2015ء پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن

مالی سال 2014-15ء کےدوران بجلی کی پیداوار میں صرف 1.6فیصداضافہ ہواجو بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنےکے لیے ناکافی ہے

صورتحال تسلی بخش ہے لیکن ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON:
سال رواں پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے جس کا اقرار سٹیٹ بینک نے بھی کیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے معاشی منظرنامہ مجموعی طور پر مثبت نظر آ رہا ہے، مہنگائی ہدف سے کم اور مالیاتی کھاتہ بہتر رہنے کی توقع ہے۔ بلاشبہ بیشتر اہم معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے لیکن مجموعی صورتحال کو اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2014-15ء میں مجموعی سرکاری قرضے جی ڈی پی کے 64.8 فیصد رہے، جاری کھاتوں کا خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد اور مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.3 فیصد رہا۔ مالی سال 2014-15ء کے دوران بجلی کی پیداوار میں صرف 1.6 فیصد اضافہ ہوا جو بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔


نجی شعبے کے قرضے 371 ارب روپے کے مقابلے میں 208.7 ارب روپے تک محدود رہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلات زر میں بلند اضافے اور تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث بیرونی کھاتے کی صورتحال بہتر ہو گئی۔ قرض کے بوجھ میں کمی اس حقیقت کے باوجود ہوئی کہ پاکستان نے نومبر 2014 ء میں5 سالہ سکوک بانڈ کامیابی سے جاری کیے جس سے حکومت 500 ملین ڈالر کے ابتدائی ہدف کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ مالی سال ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال نے معیشت پر مضر اثرات مرتب کیے تھے لیکن آپریشن ضرب عضب اور دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں آج ملک میں دہشتگردی میں نمایاں کمی اور امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آنے کے بعد معیشت بھی استحکام کی جانب گامزن ہے۔

بہتر معاشی پالیسیوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے سبب سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے اور ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
Load Next Story