سندھ کے مری ’گورکھ ہل‘ کے یاد گار لمحات
جب چاند کی روشنی ڈھلی اور سورج نے اپنے دامن کو وسیع کیا ورکرنیں پڑیں تو گورکھ ہل کا حسن مزید نکھر گیا۔
گورکھ ہل کی خوبصورتی دیکھ کر تو ایک لمحے کے لئے آپ بھول ہی جاتے ہیں کہ آپ سندھ میں ہیں کیونکہ یہاں کا موسم میدانی علاقوں سے یکسر مختلف ہے۔
"اگر نیلے نیلے امبر کا نظارہ تمہاری روح کو سرشار کردیتا ہے، نوزائیدہ کلیاں تمہارے جذبات میں ہلچل مچا دیتی ہیں، اور تم مناظر کی سرگوشیاں سمجھ لیتے ہو تو مبارک ہو کہ تمہارا دل زندہ ہے''۔
(ایلیونورا ڈیوز)
جی ہاں اگر آپ زندہ دل ہیں اور نیلگوں آسمان، اور سرمئی بادلوں سے چھُپے کوہساروں اور سندھ میں ہی برف باری کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو وادی مہران میں ایک ہی جگہ ہے گورکھ ہل اسٹیشن، کیر تھر کے پہاڑی دامن میں سندھ، بلوچستان کی سرحدی پٹی پر واقع اور سطح سمندر سے 5688 فٹ بلند ہے۔ گورکھ ہل نے مغرب سے سندھ کی سرحد کو بلوچستان سے ملا رکھا ہے۔ یہ وادی مہران کا واحد بلند تفریحی اور پُر فضا مقام ہے۔ جہاں موسم سرما میں درجہِ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ 2008ء میں تو یہاں کی تمام پہاڑیوں نے برف کی چادر اوڑھ لی تھی اور اِس سال یعنی فروری 2008ء میں بھی 4 انچ تک برف پڑی تھی۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
دستیاب معلومات کے مطابق گورکھ ہل اسٹیشن کو 1860 میں اس وقت کے انگریز سیاح جارج نے دریافت کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گورکھ ایک ہندوعورت گرکھ کا نام تھا جو بگڑ کر گورکھ بن گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گورکھ بلوچی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ٹھنڈا مقام ہے۔ تاہم گورکھ ہل اسٹیشن کی ترقی و تعمیر کا منصوبہ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی اہم ترجیحات میں شامل رہا تھا۔ یہی سبب ہے کے محترمہ بینظیر بھٹو نے 1989ء میں اپنے پہلے دورِ اقتدار میں اِس منصوبے کو شروع کیا تھا اور ان کے ہی دوسرے دورِ حکومت میں گورکھ کی ترقی کے لئے عملی اقدامات کئے گئے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
گذشتہ دنوں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد یہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ کراچی سے صبح 9 بجے نکلا ہمارا قافلہ تقریباً 2 بجے دادو پہنچا۔ یہاں ہمارے پہنچنے کی اطلاع "قلندر ہوٹل'' میں پہلے ہی کردی گئی تھی۔ ہوٹل پہنچے تو وادی مہران کے روائتی کھانے میز پر سجے ہوئے تھے۔ تازہ اور خوش ذائقہ کھانا اور اسپیشل چائے کے باعث لطف دوبالا ہوگیا۔ ظہرانہ، نماز اور چائے پانی سے فارغ ہو کر دوبارہ عازمِ سفر ہوئے۔ دادو سے گورکھ ہل کا فاصلہ تقریباً 94 کلو میٹر ہے اور یہ سفر 2 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ واہی پانڈی سے آگے کا راستہ جیپوں کا ہے کیونکہ واہی پانڈی سے گورکھ ہل تک سڑک بل کھاتی خطرناک کھائیوں اور چڑھائی پر مشتمل ہے، لہٰذا واہی پانڈی پہنچ کر ہم نے بھی گاڑی تبدیل کی اور کوسٹر سے پوٹھوہار جیپ پر منتقل ہوئے۔ یہاں سے گورکھ ہل 54 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
