ووٹر نے حساب چکا دیا
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے محاذ آرائی کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے
zahedahina@gmail.com
RAMALLAH:
2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا پھر صدر مملکت کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے بعد ایوان بالا کے ارکان کا بالواسطہ انتخاب ہوا اور اب جمہوریت کی نرسری یعنی بلدیات کے انتخابات، تین مرحلوں میں منعقد ہو کر اختتام پذیر ہوئے ہیں۔ جمہوری تسلسل کی یہ شاندار مثال صرف ڈھائی برسوں کے اندر قائم ہوئی ہے، جس کی ماضی میں ہمیں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ نگاروں کے لیے بھی غور و فکر کے کئی در وا کیے ہیں۔ بلدیات کے انتخابات، منتخب جمہوری حکومت کے قیام کے ڈھائی سال کے بعد ہوئے۔ جمہوری حکومت کی آئینی میعاد پانچ سال ہے، اس طرح ان انتخابات کو ایک مفہوم میں وسط مدتی انتخابات قرار دیا جا سکتا ہے۔
برسر اقتدار جمہوری حکومتوں کے لیے اپنی آئینی میعاد کی نصف مدت کی تکمیل کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر انتخابات کرانے کا فیصلہ عموماً بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ پہلے ڈھائی برسوں کے دوران حکومتوں کی کارکردگی کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع نہیں ہوتے۔ حکومتیں اگر ابتدائی مرحلے میں مشکل فیصلے کرتی ہیں تو اس مدت کے دوران عوام کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ اصل ثمرات بعد میں نظر آتے ہیں۔
بہرحال، حالات کا جبر اور سپریم کورٹ کے دباؤ کے باعث صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو یہ انتخابات کرانے پڑے۔ بلدیاتی انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آ چکے ہیں اس کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو جس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا اندازہ خود اس جماعت کے قائدین کو بھی نہیں تھا۔ حکومت نے اب تک جو اصلاحات کی ہیں، ان کے ٹھوس نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔
اس لیے حکمران جماعت کے لیے یہ انتخابات اتنے آسان نہیں تھے، تاہم، پی ٹی آئی کی بدترین شکست نے سارے اندازوں کو تلپٹ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کو اب یہ غور کرنا ہو گا کہ نواز شریف اور ان کی حکومت کے خلاف اس قدر بھرپور مہم چلانے کے باوجود انھیں کامیابی کیوں حاصل نہیں ہوئی اور ووٹروں نے 2013ء کی طرح دوبارہ نواز شریف کو اتنا زبردست مینڈیٹ کیوں دیا؟
پی ٹی آئی کے رہنما ان دنوں بجا طور پر اس مسئلے پر غور کر رہے ہیں کہ عوام نے پے درپے انھیں کیوں مسترد کیا ہے؟ اس حوالے سے انھیں چند نکات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔ انھیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ 2013ء کے عام انتخابات کو دھاندلی کی پیداوار قرار دینا ان کی ایک بڑی سیاسی غلطی تھی۔ گزشتہ عام انتخابات میں اگر ایک منظم اور باضابطہ دھاندلی ہوئی ہوتی، عوام نے پی ایم ایل این کو ووٹ نہ ڈالے ہوتے اور نواز شریف کو جعلی مینڈیٹ دلوایا گیا ہوتا تو اس کے ردعمل میں عوام اپنا ''بدلہ اور انتقام'' 2015ء کے بلدیاتی انتخاب میں ضرور لیتے اور نواز لیگ کو نشانِ عبرت بنا دیتے۔
جمہوریت میں عوام اسی طرح اپنا حساب چکاتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے چونکہ 2013ء کے عوامی مینڈیٹ کو ''دھاندلی'' کا نام دے کر براہ راست ووٹروں کی توہین کی تھی لہٰذا انھوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو مسترد کر کے اس سے ''سیاسی انتقام'' لیا ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور غیر جمہوری طاقتوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور آئندہ اسے ''جعلی اور دھاندلی'' کہنے سے باز رہا جائے۔
