ٹیکس چوریدرآمدکنندہ کوواجبات جرمانے سمیت دینے کاحکم

صنعتی سفوف کی درآمدمیں غلط بیانی سے1کروڑ38لاکھ64ہزارکاٹیکس بچایا تھا

صنعتی سفوف کی درآمدمیں غلط بیانی سے1کروڑ38لاکھ64ہزارکاٹیکس بچایا تھا فوٹو: فائل

KARACHI:
محکمہ کسٹمز کے ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ نے ٹائی ٹینیم ڈی اوکسائیڈکے کنسائمنٹ کو مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئرکیے جانے کا جرم ثابت ہونے پر درآمدکنندہ پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹائی ٹینیم ڈی اوکسائیڈ ایک سفید رنگ کا سفوف ہے جو بہت سی صنعتوں مثلاً پلاسٹک، ظروف سازی، ربڑ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایاکہ درآمدکنندہ میسرز عبدالغفارکی جانب سے ٹائی ٹینیم ڈی اوکسائیڈکے درآمدی کنسائمنٹ کی کلیئرنس کیلیے پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی) کا غلط استعمال کیا گیا ۔


جس سے قومی خزانہ کو 1 کروڑ 36 لاکھ سے زائد کا نقصان پہنچایاگیا تاہم بعد ازکسٹمزکلیئرنس جب محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی جانب سے اس کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کی گئی توانکشاف ہواکہ میسرز عبدالغفارنے گڈز ڈیکلریشن میں ایچ ایس کوڈ3206.1100 ظاہر کرکے ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں 1کروڑ 38 لاکھ 64 ہزار روپے کی چوری کی حالانکہ ایسی اشیا کے کنسائمنٹس کی ایچ ایس کوڈ 2823.0010کے تحت کسٹمز کلیئرنس کی جاتی ہے جس پر ڈیوٹی وٹیکس شرح زائد ہے۔

ڈائریکٹوریٹ نے کنٹراوینشن رپورٹ متعلقہ کسٹمز ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ کو ارسال کردی جس پر کلکٹریٹ نے حقائق وشواہد کا جائزہ لے کر درآمدکنندہ کو ہدایت کی کہ وہ ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں چوری کیے گئے 1کروڑ 38 لاکھ 64 ہزارروپے قومی خزانہ میں جمع کرائیں جبکہ جرم ثابت ہونے پر درآمدکنندہ پر 5لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
Load Next Story