ہماری جیپ کے ڈرائیور اشفاق گو کہ بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے لیکن سندھی بھی روانی سے بولتے ہیں۔ انتہائی ماہر اور منجھا ہوا ڈرائیور، کئی خطرناک موڑ پر جب سانسیں رکنے لگتیں تو اس کی مہارت کو داد دینے کو جی چاہتا تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف سیاہ چٹانیں واقع ہیں، جن میں پہاڑی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں۔ مختلف اقسام کے پودے اور جھاڑیاں بھی اس راستے پر دیکھی جاسکتی تھی۔ کچھ فاصلے کے بعد پہاڑی کی چوٹی پر ایک اسٹاپ پوائنٹ موجود ہے۔ جسے مقامی ڈرائیور پنجی تریح (سندھی زبان میں 35) کہتے ہیں کیونکہ یہ واہی پنڈی سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں فائبر گلاس کے شیڈز کے نیچے بینچوں کے پاس عام طور پر ڈرائیورز گاڑی روک کر تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں۔ کیونکہ اس پوائنٹ کے بعد سے بلندی کی جانب چکردار اور پُرخطرسفر شروع ہوجاتا ہے۔ یہ خطرناک راستہ دیکھنے میں کسی بڑے سانپ کی طرح ہے، جو پہاڑی کی طرف جارہا ہو۔ ڈھلوان شاہراہ پر ایسے متعدد خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک منجھا ہوا ڈرائیور ہی گذر سکتا ہے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
گورکھ ہل سے کچھ پہلے ایک خطرناک موڑ "خیوال لاک" موڑ کے نام سے ہے اور یہاں سے اوپر جاتے ہوئے ٹریک پر چار خطرناک خم کھائے ہوئے موڑ بھی ہیں۔ ماہر ڈرائیورز بھی "خیوال لاک" موڑ سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ جب یہاں کوئی باقاعدہ شاہراہ نہیں تھی تو لوگ اکثر گاڑی سے اتر کر پیدل ہی اوپر روانہ ہوجاتے تھے، اور گاڑی گذارنے کا خطرہ اکیلے ڈرائیور کو اٹھانا پڑتا تھا۔ ایک بار جب آپ یہاں سے گذر جاتے ہیں اور بلندی بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ کچے پکے اور بل کھاتے خطرناک راستوں سے ہوتے ہوئے ہم بھی غروب آفتاب سے کچھ قبل گورکھ ہل کی چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔ "گورکھ ریسٹورنٹ اینڈ سمر ہٹ" پرمنیجر جُمّن جمالی نے استقبال کیا، اور گرم گرم چائے پیش کی۔ کیونکہ سورج غروب ہونے ہی والا تھا۔ لہٰذا ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے کیلئے ہم پہاڑ کے ایک ٹیلے پر پہنچ گئے۔ پُر ہیبت اور مہیب بلند و بالا پہاڑ اور غروب ہوتا ہوا سورج فطرت کی عظمتوں اور رفعتوں کی یاد دلاتا ہے اور یہاں کی سحر طاری کردینے والی خوبصورتی دنیا کے تمام غموں کو بھلانے کے لئے کافی ہے۔ اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہوا میں خُنکی بڑھنی لگی تو ہم بھی سامنے پہاڑ کے دامن میں واقع گیسٹ ہاﺅس میں اپنے کمرے کی جانب لپکے۔ تازہ دم ہو کر جب واپس نیچے ریسٹورنٹ پہنچے تو ایک بھرپور عشائیہ ہمارے انتظار میں تھا۔ کھانے کے بعد چائے کی محفل سجی تو گروپ فوٹو کا دور بھی چلا۔ اُس کے بعد ہم نے سامنے گورکھ کی چوٹی ''بے نظیر ویو پوائنٹ'' کی جانب قدم بڑھا دیئے، یہاں آپ جیپ پر بھی با آسانی پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایڈونچر اور ہائیکنگ کے شوقین ہیں تو پیدل جانے کا لطف ہی الگ ہے۔ سال کا "سپر مُون" اور چودھویں کا چاند ہونے کی وجہ سے آج کچھ زیادہ ہی روشنی تھی۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
گوکہ رات کا کھانا کھا کر ہم صرف چہل قدمی کی نیت سے یہاں آئے تھے اور ہمارا ارادہ تھا کہ رات کمروں میں سونے کے بعد صبح فجر کہ وقت یہاں آئیں گے لیکن یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ کمروں میں سونا تو گویا ایسے ہی ہے ''جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے''۔ سیاح راستے کی دشواریاں بھول جاتا ہے اور حقیقتاً احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے۔ اس مقام کی خوبصورتی دیکھ کر تو ایک لمحے کے لئے آپ بھول ہی جاتے ہیں کہ آپ سندھ میں ہیں کیونکہ یہاں کا موسم میدانی علاقوں سے یکسر مختلف ہے۔