کراچی سمیت چند شہروں کو چھوڑ کر پورے سندھ میں پی پی پی کو جو بے مثال کامیابی ملی ہے اس کے یقیناً کئی عوامل ہیں لیکن پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سندھ کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریوں سے تشبیہ دی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ 2013ء میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں دھاندلی کے ذریعے انتخابات جیتے تھے۔
لہٰذا ا پنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، سندھ کے ووٹروں نے بھی بلدیاتی انتخاب میں پی پی پی کو کامیاب کر کے اس امر کا اعادہ کر دیا کہ انھوں نے 2013ء میں پی پی پی کو ووٹ دیے تھے اور یہ کہ پی ٹی آئی نے ان کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کر کے ان کی توہین کی تھی، جس کا حساب بے باق کر دیا گیا ہے۔
کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص میں ایم کیو ایم کی غیر معمولی کامیابی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور ان کے دیگر رہنماؤں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پہلے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کو مینڈیٹ نہیں دیتے بلکہ ٹھپہ مافیا ووٹ ڈالنے کا کام کرتا ہے، یہ بھی کہا گیا کہ عوام ایم کیو ایم کے خوف سے ووٹ ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں، لہٰذا فوج اور رینجرز کی نگرانی میں اگر الیکشن کرائے جائیں تو نتائج بالکل مختلف ہوں گے۔ اس ''ناقص'' منطق کی بنیاد پر کراچی کو ''آزاد'' کرانے کا اعلان کیا گیا۔
ایم کیو ایم سے سیاسی اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی طرز سیاست کے بعض پہلوؤں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن یہ کہنا ایک بھیانک سیاسی غلطی ہو گی کہ 2013ء یا اس سے قبل کے انتخابات میں انھوں نے دھونس اور دھاندلی کے ذریعے ''جعلی مینڈیٹ'' حاصل کیا تھا۔
یہ غلطی بھی پی ٹی آئی سے سرزرد ہو گئی۔ عوام نے ان الزامات کو اپنی توہین کے مترادف گردانا اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انھوں نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو ناکامی سے دوچار کر کے ان کی سیاسی ''سرزنش'' کی۔ پی ٹی آئی کو اب معلوم ہو جانا چاہیے کہ سیاست کے میدان میں، عوام کے درست مینڈیٹ کو ''جعلی یا دھاندلی'' قرار دینے کا انجام ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل عوام اور ووٹروں میں توہین کا احساس پیدا کرتا ہے اور لوگ زیادہ شدت سے اپنی جماعتوں کو کامیاب کرتے ہیں۔
قومی، صوبائی، ضمنی اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی بھیانک ناکامیوں کے اسباب پر غور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے فاضل رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے طرز سیاست پر بھی نظر ثانی کریں کیونکہ اس کے باعث بھی ان کی عوامی پذیرائی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ سیاست میں جارحانہ انداز عموماً لوگوں کو پسند آتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو اس کی مثال ہیں۔ لیکن عوام ناشائستہ، نازیبا اور توہین آمیز سیاست کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ عوام جن سیاسی رہنماؤں کا احترام کرتے ہیں، جن سے محبت کرتے ہیں انھیں ووٹ دیتے ہیں۔
ان کی توہین کی جائے تو وہ اسے اپنی توہین تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار اور عوام کی نبض جاننے والے سیاسی رہنما اپنے بدترین مخالف رہنما پر بھی تنقید کرتے ہوئے ''بدتمیزی اور ناشائستگی'' کی سرخ لکیر کو کبھی عبور نہیں کرتے۔ کبھی ایسا ہو جائے تو وہ فوراً معذرت کر کے اس کی تلافی کر دیتے ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد اپنے حریف کے ووٹروں کا دل جیتنا ہونا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ دل دکھا کر دل نہیں جیتا جاتا۔ پی ٹی آئی نے اپنے مخالف رہنماؤں کی جتنی تضحیک کی، اس کے ردعمل میں ان رہنماؤں کو اتنی ہی زیادہ عوامی پذیرائی ملی۔ 2018ء تک یہ طرز عمل جاری رہا تو اس کا سیاسی انجام کیا ہو گا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
