کراچی میں میٹھے پانی کی پائپ لائن کا پھٹنا

کراچی شہر کے اتنے بڑے علاقے میں جو پانی جمع ہوا ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ پانی کی قلت کا بہانہ درست نہیں

پانی کی سات فٹ قطر کی لائن کا پھٹ جانا بھی واٹر بورڈ کی دیکھ بھال کے ناقص انتظام کی نشاندہی کرتا ہے۔

شہر قائد کراچی میں فراہمی آب کی 84 انچ کی بڑی پائپ لائن پھٹنے سے کروڑوںگیلن میٹھا پانی ضایع ہو کر سڑکوں پر جمع ہو گیا، کئی علاقے زیرآب آ گئے اور شہربھر میں بدترین ٹریفک جام رہا۔ واٹر بورڈ کراچی نے وضاحت کی ہے کہ پانی کی پائپ لائن کی مرمت کا کام کر لیا گیا ہے البتہ ضلع وسطی، شرقی اور غربی کے بیشتر علاقوں میں پانی کی قلت رہے گی لیکن عملاً یہ دوسرے روز بھی مکمل طور پر مرمت نہ ہو سکی۔ 84 انچ یعنی سات فٹ قطر کی پائپ لائن گلشن اقبال کراچی کے علاقے سے گزرتی ہے جس کے پھٹنے سے یونیورسٹی روڈ پانی میں ڈوب گئی اور اطراف کے علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، شہر کے مختلف علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔


پانی جمع ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہوگئیں۔ اور شہری انھیں دکھا لگا کر اسٹارٹ کرتے رہے۔ واٹر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے سے پانی کی نکاسی کا عمل بھی جاری ہے مگر اس میں وقت لگے گا۔ کراچی کے شہری کئی برسوں سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ متعلقہ حکام کی طرف سے پانی کی قلت کا جواز پیش کیا جاتا رہا لیکن پائپ لائن کے پھٹنے سے جس سیلابی انداز سے کراچی شہر کے اتنے بڑے علاقے میں جو پانی جمع ہوا ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ پانی کی قلت کا بہانہ درست نہیں اصل مسئلہ ناقص مینجمنٹ کا ہے اور اگر مینجمنٹ درست کرلی جائے تو اہلیان کراچی بھی وافر پانی سے استفادہ کرسکتے ہیں جنھیں اب نہایت مہنگے ٹینکروں کے ذریعے پانی بھروانا پڑتا ہے اور اب جب کہ بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں اور نئی بلدیاتی حکومت آنے کو ہے، اس کے لیے یہ مسائل کسی چیلنج سے کم نہیں ہوں گے۔

سمندر کے کنارے آباد بہت سی ریاستوں نے بڑے بڑے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر اپنے شہریوں کے لیے چوبیس گھنٹے پینے کے پانی کی سپلائی بحال کر رکھی ہے حالانکہ ان ریاستوں میں قبل ازیں پانی پڑوسی ممالک سے بحری جہازوں میں منگوایا جاتا تھا جو گدھوں پر لاد کر لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جاتا تھا جب کہ کراچی میں تو قیام پاکستان سے قبل بھی سرکاری نلکے چلتے تھے۔ پانی کی پائپ لائن پھٹنے نے پانی کی قلت کے بہانے کو بہت حد تک باطل قرار دیدیا اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کر دیا۔ پانی کی سات فٹ قطر کی لائن کا پھٹ جانا بھی واٹر بورڈ کی دیکھ بھال کے ناقص انتظام کی نشاندہی کرتا ہے۔
Load Next Story