بلدیاتی انتخابات اور اختیارات
بے شمار خدشات بے شمار خطرات کے سائے میں آخر بلدیاتی انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ مکمل ہو گیا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
بے شمار خدشات بے شمار خطرات کے سائے میں آخر بلدیاتی انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ مکمل ہو گیا اور سندھ اور پنجاب میں توقع کے عین مطابق نتائج سامنے آئے۔ کراچی میں البتہ توقع سے کچھ ہٹ کر نتائج آئے خاص طور پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے عوام میں یہ توقع تھی کہ یہ اتحاد کراچی میں فیصلہ کن نتائج تو حاصل نہیں کرے گا لیکن قابل ذکر کامیابی حاصل کرے گا۔
لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ البتہ سیاسی تجزیہ نگاروں کو اس حوالے سے کوئی خوش گمانی نہیں تھی۔ 5 دسمبر کو کراچی کے جو نتائج آئے ہیں وہ حقیقت پسند تجزیہ کاروں کی توقعات کے عین مطابق ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے آٹھ سو سے زیادہ نشستیں حاصل کیں تحریک انصاف کو دو سو سے زیادہ نشستیں ملیں پیپلز پارٹی نے 117 نشستیں لیں البتہ انتہائی افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی منظم اور متحرک جماعت نے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں صرف 3 نشستیں حاصل کیں۔ آزاد امیدواروں نے 825 نشستیں لیں۔
الیکشن کا مرحلہ تو بڑی حد تک خیر و خوبی سے مکمل ہو گیا اور اچھی بات یہ ہے کہ الیکشن کے حوالے سے روایتی دھاندلی کے الزامات ماضی جیسی شدت سے نہیں اٹھائے گئے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم جس سسٹم میں زندہ ہیں وہاں انتخابی دھاندلیاں ہماری جمہوری روایات کا حصہ ہیں۔ البتہ اس کا طریقہ کار بدلتا رہتا ہے اور اس حوالے سے سب سے زیادہ فائدہ برسر اقتدار جماعتوں کو ہوتا ہے کیونکہ انتظامیہ مکمل طور پر حکومت کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور عموماً روبوٹ کی طرح کام کرتی ہے۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی اگرچہ توقع سے کم ہے کیونکہ لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد میں کامیابی پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت ہی کے لیے ایک سوالیہ نشان نہیں بلکہ خود ہماری سیاسی جماعتوں کے لیے اتنا بڑا سوال ہے کہ اس کے مضمرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس سوال کا مختصر جواب سوال کی شکل میں یہ آتا ہے کہ ''کیا سیاسی جماعتوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے؟'' اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں، ہمارے جمہوریت پسند سیاستدانوں کو اس مسئلے پر ٹھنڈے دل ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے کہ جمہوریت کے روح رواں پر سے عوام کو اعتماد کیوں اٹھ رہا ہے؟
مسلم لیگ (ن) مرکز میں برسر اقتدار ہے اور ملک کی تین چوتھائی سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں بھی برسر اقتدار ہے اور اب وہ لوکل باڈیز کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی جماعت بھی بن گئی ہے اس طرح اس کی ذمے داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اسے ہم اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ عین لوکل باڈیز انتخابات کی شام ہمارے صدر محترم نے جو حکومت کے نامزد صدر ہیں ایک ایسا فیصلہ صادر کر دیا ہے جس کے ملک کے عوام سخت مخالف ہیں وہ فیصلہ ہے پی آئی اے کی نجکاری۔
ہم بات کر رہے تھے مسلم لیگی حکومت کی غیر معمولی ذمے داریوں کی کہ مرکز پنجاب میں حکومت کے بعد بلدیاتی نظام پر اس کی گرفت سے عوام کو کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور عوام کے مسائل حل کرتے ہیں ہماری حکومت کیا کردار ادا کر سکتی ہے کہ بیچ میںنجکاری آ گئی چونکہ بات عوامی مفادات اور جمہوری رویوں کی ہو رہی ہے۔
سو ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا نجکاری کی پالیسی اور حوصلہ افزائی عوامی اور قومی مفادات کے مطابق ہے؟ اس حوالے سے ایک منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی ادارے کی نجکاری سے اگرچہ ملازمین کے عدم تحفظ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے لیکن عموماً ملازمین وہی ہوتے ہیں صرف انتظامیہ بدل جاتی ہے۔