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، آسمان پہ تیرتے بادل، بلند و بالا پہاڑ اور خطرناک کھائیوں کے سحر انگیز مناظرسانسیں روک دینے کیلئے کافی ہے۔ ہر طرف موجود چھوٹی بڑی پہاڑی چوٹیاں اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر طاری کردیتا ہے۔ رات چڑھتے ہی سیاحوں کی مختصر خیمہ بستی آباد ہوچکی تھی۔ ان خیموں سے نکلتی ہوئی رنگ برنگی روشنیاں اورکانوں میں رس گھولتی موسیقی کی آواز نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا۔ ہل ٹاپ کے ٹریک پر چلتے اور ان خوبصورت لمحات کو کیمرے میں محفوظ کرتے ہوئے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔ طلوع آفتاب سے کچھ قبل ہم بینظیر پوائنٹ کے سب سے آخری ہٹ پر پہنچے جہاں سورج نکلنے میں شاید 30 منٹ باقی تھے۔ لہٰذا کمر سیدھی کرنے کیلئے فائبر گلاس کے شیڈز کے نیچے لوہے کی بینچ پر لیٹ گئے۔ یہاں کافی ٹھنڈ محسوس ہوئی تو نیچے ٹائلوں پر لیٹنے کی کوشش کی مگر ٹائلیں بھی ٹھنڈی تھیں لیکن بہرحال کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ کر لیٹ گئے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
20 منٹ بعد ہی طلوع آفتاب کا ماحول بن گیا۔ لہٰذا فوراً اُٹھ کر کیمرہ اور اسٹینڈ سنبھالا اور"سن رائزنگ" کے اس خوبصورت نظارے کو محفوظ کرنے لگے، اسی دوران رات پیچھے رہ جانے والے لوگ بھی یہاں پہنچ چکے تھے۔ چاند کی روشنی کے ڈھلنے کے بعد صبح سورج کی کرنیں پڑیں تو گورکھ ہل کا حسن مزید نکھر گیا۔ شہری زندگی کے ہنگاموں اور آلودگی سے دور اس بیاںباں میں پہنچ کر زندگی کا احساس ہورہا تھا۔
ہل ٹاپ کے ٹریک سے واپس نیچے ریستوران پہنچے تو بھرپور ناشتے کا اہتمام تھا۔ ناشتے کے دوران ہی منیجر جمن جمالی سے ''گورکھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی" سے متعلق بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ریسٹورنٹ، ٹک شاپ اور اس سے متصل پہاڑ کے ٹیلے میں 8 کمروں کا گیسٹ ہاﺅس صرف 3 ماہ کے قلیل عرصے میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جبکہ ریستوران کے بالکل سامنے والے پہاڑ پر ایک ڈبل اسٹوری فیملی ریزورٹ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ حکومتی عہدیداران اور وی آئی پیز کے لئے ایک ہیلی پیڈ بھی تیار کیا جاچکا ہے۔ جبکہ فیملی پارک اور مسجد کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اس کے علاوہ واٹر اسٹوریج کیلئے ایک بڑا ٹینک بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ جس میں 2 لاکھ گیلن تک پانی کواسٹور کیا جائے گا اس ٹینک کی تعمیر کے بعد یہاں شجر کاری کی جاسکے گی۔ "گورکھ ریسٹورنٹ اینڈ سمر ہٹ" بیک وقت 1000 افراد کو تمام سہولیات فراہم کرسکتا ہے اور کیمپنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ جیپوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا جس سے مقامی افراد کو اچھا روزگار بھی میسر آگیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دادو سے گورکھ ہل تک سڑک کی حالت نا بہ گفتبہ ہونے کے سبب سیاح اپنی ذاتی گاڑی میں یہاں تک نہیں پہنچ پاتے لہذا اِس ضمن میں بھی کوششیں جاری ہیں کہ دادو سے گورکھ تک کی سڑک کی از سرِ نو تعمیر کی جائے تاکہ خواہشمند افراد