پی ٹی آئی کے سربراہ اور اہم رہنماؤں کو اگر سنجیدہ تجزیہ کرنے کا وقت ملے تو انھیں اِس نکتے پر بھی غور کر لینا چاہیے کہ عوام نے 60 سال کی طویل جدوجہد کے بعد جمہوریت حاصل کی ہے۔ جمہوریت اُن کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان کے عوام کو جمہوریت نے کتنا فائدہ پہنچایا ہے، محض 68 سال کے اندر یہ ملک ایک عالمی معاشی طاقت کے طور پر دنیا کے منظر نامے پر ابھر رہا ہے، یہاں غربت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور طاقتور مڈل کلاس کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایک وقت وہ تھا جب ہندوستان کے عوام ایک اسکوٹر کے لیے برسوں ترستے تھے اور آج وہ وقت ہے کہ جب اس ملک کا سیارہ مریخ تک پہنچ جاتا ہے۔ جمہوریت بے یقینی کی کیفیت کو ختم کرتی ہے اور تبدیلی لانے کے لیے عوام کو بااختیار بناتی ہے۔ اب پاکستان کے عوام آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لڑائی، جھگڑوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ مایوسی کی باتیں انھیں پسند نہیں آتیں۔ ایک اچھا رہنما عوام میں اشتعال پیدا نہیں کرتا، بلکہ اُن کے غصے کو کم کرتا ہے، بدترین دور میں بھی امید کی شمع جلا کر انھیں اندھیروں سے نکلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے محاذ آرائی کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جو سیاستدان اور سیاسی جماعتیں عوام کے مینڈیٹ کو قبول کریں گی، جن رہنماؤں سے عوام محبت کرتے ہیں ان کی توہین سے باز رہیں گی، لوگوں کو محاذ آرائی ، تشدد پر اکسانے سے گریز کرتے ہوئے، کسی بھی سطح پر اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے مسائل حل کریں گی، دوسروں کے گناہ شمار کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں گی ان کا مستقبل تابناک ہو گا۔
2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا پھر صدر مملکت کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے بعد ایوان بالا کے ارکان کا بالواسطہ انتخاب ہوا اور اب جمہوریت کی نرسری یعنی بلدیات کے انتخابات، تین مرحلوں میں منعقد ہو کر اختتام پذیر ہوئے ہیں۔ جمہوری تسلسل کی یہ شاندار مثال صرف ڈھائی برسوں کے اندر قائم ہوئی ہے، جس کی ماضی میں ہمیں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ نگاروں کے لیے بھی غور و فکر کے کئی در وا کیے ہیں۔ بلدیات کے انتخابات، منتخب جمہوری حکومت کے قیام کے ڈھائی سال کے بعد ہوئے۔ جمہوری حکومت کی آئینی میعاد پانچ سال ہے، اس طرح ان انتخابات کو ایک مفہوم میں وسط مدتی انتخابات قرار دیا جا سکتا ہے۔
برسر اقتدار جمہوری حکومتوں کے لیے اپنی آئینی میعاد کی نصف مدت کی تکمیل کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر انتخابات کرانے کا فیصلہ عموماً بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ پہلے ڈھائی برسوں کے دوران حکومتوں کی کارکردگی کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع نہیں ہوتے۔ حکومتیں اگر ابتدائی مرحلے میں مشکل فیصلے کرتی ہیں تو اس مدت کے دوران عوام کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ اصل ثمرات بعد میں نظر آتے ہیں۔
بہرحال، حالات کا جبر اور سپریم کورٹ کے دباؤ کے باعث صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو یہ انتخابات کرانے پڑے۔ بلدیاتی انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آ چکے ہیں اس کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو جس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا اندازہ خود اس جماعت کے قائدین کو بھی نہیں تھا۔ حکومت نے اب تک جو اصلاحات کی ہیں، ان کے ٹھوس نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔
اس لیے حکمران جماعت کے لیے یہ انتخابات اتنے آسان نہیں تھے، تاہم، پی ٹی آئی کی بدترین شکست نے سارے اندازوں کو تلپٹ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کو اب یہ غور کرنا ہو گا کہ نواز شریف اور ان کی حکومت کے خلاف اس قدر بھرپور مہم چلانے کے باوجود انھیں کامیابی کیوں حاصل نہیں ہوئی اور ووٹروں نے 2013ء کی طرح دوبارہ نواز شریف کو اتنا زبردست مینڈیٹ کیوں دیا؟
پی ٹی آئی کے رہنما ان دنوں بجا طور پر اس مسئلے پر غور کر رہے ہیں کہ عوام نے پے درپے انھیں کیوں مسترد کیا ہے؟ اس حوالے سے انھیں چند نکات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔ انھیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ 2013ء کے عام انتخابات کو دھاندلی کی پیداوار قرار دینا ان کی ایک بڑی سیاسی غلطی تھی۔ گزشتہ عام انتخابات میں اگر ایک منظم اور باضابطہ دھاندلی ہوئی ہوتی، عوام نے پی ایم ایل این کو ووٹ نہ ڈالے ہوتے اور نواز شریف کو جعلی مینڈیٹ دلوایا گیا ہوتا تو اس کے ردعمل میں عوام اپنا ''بدلہ اور انتقام'' 2015ء کے بلدیاتی انتخاب میں ضرور لیتے اور نواز لیگ کو نشانِ عبرت بنا دیتے۔
جمہوریت میں عوام اسی طرح اپنا حساب چکاتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے چونکہ 2013ء کے عوامی مینڈیٹ کو ''دھاندلی'' کا نام دے کر براہ راست ووٹروں کی توہین کی تھی لہٰذا انھوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو مسترد کر کے اس سے ''سیاسی انتقام'' لیا ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور غیر جمہوری طاقتوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور آئندہ اسے ''جعلی اور دھاندلی'' کہنے سے باز رہا جائے۔
کراچی سمیت چند شہروں کو چھوڑ کر پورے سندھ میں پی پی پی کو جو بے مثال کامیابی ملی ہے اس کے یقیناً کئی عوامل ہیں لیکن پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سندھ کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریوں سے تشبیہ دی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ 2013ء میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں دھاندلی کے ذریعے انتخابات جیتے تھے۔
لہٰذا ا پنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، سندھ کے ووٹروں نے بھی بلدیاتی انتخاب میں پی پی پی کو کامیاب کر کے اس امر کا اعادہ کر دیا کہ انھوں نے 2013ء میں پی پی پی کو ووٹ دیے تھے اور یہ کہ پی ٹی آئی نے ان کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کر کے ان کی توہین کی تھی، جس کا حساب بے باق کر دیا گیا ہے۔
کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص میں ایم کیو ایم کی غیر معمولی کامیابی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور ان کے دیگر رہنماؤں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پہلے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کو مینڈیٹ نہیں دیتے بلکہ ٹھپہ مافیا ووٹ ڈالنے کا کام کرتا ہے، یہ بھی کہا گیا کہ عوام ایم کیو ایم کے خوف سے ووٹ ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں، لہٰذا فوج اور رینجرز کی نگرانی میں اگر الیکشن کرائے جائیں تو نتائج بالکل مختلف ہوں گے۔ اس ''ناقص'' منطق کی بنیاد پر کراچی کو ''آزاد'' کرانے کا اعلان کیا گیا۔
ایم کیو ایم سے سیاسی اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی طرز سیاست کے بعض پہلوؤں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن یہ کہنا ایک بھیانک سیاسی غلطی ہو گی کہ 2013ء یا اس سے قبل کے انتخابات میں انھوں نے دھونس اور دھاندلی کے ذریعے ''جعلی مینڈیٹ'' حاصل کیا تھا۔
