سیاست کی بنیاد رکھنے کے لیے عظیم تر مفاہمت کا در کھولنا ہو گا۔ ڈاکٹر مالک کے بریک تھرو میں سردار ثنا زہری نے بھرپور تعاون کیا اب ڈاکٹر مالک اور حاصل بزنجو کی قیادت میں نیشنل پارٹی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے دست تعاون دراز کرے، دوسری طرف نئے نامزد وزیر اعلیٰ کو بلوچستان کی سیاسی حرکیات پر نظر رکھتے ہوئے خود کو اس کے تناؤ، دباؤ اور اثرات سے دور رکھنا ہو گا، اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے معاشی روڈ میپ پر توجہ دینا ہو گی۔

صوبہ بلوچستاں قبائلی رقابتوں، نسلی و تاریخی عصبیتوں، فرقہ وارانہ کشیدگی کا گہوارہ رہا ہے، دہشتگرد عناصر کی باہمی چپقلش اور گریٹر گیم سے مربوط علیحدگی کی تحریک، کرپشن اور کالعدم تنظیموں سے نمٹنا ابھی باقی ہے۔ بلاشبہ ثنا زہری سے زیادہ اس حقیقت کا ادراک اور کسے ہو گا کہ بلوچستان کی حکومت پھولوں کی سیج نہیں۔ اس لیے بلوچستان کی کارگہہ شیشہ گری میں سنبھل کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔


خوش آیند بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے سربراہ چیف آف جھالاوان نامزد وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اﷲ خان زہری سے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ملاقات کی، عبدالمالک بلوچ نے نواب ثناء اﷲ خان کو وزیر اعلیٰ نامزد ہونے پر مبارکباد دی، دونوں کے مابین ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہی جمہوری رویہ بلوچستان کی شورش زدہ سیاست کا دھارا بدل سکتا ہے اور رسہ کشی کی لعنت سے ملکی سیاسی نظام کو نجات مل سکتی ہے۔

نامزد وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صوبے میں امن و امان اور گڈ گورننس اولین ترجیحات ہیں، بلوچستان میں پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹس کو ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے وژن کے مطابق جلد از جلد کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا، ناراض بلوچوں کو منانے کے حوالے سے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق مفاہمت کی پالیسی پر نہ صرف عملدرآمد جاری رہیگا بلکہ اس میں تیزی لائی جائے گی۔

انھوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ مفاہمت کے خلاف ہیں، بلکہ یقین دلایا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وزارت اعلیٰ سے وقت رخصت ایک پرامن بلوچستان عوام کو دیتا جاؤں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کیڈٹ کالج مستونگ کے طالب علموں کے گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا بھرپور عزم رکھتی ہے اور اس موقع پر کیڈٹ کالج مستونگ کے لیے دو کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔ بلوچستان میں تعلیم و صحت کی سہولتوں سمیت غربت کا خاتمہ لازمی ہے۔

مری معاہدہ سیاسی و آئینی پاسداری اور جمہوری رویے میں نظر آنے والی سیاسی بلوغت کا مظہر ہے اور اچھا فیصلہ ہے، جس پر بلوچستان کے سیاسی سیٹ اپ میں شامل شراکت داروں کی طرف سے کوئی ٹھوس اعتراض سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ بلوچستان کا بحران قوم پرستوں کی مزاحمانہ جدوجہد، فوجی آپریشنز اور داخلی بدامنی کی پیچیدہ صورتحال میں آنے والی موجودہ تبدیلی بلاشبہ ایک پیش رفت ہے جس سے بلوچستان کی مخلوط حکومت کا بدترین مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا۔

اور یہ سب کچھ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کو اقتدار سونپنے کے باعث ممکن ہوا اور اب اسی اسپرٹ کے تحت مری معاہدہ کے تحت صوبہ بلوچستان کے سینئر وزیر سردار ثنااللہ زہری کو بلوچستان میں قیام امن، بھائی چارے، بیرون ملک مقیم ناراض بلوچ رہنماؤں کی وطن واپسی اور صوبہ کی معاشی ترقی کا بہت صبر آزما ٹاسک دیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے حوالے سے مری معاہدہ پر عملدرآمد کا معاملہ جس خوش اسلوبی سے سیاسی انداز میں حل کیا گیا ہے امید ہے کہ وفاقی حکومت، مالک حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھے گی، اور یہی امید ثنا زہری سے بھی رکھی جانی چاہیے کہ سیاسی رہنماؤں سے مفاہمت، خیر سگالی، باہمی اشتراک سے صوبہ میں سماجی اور معاشی ترقی کے تمام منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
Load Next Story