اپنی گاڑی میں با آسانی پہنچ سکیں۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا میں فعال نجی ٹورز آپریٹر کی بدولت یہاں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ "گورکھ ریسٹورنٹ اینڈ سمر ہٹ" کی جانب سے واہی پانڈی تا گورکھ ہل گروپ کیلئے انتہائی مناسب قیمت پر مکمل پیکج کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ جس میں جیپ، رہائش اور کھانے پینے کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔ گرمیوں میں جون جولائی یہاں کے سفر کے لئے بہترین وقت ہے۔ البتہ گرمیوں کی راتوں میں بھی موسم سرد ہونے کے سبب آپ یہاں جیکٹ پہننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جبکہ موسم سرما میں دسمبر اور جنوری بہترین مہینے ہیں، ان دنوں رات کو درجہ حرارت منفی 10 تک بھی چلا جاتا ہے۔ جس کے سبب یہاں پانی بھی جمنا شروع ہوجاتا ہے اور ان دنوں گورکھ ہل کے مختلف حصوں میں مقیم قبائل بھی سردیوں کا وقت میدانوں میں گذارتے ہیں۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک طویل عرصے بعد گورکھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو لوگوں کی سہولت کے لیے کام کرنے کا خیال آیا لیکن جب آیا تو قلیل مدت میں بہت کام کر دکھایا ہے۔ لیکن اب بھی یہاں کافی توجہ طلب اُمور ہے جس پر کام کیا جا سکتا جس میں سرفہرست دادو سے گورکھ تک سڑک کی از سر نو تعمیر، پانی، ہل اسٹیشن کے لیے دیگر سہولتوں میں قدرتی گیس کی فراہمی، موبائل فون ٹاورز ،چیئرلفٹ اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ریسکیو اور میڈیکل کا عملہ سر فہرست ہے۔ اگر اِن شعبوں پر کام ہوجائے تو کوئی دو رائے نہیں گورکھ ایک کامیاب ہل اسٹیشن بن سکتا ہے اور ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے جس سے حکومت کے لیے آمدنی اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
[poll id="833"]
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔
(ایلیونورا ڈیوز)
جی ہاں اگر آپ زندہ دل ہیں اور نیلگوں آسمان، اور سرمئی بادلوں سے چھُپے کوہساروں اور سندھ میں ہی برف باری کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو وادی مہران میں ایک ہی جگہ ہے گورکھ ہل اسٹیشن، کیر تھر کے پہاڑی دامن میں سندھ، بلوچستان کی سرحدی پٹی پر واقع اور سطح سمندر سے 5688 فٹ بلند ہے۔ گورکھ ہل نے مغرب سے سندھ کی سرحد کو بلوچستان سے ملا رکھا ہے۔ یہ وادی مہران کا واحد بلند تفریحی اور پُر فضا مقام ہے۔ جہاں موسم سرما میں درجہِ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ 2008ء میں تو یہاں کی تمام پہاڑیوں نے برف کی چادر اوڑھ لی تھی اور اِس سال یعنی فروری 2008ء میں بھی 4 انچ تک برف پڑی تھی۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
دستیاب معلومات کے مطابق گورکھ ہل اسٹیشن کو 1860 میں اس وقت کے انگریز سیاح جارج نے دریافت کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گورکھ ایک ہندوعورت گرکھ کا نام تھا جو بگڑ کر گورکھ بن گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گورکھ بلوچی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ٹھنڈا مقام ہے۔ تاہم گورکھ ہل اسٹیشن کی ترقی و تعمیر کا منصوبہ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی اہم ترجیحات میں شامل رہا تھا۔ یہی سبب ہے کے محترمہ بینظیر بھٹو نے 1989ء میں اپنے پہلے دورِ اقتدار میں اِس منصوبے کو شروع کیا تھا اور ان کے ہی دوسرے دورِ حکومت میں گورکھ کی ترقی کے لئے عملی اقدامات کئے گئے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
