کیا برف پگھل گئی ہے

دونوں ملکوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو بنی بنائی بات کو بگاڑ دیتے ہیں اور حالات پھر اسی نہج پر پہنچ جاتے ہیں

ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں اور اس کے ساتھ کرکٹ سیریز کا بھی آغاز کریں۔ فوٹو : فائل

لاہور:
پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی نوعیت بھی دنیا بھر میں عجیب ہے۔ کبھی تعلقات کی بحالی اور قربتوں کو بڑھانے کی بات ہوتی ہے تو کبھی نفرتوں کی خلیج میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

دونوں ملکوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو بنی بنائی بات کو بگاڑ دیتے ہیں اور حالات پھر اسی نہج پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔ ماضی قریب میں پے در پے ایسے واقعات ہوئے جن سے تعلقات کی سرد مہری میں گرم جوشی کی ہلکی سی رمق پیدا ہوتی محسوس ہوئی لیکن پھر کوئی ایسا تاثر سامنے آیا گویا سب نظر کا دھوکہ تھا۔ البتہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقعہ پر بھارتی وزیر خارجہ مس سشما سوراج کی پاکستان آمد اور بدلے ہوئے لہجے میں ان کی گفتگو سے ایک بار پھر دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں برف پگھلنے کی توقع نظر آنے لگی۔

قبل ازیں بھارت کا اصرار تھا کہ وہ صرف دہشت گردی کے مسئلہ پر ہی بات کرے گا جب کہ کشمیر کے ذکر پر وہ بھڑک اٹھتا تھا تاہم اب وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ جامع مذاکرات میں جموں و کشمیر، سیاچن، امن و امان اور تجارت سمیت مختلف تنازعات پر بات ہو گی، اس سلسلے میں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ آئندہ ماہ ملاقات کرینگے۔ ان مذاکرات سے فوری طور پر دیرینہ مسائل حل ہونے کی امید تو نہیں تاہم اس سے کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی۔


جناب سرتاج عزیز کے مطابق ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پاکستان کا وقار بحال ہوا ہے جس میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت سے متعلق قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا امن و امان کے حوالے سے بھارت اور افغانستان کے ساتھ موثر انداز میں بات ہوئی ہے، بھارت سے تعلقات میں پیشرفت ہوئی ہے۔

مذاکراتی عمل سے کشیدگی کم ہو گی اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات میں کمی آئے گی۔ کرکٹ کے حوالے سے مشیر امور خارجہ کا کہنا تھا کہ مشکلات تب پیدا ہوتی ہیں جب تعلقات میں کشیدگی اور سرد مہری ہو، تعلقات بہتر ہوں گے تو کرکٹ بھی شروع ہو جائے گی۔

افغان صدر اشرف غنی نے بھی کانفرنس میں اطمینان کا اظہار کیا حالانکہ گزشتہ عرصے میں پاکستان کے بارے میں ان کا لہجہ بھی سابق افغان صدر حامد کرزئی جیسا تلخ و ترش ہو چکا تھا اور افغانستان میں ہونے والی دھشت گردی کی وارداتوں کا الزام انھوں نے بھی پاکستان پر عائد کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم اس بار انھوں نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جو بہت مثبت بات تھی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سرتاج عزیز نے بتایا سشما سوراج سے کرکٹ پر غیر رسمی بات ہوئی تھی، ان پر واضح کیا تھا جب دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے تو سیریز کیوں نہیں ہو رہی جس پر انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ سے سیریز کا اعلان نہیں کیا، اب جامع مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، اس لیے کرکٹ سیریز پر بھی پیشرفت ہو گی، مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہو گا۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی گزشتہ روز نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی جس میں پاک بھارت تعلقات، دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کی بحالی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، عمران خان نے کہا ہے کہ دو ہمسایہ ممالک ہمیشہ دشمن نہیں رہ سکتے، پاکستان اور بھارت کو آگے بڑھنا چاہیے۔ عمران خان سے جب پوچھا گیا کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کی بات پر نریندر مودی نے کیا جواب دیا تو ان کا کہنا تھا کہ مودی نے جواب میں طویل مسکراہت دی تاہم میں اس کا مطلب نہیں بتا سکتا لیکن میں اسکو مثبت سمجھتا ہوں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عمران خان اور نریندر مودی ملاقات 10 منٹ تک جاری رہی۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی یہ سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ برف پگھل رہی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ہو گی۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل ہوتی ہے نہ ہی اختلافات کو ناقابل حل تصور کر کے امن سے رہا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت جنگیں لڑ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود تنازعات وہیں کے وہیں ہیں بلکہ زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنے تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کریں۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو اس حوالے سے زیادہ فراخ دل ہونا چاہیے کیونکہ گیند ان کے کورٹ میں ہے۔ مذاکرات سے بھارت انکار کر رہا ہے۔ پاکستان متعدد بار کہہ چکا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں اور اس کے ساتھ کرکٹ سیریز کا بھی آغاز کریں۔
Load Next Story