خالی خزانے پاکستان کو بائیکاٹ سے روکنے لگے
عدم شرکت پر پی سی بی کوکئی ملین ڈالرزکا نقصان ہو گا، ڈھائی لاکھ ڈالر شرکت فیس بھی شامل
عدم شرکت پر پی سی بی کوکئی ملین ڈالرزکا نقصان ہو گا، ڈھائی لاکھ ڈالر شرکت فیس بھی شامل. فوٹو: فائل
خالی خزانے پاکستان کو ورلڈ ٹوئنٹی20کے بائیکاٹ سے روکنے لگے، عدم شرکت پرپی سی بی کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان ہو گا، اس میں سے ڈھائی لاکھ ڈالر شرکت فیس بھی شامل ہے، ہر میچ میں فتح پر انعام، مین آف دی میچ و دیگر رقم الگ ہوگی،البتہ پاکستان نے بھارتی سیکیورٹی پر خدشات کو جواز بنا کر اگر اپنا کیس درست انداز میں پیش کیا تو ایونٹ کے منافع سے حصہ ملنے کا امکان موجود رہے گا۔
دوسری جانب بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہاں حکومت کی جانب سے روکنے کا امکان خاصا کم نظر آتا ہے، آئی سی سی و میزبان بھارت نے انتہا پسندوں کی آماجگاہوں سے دور میچز رکھ کر سیکیورٹی پر تشویش بھی قدرے کم کر دی۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا انعقاد آئندہ برس 8 مارچ سے 3 اپریل تک بھارت میں ہو گا، بھارتی بورڈ کی جانب سے باہمی سیریز کے معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے پر پاکستان سخت ناراض ہے،رواں ماہ شیڈول سیریز کی منسوخی پر جاوید میانداد سمیت کئی سابق کرکٹرز نے بورڈ کو مشورہ دیاکہ وہ ورلڈٹی20 کیلیے ٹیم نے بھیجے، چیئرمین شہریارخان بھی چند ماہ قبل اس انتہائی اقدام کا اشارہ دے چکے ہیں۔
مگر اب اس پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا، باخبر ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے والے بورڈ کے اخراجات بے قابو ہو چکے ہیں، بھارت سے سیریز کھیل کر بھاری منافع کی آس میں پی ایس ایل پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا مگر اب مقابلے نہ ہونے سے بڑے نقصان کا سامنا ہے، ٹی وی رائٹس کی مد میں بھی خاصی رقم سے ہاتھ دھونا پڑے گا، اسی لیے چیئرمین شہریارخان کوئی امید نہ ہونے کے باوجود بھی سیریز کیلیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک اہم ملاقات میں بورڈ حکام نے غور کیا کہ ملک میں ویسے ہی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی، اگر جوش میں آ کر ورلڈ ٹی 20میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا تو متوقع آمدنی کا ایک اوراہم ذریعہ ختم ہو جائے گا۔
اس وقت پی ایس ایل، افسران کے غیرضروری دوروں اور بھاری تنخواہوں کے سبب ویسے ہی بورڈ کے خزانے پر بھاری بوجھ پڑا ہوا ہے، اگر پاکستان نے ورلڈ ٹی 20میں حصہ نہ لیا تو سب سے پہلے شرکت فیس کے ڈھائی لاکھ ڈالر ہاتھ سے جائیں گے، اسی کے ساتھ ہر میچ میں فتح پر ملنے والے رقم، مین آف دی میچ و دیگر ذرائع سے آنے والے کئی ملین ڈالرز کا بھی نقصان ہوگا، آئی سی سی نے جمعے کو ایونٹ کے شیڈول اور86 فیصد اضافے سے 56 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا ہے، فاتح، رنر اپ و دیگرکو کتنا حصہ ملے گا اور دیگر تفصیلات جنوری میں شیڈول میٹنگ کے دوران طے کی جائیں گی۔
بعض آفیشلز نے تجویز دی کہ اگر پاکستان سیکیورٹی خدشات پر نہ جائے تو اس صورت میں اسے ایونٹ کے منافع سے حصہ ملنے کا امکان ہوگا،البتہ ایسے میں آئی سی سی کو اسپانسرز عدالت میں لے جا سکتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کی عدم شرکت سے ایونٹ کا رنگ پھیکا پڑ گیا اس لیے رقم کا کچھ حصہ واپس کیا جائے۔