گذشتہ دنوں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد یہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ کراچی سے صبح 9 بجے نکلا ہمارا قافلہ تقریباً 2 بجے دادو پہنچا۔ یہاں ہمارے پہنچنے کی اطلاع "قلندر ہوٹل'' میں پہلے ہی کردی گئی تھی۔ ہوٹل پہنچے تو وادی مہران کے روائتی کھانے میز پر سجے ہوئے تھے۔ تازہ اور خوش ذائقہ کھانا اور اسپیشل چائے کے باعث لطف دوبالا ہوگیا۔ ظہرانہ، نماز اور چائے پانی سے فارغ ہو کر دوبارہ عازمِ سفر ہوئے۔ دادو سے گورکھ ہل کا فاصلہ تقریباً 94 کلو میٹر ہے اور یہ سفر 2 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ واہی پانڈی سے آگے کا راستہ جیپوں کا ہے کیونکہ واہی پانڈی سے گورکھ ہل تک سڑک بل کھاتی خطرناک کھائیوں اور چڑھائی پر مشتمل ہے، لہٰذا واہی پانڈی پہنچ کر ہم نے بھی گاڑی تبدیل کی اور کوسٹر سے پوٹھوہار جیپ پر منتقل ہوئے۔ یہاں سے گورکھ ہل 54 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
ہماری جیپ کے ڈرائیور اشفاق گو کہ بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے لیکن سندھی بھی روانی سے بولتے ہیں۔ انتہائی ماہر اور منجھا ہوا ڈرائیور، کئی خطرناک موڑ پر جب سانسیں رکنے لگتیں تو اس کی مہارت کو داد دینے کو جی چاہتا تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف سیاہ چٹانیں واقع ہیں، جن میں پہاڑی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی بستیاں ہیں۔ مختلف اقسام کے پودے اور جھاڑیاں بھی اس راستے پر دیکھی جاسکتی تھی۔ کچھ فاصلے کے بعد پہاڑی کی چوٹی پر ایک اسٹاپ پوائنٹ موجود ہے۔ جسے مقامی ڈرائیور پنجی تریح (سندھی زبان میں 35) کہتے ہیں کیونکہ یہ واہی پنڈی سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں فائبر گلاس کے شیڈز کے نیچے بینچوں کے پاس عام طور پر ڈرائیورز گاڑی روک کر تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں۔ کیونکہ اس پوائنٹ کے بعد سے بلندی کی جانب چکردار اور پُرخطرسفر شروع ہوجاتا ہے۔ یہ خطرناک راستہ دیکھنے میں کسی بڑے سانپ کی طرح ہے، جو پہاڑی کی طرف جارہا ہو۔ ڈھلوان شاہراہ پر ایسے متعدد خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک منجھا ہوا ڈرائیور ہی گذر سکتا ہے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
گورکھ ہل سے کچھ پہلے ایک خطرناک موڑ "خیوال لاک" موڑ کے نام سے ہے اور یہاں سے اوپر جاتے ہوئے ٹریک پر چار خطرناک خم کھائے ہوئے موڑ بھی ہیں۔ ماہر ڈرائیورز بھی "خیوال لاک" موڑ سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ جب یہاں کوئی باقاعدہ شاہراہ نہیں تھی تو لوگ اکثر گاڑی سے اتر کر پیدل ہی اوپر روانہ ہوجاتے تھے، اور گاڑی گذارنے کا خطرہ اکیلے ڈرائیور کو اٹھانا پڑتا تھا۔ ایک بار جب آپ یہاں سے گذر جاتے ہیں اور بلندی بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ کچے پکے اور بل کھاتے خطرناک راستوں سے ہوتے ہوئے ہم بھی غروب آفتاب سے کچھ قبل گورکھ ہل کی چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔ "گورکھ ریسٹورنٹ اینڈ سمر ہٹ" پرمنیجر جُمّن جمالی نے استقبال کیا، اور گرم گرم چائے پیش کی۔ کیونکہ سورج غروب ہونے ہی والا تھا۔ لہٰذا ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے کیلئے ہم پہاڑ کے ایک ٹیلے پر پہنچ گئے۔ پُر ہیبت اور مہیب بلند و بالا پہاڑ اور غروب ہوتا ہوا سورج فطرت کی عظمتوں اور رفعتوں کی یاد دلاتا ہے اور یہاں کی سحر طاری کردینے والی خوبصورتی دنیا کے تمام غموں کو بھلانے کے لئے کافی ہے۔ اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہوا میں خُنکی بڑھنی لگی تو ہم بھی سامنے پہاڑ کے دامن میں واقع گیسٹ ہاﺅس میں اپنے کمرے کی جانب لپکے۔ تازہ دم ہو کر جب واپس نیچے ریسٹورنٹ پہنچے تو ایک بھرپور عشائیہ ہمارے انتظار میں تھا۔ کھانے کے بعد چائے کی محفل سجی تو گروپ فوٹو کا دور بھی چلا۔ اُس کے بعد ہم نے سامنے گورکھ کی چوٹی ''بے نظیر ویو پوائنٹ'' کی جانب قدم بڑھا دیئے، یہاں آپ جیپ پر بھی با آسانی پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایڈونچر اور ہائیکنگ کے شوقین ہیں تو پیدل جانے کا لطف ہی الگ ہے۔ سال کا "سپر مُون" اور چودھویں کا چاند ہونے کی وجہ سے آج کچھ زیادہ ہی روشنی تھی۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
گوکہ رات کا کھانا کھا کر ہم صرف چہل قدمی کی نیت سے یہاں آئے تھے اور ہمارا ارادہ تھا کہ رات کمروں میں سونے کے بعد صبح فجر کہ وقت یہاں آئیں گے لیکن یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ کمروں میں سونا تو گویا ایسے ہی ہے ''جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے''۔ سیاح راستے کی دشواریاں بھول جاتا ہے اور حقیقتاً احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے۔ اس مقام کی خوبصورتی دیکھ کر تو ایک لمحے کے لئے آپ بھول ہی جاتے ہیں کہ آپ سندھ میں ہیں کیونکہ یہاں کا موسم میدانی علاقوں سے یکسر مختلف ہے۔
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، آسمان پہ تیرتے بادل، بلند و بالا پہاڑ اور خطرناک کھائیوں کے سحر انگیز مناظرسانسیں روک دینے کیلئے کافی ہے۔ ہر طرف موجود چھوٹی بڑی پہاڑی چوٹیاں اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر طاری کردیتا ہے۔ رات چڑھتے ہی سیاحوں کی مختصر خیمہ بستی آباد ہوچکی تھی۔ ان خیموں سے نکلتی ہوئی رنگ برنگی روشنیاں اورکانوں میں رس گھولتی موسیقی کی آواز نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا۔ ہل ٹاپ کے ٹریک پر چلتے اور ان خوبصورت لمحات کو کیمرے میں محفوظ کرتے ہوئے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔ طلوع آفتاب سے کچھ قبل ہم بینظیر پوائنٹ کے سب سے آخری ہٹ پر پہنچے جہاں سورج نکلنے میں شاید 30 منٹ باقی تھے۔ لہٰذا کمر سیدھی کرنے کیلئے فائبر گلاس کے شیڈز کے نیچے لوہے کی بینچ پر لیٹ گئے۔ یہاں کافی ٹھنڈ محسوس ہوئی تو نیچے ٹائلوں پر لیٹنے کی کوشش کی مگر ٹائلیں بھی ٹھنڈی تھیں لیکن بہرحال کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ کر لیٹ گئے۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
20 منٹ بعد ہی طلوع آفتاب کا ماحول بن گیا۔ لہٰذا فوراً اُٹھ کر کیمرہ اور اسٹینڈ سنبھالا اور"سن رائزنگ" کے اس خوبصورت نظارے کو محفوظ کرنے لگے، اسی دوران رات پیچھے رہ جانے والے لوگ بھی یہاں پہنچ چکے تھے۔ چاند کی روشنی کے ڈھلنے کے بعد صبح سورج کی کرنیں پڑیں تو گورکھ ہل کا حسن مزید نکھر گیا۔ شہری زندگی کے ہنگاموں اور آلودگی سے دور اس بیاںباں میں پہنچ کر زندگی کا احساس ہورہا تھا۔