یہ غلطی بھی پی ٹی آئی سے سرزرد ہو گئی۔ عوام نے ان الزامات کو اپنی توہین کے مترادف گردانا اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انھوں نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو ناکامی سے دوچار کر کے ان کی سیاسی ''سرزنش'' کی۔ پی ٹی آئی کو اب معلوم ہو جانا چاہیے کہ سیاست کے میدان میں، عوام کے درست مینڈیٹ کو ''جعلی یا دھاندلی'' قرار دینے کا انجام ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل عوام اور ووٹروں میں توہین کا احساس پیدا کرتا ہے اور لوگ زیادہ شدت سے اپنی جماعتوں کو کامیاب کرتے ہیں۔
قومی، صوبائی، ضمنی اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی بھیانک ناکامیوں کے اسباب پر غور کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے فاضل رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے طرز سیاست پر بھی نظر ثانی کریں کیونکہ اس کے باعث بھی ان کی عوامی پذیرائی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ سیاست میں جارحانہ انداز عموماً لوگوں کو پسند آتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو اس کی مثال ہیں۔ لیکن عوام ناشائستہ، نازیبا اور توہین آمیز سیاست کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ عوام جن سیاسی رہنماؤں کا احترام کرتے ہیں، جن سے محبت کرتے ہیں انھیں ووٹ دیتے ہیں۔
ان کی توہین کی جائے تو وہ اسے اپنی توہین تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار اور عوام کی نبض جاننے والے سیاسی رہنما اپنے بدترین مخالف رہنما پر بھی تنقید کرتے ہوئے ''بدتمیزی اور ناشائستگی'' کی سرخ لکیر کو کبھی عبور نہیں کرتے۔ کبھی ایسا ہو جائے تو وہ فوراً معذرت کر کے اس کی تلافی کر دیتے ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد اپنے حریف کے ووٹروں کا دل جیتنا ہونا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ دل دکھا کر دل نہیں جیتا جاتا۔ پی ٹی آئی نے اپنے مخالف رہنماؤں کی جتنی تضحیک کی، اس کے ردعمل میں ان رہنماؤں کو اتنی ہی زیادہ عوامی پذیرائی ملی۔ 2018ء تک یہ طرز عمل جاری رہا تو اس کا سیاسی انجام کیا ہو گا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
پی ٹی آئی کے سربراہ اور اہم رہنماؤں کو اگر سنجیدہ تجزیہ کرنے کا وقت ملے تو انھیں اِس نکتے پر بھی غور کر لینا چاہیے کہ عوام نے 60 سال کی طویل جدوجہد کے بعد جمہوریت حاصل کی ہے۔ جمہوریت اُن کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان کے عوام کو جمہوریت نے کتنا فائدہ پہنچایا ہے، محض 68 سال کے اندر یہ ملک ایک عالمی معاشی طاقت کے طور پر دنیا کے منظر نامے پر ابھر رہا ہے، یہاں غربت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور طاقتور مڈل کلاس کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایک وقت وہ تھا جب ہندوستان کے عوام ایک اسکوٹر کے لیے برسوں ترستے تھے اور آج وہ وقت ہے کہ جب اس ملک کا سیارہ مریخ تک پہنچ جاتا ہے۔ جمہوریت بے یقینی کی کیفیت کو ختم کرتی ہے اور تبدیلی لانے کے لیے عوام کو بااختیار بناتی ہے۔ اب پاکستان کے عوام آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لڑائی، جھگڑوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ مایوسی کی باتیں انھیں پسند نہیں آتیں۔ ایک اچھا رہنما عوام میں اشتعال پیدا نہیں کرتا، بلکہ اُن کے غصے کو کم کرتا ہے، بدترین دور میں بھی امید کی شمع جلا کر انھیں اندھیروں سے نکلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے محاذ آرائی کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جو سیاستدان اور سیاسی جماعتیں عوام کے مینڈیٹ کو قبول کریں گی، جن رہنماؤں سے عوام محبت کرتے ہیں ان کی توہین سے باز رہیں گی، لوگوں کو محاذ آرائی ، تشدد پر اکسانے سے گریز کرتے ہوئے، کسی بھی سطح پر اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے مسائل حل کریں گی، دوسروں کے گناہ شمار کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں گی ان کا مستقبل تابناک ہو گا۔