بلکہ انتظامیہ کا بڑا حصہ سابقہ ہی رہتا ہے البتہ فیصلوں کے اختیارات تبدیل ہو جاتے ہیں اور یہی وہ تبدیلی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی روح کہلا سکتی ہے۔ اگر نجکاری عوام کے مفادات کے مطابق ہوتی ہے تو عوام اس کے خلاف سڑکوں پر کیوں آتے ہیں؟ یہ درست ہے کہ کسی ایک ادارے کی نجکاری کے خلاف سارے عوام سڑکوں پر نہیں آتے کیونکہ وہ براہ راست کسی ایک ادارے کی نجکاری سے متاثر نہیں ہوتے لیکن عوام مجموعی طور پر نجکاری کے خلاف ہوتے ہیں۔ کیا رائے عامہ کی یہ خلاف ورزی جمہوریت کے مطابق ہے؟
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ سابقہ حکومت بھی نجکاری پر عمل پیرا رہی ہے اور اب تک پچاسوں قومی اداروں کی نجکاری ہو چکی ہے۔
اس اقدام کا واحد مقصد یا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ قومی ادارے نقصان میں جاتے ہیں۔ ان اداروں کو نقصان سے بچانے کا واحد طریقہ نجاری ہے۔ جیسے ہی کسی قومی ادارے کے تمام اختیارات پرائیویٹ انتظامیہ کے ہاتھوں میں آتے ہیں نقصان فائدے میں بدل جاتے ہیں یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے کہا جاتا ہے کہ دیگ کو دیکھنے کے لیے چاول کے چند دانوں کو دیکھا جاتا ہے اور پاکستانی عوام عشروں سے چاول کے دانے دیکھتے آ رہے ہیں۔
کراچی میں متحدہ نے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سیٹیں جیت لی ہیں، جو بہ ظاہر تعجب انگیز یوں ہیں کہ متحدہ برسوں سے جن حالات کا شکار ہے اور میڈیا ان حالات کی تصویر کشی جس طرح کرتا رہا ہے اس کے پس منظر میں عام خیال یا توقع یہ تھی کہ متحدہ اتنی سیٹیں لے ہی نہیں سکتی لیکن متحدہ نے اتنی سیٹیں لے لیں کہ کراچی میں میٹرو ڈپٹی میئر اور 4 اضلاع کے چیئرمین وائس چیئرمین اپنے لا سکتی ہے۔
متحدہ کے پاس ماضی میں بھی یہ اختیارات رہے ہیں اور مصطفی کمال کی سربراہی میں بلدیاتی اداروں نے وہ کمال کر دکھایا کہ ملک کے اندر اور باہر اس کی واہ واہ ہی ہوتی رہی۔ کراچی کے عوام بلدیاتی اداروں کے بغیر بے انتہا مسائل اور کسمپرسی کے شکار ہیں۔ ہر طرف مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ کیا متحدہ ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
بلدیاتی اداروں کی افادیت اس شرط سے مشروط ہے کہ اسے وہ سارے اختیارات مل جائیں جو آئینی طور پر اسے ملنے چاہئیں لیکن صرف کراچی والوں کو ہی یہ شکایت نہیں کہ ایسے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں جن کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کو قدم قدم پر صوبائی حکومت اور بیورو کریسی کا محتاج رہنا پڑے گا۔ یہ شکایت پورے ملک کے بلدیاتی اداروں کو ہے جن میں پنجاب بھی شامل ہے۔ کیا انتظامی اور مالیاتی اختیارات کے بغیر بلدیاتی نظام موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب حاصل کیے بغیر نہ کراچی کا میئر کچھ کر سکتا ہے نہ لاہور یا کسی اور شہر کا۔
لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ البتہ سیاسی تجزیہ نگاروں کو اس حوالے سے کوئی خوش گمانی نہیں تھی۔ 5 دسمبر کو کراچی کے جو نتائج آئے ہیں وہ حقیقت پسند تجزیہ کاروں کی توقعات کے عین مطابق ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے آٹھ سو سے زیادہ نشستیں حاصل کیں تحریک انصاف کو دو سو سے زیادہ نشستیں ملیں پیپلز پارٹی نے 117 نشستیں لیں البتہ انتہائی افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی منظم اور متحرک جماعت نے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں صرف 3 نشستیں حاصل کیں۔ آزاد امیدواروں نے 825 نشستیں لیں۔
الیکشن کا مرحلہ تو بڑی حد تک خیر و خوبی سے مکمل ہو گیا اور اچھی بات یہ ہے کہ الیکشن کے حوالے سے روایتی دھاندلی کے الزامات ماضی جیسی شدت سے نہیں اٹھائے گئے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم جس سسٹم میں زندہ ہیں وہاں انتخابی دھاندلیاں ہماری جمہوری روایات کا حصہ ہیں۔ البتہ اس کا طریقہ کار بدلتا رہتا ہے اور اس حوالے سے سب سے زیادہ فائدہ برسر اقتدار جماعتوں کو ہوتا ہے کیونکہ انتظامیہ مکمل طور پر حکومت کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور عموماً روبوٹ کی طرح کام کرتی ہے۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی اگرچہ توقع سے کم ہے کیونکہ لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد میں کامیابی پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت ہی کے لیے ایک سوالیہ نشان نہیں بلکہ خود ہماری سیاسی جماعتوں کے لیے اتنا بڑا سوال ہے کہ اس کے مضمرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس سوال کا مختصر جواب سوال کی شکل میں یہ آتا ہے کہ ''کیا سیاسی جماعتوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے؟'' اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں، ہمارے جمہوریت پسند سیاستدانوں کو اس مسئلے پر ٹھنڈے دل ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے کہ جمہوریت کے روح رواں پر سے عوام کو اعتماد کیوں اٹھ رہا ہے؟