ہل ٹاپ کے ٹریک سے واپس نیچے ریستوران پہنچے تو بھرپور ناشتے کا اہتمام تھا۔ ناشتے کے دوران ہی منیجر جمن جمالی سے ''گورکھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی" سے متعلق بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ریسٹورنٹ، ٹک شاپ اور اس سے متصل پہاڑ کے ٹیلے میں 8 کمروں کا گیسٹ ہاﺅس صرف 3 ماہ کے قلیل عرصے میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جبکہ ریستوران کے بالکل سامنے والے پہاڑ پر ایک ڈبل اسٹوری فیملی ریزورٹ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ حکومتی عہدیداران اور وی آئی پیز کے لئے ایک ہیلی پیڈ بھی تیار کیا جاچکا ہے۔ جبکہ فیملی پارک اور مسجد کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اس کے علاوہ واٹر اسٹوریج کیلئے ایک بڑا ٹینک بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ جس میں 2 لاکھ گیلن تک پانی کواسٹور کیا جائے گا اس ٹینک کی تعمیر کے بعد یہاں شجر کاری کی جاسکے گی۔ "گورکھ ریسٹورنٹ اینڈ سمر ہٹ" بیک وقت 1000 افراد کو تمام سہولیات فراہم کرسکتا ہے اور کیمپنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ جیپوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا جس سے مقامی افراد کو اچھا روزگار بھی میسر آگیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دادو سے گورکھ ہل تک سڑک کی حالت نا بہ گفتبہ ہونے کے سبب سیاح اپنی ذاتی گاڑی میں یہاں تک نہیں پہنچ پاتے لہذا اِس ضمن میں بھی کوششیں جاری ہیں کہ دادو سے گورکھ تک کی سڑک کی از سرِ نو تعمیر کی جائے تاکہ خواہشمند افراد اپنی گاڑی میں با آسانی پہنچ سکیں۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا میں فعال نجی ٹورز آپریٹر کی بدولت یہاں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ "گورکھ ریسٹورنٹ اینڈ سمر ہٹ" کی جانب سے واہی پانڈی تا گورکھ ہل گروپ کیلئے انتہائی مناسب قیمت پر مکمل پیکج کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ جس میں جیپ، رہائش اور کھانے پینے کا مکمل انتظام ہوتا ہے۔ گرمیوں میں جون جولائی یہاں کے سفر کے لئے بہترین وقت ہے۔ البتہ گرمیوں کی راتوں میں بھی موسم سرد ہونے کے سبب آپ یہاں جیکٹ پہننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جبکہ موسم سرما میں دسمبر اور جنوری بہترین مہینے ہیں، ان دنوں رات کو درجہ حرارت منفی 10 تک بھی چلا جاتا ہے۔ جس کے سبب یہاں پانی بھی جمنا شروع ہوجاتا ہے اور ان دنوں گورکھ ہل کے مختلف حصوں میں مقیم قبائل بھی سردیوں کا وقت میدانوں میں گذارتے ہیں۔
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
فوٹو کریڈٹ: عبدالستار کشف
یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک طویل عرصے بعد گورکھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو لوگوں کی سہولت کے لیے کام کرنے کا خیال آیا لیکن جب آیا تو قلیل مدت میں بہت کام کر دکھایا ہے۔ لیکن اب بھی یہاں کافی توجہ طلب اُمور ہے جس پر کام کیا جا سکتا جس میں سرفہرست دادو سے گورکھ تک سڑک کی از سر نو تعمیر، پانی، ہل اسٹیشن کے لیے دیگر سہولتوں میں قدرتی گیس کی فراہمی، موبائل فون ٹاورز ،چیئرلفٹ اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ریسکیو اور میڈیکل کا عملہ سر فہرست ہے۔ اگر اِن شعبوں پر کام ہوجائے تو کوئی دو رائے نہیں گورکھ ایک کامیاب ہل اسٹیشن بن سکتا ہے اور ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتا ہے جس سے حکومت کے لیے آمدنی اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
[poll id="833"]
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