افغانستان میں قیام امن کیسے ممکن ہے
چین افغانستان میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کررہا اوراب بھارت بھی افغانستان تک اپنےتجارت کو بڑھانے کے لیے پر تول رہا ہے
پاکستان نے افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے رواں سال مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کی۔ فوٹو: فائل
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے امریکی نائب وزیر خارجہ انتھونی جے بلنکن نے جمعرات کو جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں آپریشن ضرب عضب' خطے میں سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے علاوہ افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کے لیے مفاہمتی عمل کی جلد بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ مفاہمتی عمل خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
جنوبی ایشیا میں حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں عالمی طاقتوں کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا جنوبی ایشیا سے وابستہ ان کے تجارتی اور دیگر مفادات کی راہ میں رکاوٹ حائل رہے گی۔ چین افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا اور اب بھارت بھی افغانستان تک اپنے تجارت کو بڑھانے کے لیے پر تول رہا ہے لہٰذا عالمی طاقتوں کی جانب سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ افغانستان میں امن کیسے قائم ہو لیکن دوسری جانب اہم بات یہ ہے کہ وہاں پیدا ہونے والے انتشار کے ذمے دار کون ہیں۔ جن عالمی قوتوں نے افغانستان میں انتشار پیدا کیا آج وہی وہاں پر امن قائم کرنے کا راگ الاپ رہی ہیں۔ افغانستان کے معاملات بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں ایک جانب وہاں امریکا کی سرپرستی میں افغان حکومت قائم ہے دوسری جانب انتہا پسند اس حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہے ہیں۔
پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوششں کی مگر موجودہ افغان حکومت بھی سابق کرزئی حکومت کی طرح متعصبانہ اور جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے جب تک وہ اپنے اس رویے میں تبدیلی نہیں لاتی خطے میں امن کی کوششیں بارآور نہیں ہو سکتیں۔ امریکا' نیٹو افواج اور افغان فورسز کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر اپنے مدمقابل طالبان فورسز کو شکست نہیں دے سکتے لہٰذا انھوں نے ان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے رواں سال مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا مگر یہ مذاکرات سابق طالبان سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبر کے بعد منقطع ہو گئے۔
اب اگر یہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان کو بھی کسی بہانے سے سبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور مذاکرات کے سلسلے کو دونوں فریقین کی جانب سے خلوص نیت سے آگے بڑھایا جائے تو ہی معاملات کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں اگر فریقین میں کوئی اپنی ضد پر اڑا رہتا یا بدنیتی کا مظاہرہ کرتا ہے تو پھر معاملات میں بہتری کا امکان ممکن نہیں۔
جنوبی ایشیا میں حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں عالمی طاقتوں کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا جنوبی ایشیا سے وابستہ ان کے تجارتی اور دیگر مفادات کی راہ میں رکاوٹ حائل رہے گی۔ چین افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا اور اب بھارت بھی افغانستان تک اپنے تجارت کو بڑھانے کے لیے پر تول رہا ہے لہٰذا عالمی طاقتوں کی جانب سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ افغانستان میں امن کیسے قائم ہو لیکن دوسری جانب اہم بات یہ ہے کہ وہاں پیدا ہونے والے انتشار کے ذمے دار کون ہیں۔ جن عالمی قوتوں نے افغانستان میں انتشار پیدا کیا آج وہی وہاں پر امن قائم کرنے کا راگ الاپ رہی ہیں۔ افغانستان کے معاملات بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں ایک جانب وہاں امریکا کی سرپرستی میں افغان حکومت قائم ہے دوسری جانب انتہا پسند اس حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہے ہیں۔
پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوششں کی مگر موجودہ افغان حکومت بھی سابق کرزئی حکومت کی طرح متعصبانہ اور جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے جب تک وہ اپنے اس رویے میں تبدیلی نہیں لاتی خطے میں امن کی کوششیں بارآور نہیں ہو سکتیں۔ امریکا' نیٹو افواج اور افغان فورسز کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر اپنے مدمقابل طالبان فورسز کو شکست نہیں دے سکتے لہٰذا انھوں نے ان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے رواں سال مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا مگر یہ مذاکرات سابق طالبان سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبر کے بعد منقطع ہو گئے۔
اب اگر یہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان کو بھی کسی بہانے سے سبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور مذاکرات کے سلسلے کو دونوں فریقین کی جانب سے خلوص نیت سے آگے بڑھایا جائے تو ہی معاملات کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں اگر فریقین میں کوئی اپنی ضد پر اڑا رہتا یا بدنیتی کا مظاہرہ کرتا ہے تو پھر معاملات میں بہتری کا امکان ممکن نہیں۔