مسلم لیگ (ن) مرکز میں برسر اقتدار ہے اور ملک کی تین چوتھائی سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں بھی برسر اقتدار ہے اور اب وہ لوکل باڈیز کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی جماعت بھی بن گئی ہے اس طرح اس کی ذمے داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اسے ہم اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ عین لوکل باڈیز انتخابات کی شام ہمارے صدر محترم نے جو حکومت کے نامزد صدر ہیں ایک ایسا فیصلہ صادر کر دیا ہے جس کے ملک کے عوام سخت مخالف ہیں وہ فیصلہ ہے پی آئی اے کی نجکاری۔
ہم بات کر رہے تھے مسلم لیگی حکومت کی غیر معمولی ذمے داریوں کی کہ مرکز پنجاب میں حکومت کے بعد بلدیاتی نظام پر اس کی گرفت سے عوام کو کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور عوام کے مسائل حل کرتے ہیں ہماری حکومت کیا کردار ادا کر سکتی ہے کہ بیچ میںنجکاری آ گئی چونکہ بات عوامی مفادات اور جمہوری رویوں کی ہو رہی ہے۔
سو ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا نجکاری کی پالیسی اور حوصلہ افزائی عوامی اور قومی مفادات کے مطابق ہے؟ اس حوالے سے ایک منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی ادارے کی نجکاری سے اگرچہ ملازمین کے عدم تحفظ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے لیکن عموماً ملازمین وہی ہوتے ہیں صرف انتظامیہ بدل جاتی ہے۔
بلکہ انتظامیہ کا بڑا حصہ سابقہ ہی رہتا ہے البتہ فیصلوں کے اختیارات تبدیل ہو جاتے ہیں اور یہی وہ تبدیلی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی روح کہلا سکتی ہے۔ اگر نجکاری عوام کے مفادات کے مطابق ہوتی ہے تو عوام اس کے خلاف سڑکوں پر کیوں آتے ہیں؟ یہ درست ہے کہ کسی ایک ادارے کی نجکاری کے خلاف سارے عوام سڑکوں پر نہیں آتے کیونکہ وہ براہ راست کسی ایک ادارے کی نجکاری سے متاثر نہیں ہوتے لیکن عوام مجموعی طور پر نجکاری کے خلاف ہوتے ہیں۔ کیا رائے عامہ کی یہ خلاف ورزی جمہوریت کے مطابق ہے؟
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ سابقہ حکومت بھی نجکاری پر عمل پیرا رہی ہے اور اب تک پچاسوں قومی اداروں کی نجکاری ہو چکی ہے۔
اس اقدام کا واحد مقصد یا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ قومی ادارے نقصان میں جاتے ہیں۔ ان اداروں کو نقصان سے بچانے کا واحد طریقہ نجاری ہے۔ جیسے ہی کسی قومی ادارے کے تمام اختیارات پرائیویٹ انتظامیہ کے ہاتھوں میں آتے ہیں نقصان فائدے میں بدل جاتے ہیں یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے کہا جاتا ہے کہ دیگ کو دیکھنے کے لیے چاول کے چند دانوں کو دیکھا جاتا ہے اور پاکستانی عوام عشروں سے چاول کے دانے دیکھتے آ رہے ہیں۔
کراچی میں متحدہ نے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سیٹیں جیت لی ہیں، جو بہ ظاہر تعجب انگیز یوں ہیں کہ متحدہ برسوں سے جن حالات کا شکار ہے اور میڈیا ان حالات کی تصویر کشی جس طرح کرتا رہا ہے اس کے پس منظر میں عام خیال یا توقع یہ تھی کہ متحدہ اتنی سیٹیں لے ہی نہیں سکتی لیکن متحدہ نے اتنی سیٹیں لے لیں کہ کراچی میں میٹرو ڈپٹی میئر اور 4 اضلاع کے چیئرمین وائس چیئرمین اپنے لا سکتی ہے۔
متحدہ کے پاس ماضی میں بھی یہ اختیارات رہے ہیں اور مصطفی کمال کی سربراہی میں بلدیاتی اداروں نے وہ کمال کر دکھایا کہ ملک کے اندر اور باہر اس کی واہ واہ ہی ہوتی رہی۔ کراچی کے عوام بلدیاتی اداروں کے بغیر بے انتہا مسائل اور کسمپرسی کے شکار ہیں۔ ہر طرف مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ کیا متحدہ ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
بلدیاتی اداروں کی افادیت اس شرط سے مشروط ہے کہ اسے وہ سارے اختیارات مل جائیں جو آئینی طور پر اسے ملنے چاہئیں لیکن صرف کراچی والوں کو ہی یہ شکایت نہیں کہ ایسے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں جن کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کو قدم قدم پر صوبائی حکومت اور بیورو کریسی کا محتاج رہنا پڑے گا۔ یہ شکایت پورے ملک کے بلدیاتی اداروں کو ہے جن میں پنجاب بھی شامل ہے۔ کیا انتظامی اور مالیاتی اختیارات کے بغیر بلدیاتی نظام موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب حاصل کیے بغیر نہ کراچی کا میئر کچھ کر سکتا ہے نہ لاہور یا کسی اور شہر کا۔