پھرکونسل آمدنی کے پاکستانی حصے سے اسپانسرز کے نقصان کا ازالہ کر سکتی ہے،بورڈ حکام نے ان تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد بائیکاٹ کو انتہائی دشوار اقدام قرار دیا ہے، دوسری جانب حکومت بھی ان دنوں بھارت سے ''دوستی'' کی کوششوں میں مصروف ہے، فی الحال ایسا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ اس کی جانب سے پاکستان کو ورلڈ ٹوئنٹی20میں عدم شرکت کا مشورہ دیا جائے،ذرائع نے مزید بتایا کہ پاک بھارت سیریز آئندہ سال کیلیے ری شیڈول کر کے موجودہ تنازع کو ختم کیا جائے گا،اس سے بورڈ حکام پر دباؤ کسی حد تک کم ہو سکے گا۔
دوسری جانب بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہاں حکومت کی جانب سے روکنے کا امکان خاصا کم نظر آتا ہے، آئی سی سی و میزبان بھارت نے انتہا پسندوں کی آماجگاہوں سے دور میچز رکھ کر سیکیورٹی پر تشویش بھی قدرے کم کر دی۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا انعقاد آئندہ برس 8 مارچ سے 3 اپریل تک بھارت میں ہو گا، بھارتی بورڈ کی جانب سے باہمی سیریز کے معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے پر پاکستان سخت ناراض ہے،رواں ماہ شیڈول سیریز کی منسوخی پر جاوید میانداد سمیت کئی سابق کرکٹرز نے بورڈ کو مشورہ دیاکہ وہ ورلڈٹی20 کیلیے ٹیم نے بھیجے، چیئرمین شہریارخان بھی چند ماہ قبل اس انتہائی اقدام کا اشارہ دے چکے ہیں۔
مگر اب اس پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا، باخبر ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے والے بورڈ کے اخراجات بے قابو ہو چکے ہیں، بھارت سے سیریز کھیل کر بھاری منافع کی آس میں پی ایس ایل پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا مگر اب مقابلے نہ ہونے سے بڑے نقصان کا سامنا ہے، ٹی وی رائٹس کی مد میں بھی خاصی رقم سے ہاتھ دھونا پڑے گا، اسی لیے چیئرمین شہریارخان کوئی امید نہ ہونے کے باوجود بھی سیریز کیلیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک اہم ملاقات میں بورڈ حکام نے غور کیا کہ ملک میں ویسے ہی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی، اگر جوش میں آ کر ورلڈ ٹی 20میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا تو متوقع آمدنی کا ایک اوراہم ذریعہ ختم ہو جائے گا۔
اس وقت پی ایس ایل، افسران کے غیرضروری دوروں اور بھاری تنخواہوں کے سبب ویسے ہی بورڈ کے خزانے پر بھاری بوجھ پڑا ہوا ہے، اگر پاکستان نے ورلڈ ٹی 20میں حصہ نہ لیا تو سب سے پہلے شرکت فیس کے ڈھائی لاکھ ڈالر ہاتھ سے جائیں گے، اسی کے ساتھ ہر میچ میں فتح پر ملنے والے رقم، مین آف دی میچ و دیگر ذرائع سے آنے والے کئی ملین ڈالرز کا بھی نقصان ہوگا، آئی سی سی نے جمعے کو ایونٹ کے شیڈول اور86 فیصد اضافے سے 56 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا ہے، فاتح، رنر اپ و دیگرکو کتنا حصہ ملے گا اور دیگر تفصیلات جنوری میں شیڈول میٹنگ کے دوران طے کی جائیں گی۔
بعض آفیشلز نے تجویز دی کہ اگر پاکستان سیکیورٹی خدشات پر نہ جائے تو اس صورت میں اسے ایونٹ کے منافع سے حصہ ملنے کا امکان ہوگا،البتہ ایسے میں آئی سی سی کو اسپانسرز عدالت میں لے جا سکتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کی عدم شرکت سے ایونٹ کا رنگ پھیکا پڑ گیا اس لیے رقم کا کچھ حصہ واپس کیا جائے۔
پھرکونسل آمدنی کے پاکستانی حصے سے اسپانسرز کے نقصان کا ازالہ کر سکتی ہے،بورڈ حکام نے ان تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد بائیکاٹ کو انتہائی دشوار اقدام قرار دیا ہے، دوسری جانب حکومت بھی ان دنوں بھارت سے ''دوستی'' کی کوششوں میں مصروف ہے، فی الحال ایسا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ اس کی جانب سے پاکستان کو ورلڈ ٹوئنٹی20میں عدم شرکت کا مشورہ دیا جائے،ذرائع نے مزید بتایا کہ پاک بھارت سیریز آئندہ سال کیلیے ری شیڈول کر کے موجودہ تنازع کو ختم کیا جائے گا،اس سے بورڈ حکام پر دباؤ کسی حد تک کم ہو سکے گا۔