محدود خریداری کے باوجود روئی کی قیمتوں میں 50 روپے من اضافہ

پہلے تخمینوں کےمقابلےمیں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی پاکستان میں 10لاکھ بیلز بتائی گئی ہے، رپورٹ

پہلے تخمینوں کے مقابلے میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی پاکستان میں 10لاکھ بیلز بتائی گئی ہے، رپورٹ فوٹو: اے پی پی/فائل

ملک کے بالائی حصوں کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کوقدرتی گیس کی عدم فراہمی اورمحدودپاورسپلائی کے باعث ان کے بحران بڑھنے جیسے عوامل گزشتہ ہفتے بھی مقامی کاٹن مارکیٹس کی تجارتی سرگرمیوں پر اثرانداز رہے لیکن محدود خریداری سرگرمیوں کے باوجود بلند معیار کی روئی کی قیمت میں 50 روپے فی من تک کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ عالمی سطح پرکپاس کی پیداوار19 لاکھ20 گانٹھ(480 پاؤنڈ) کم ہونے کی یو ایس ڈی اے کی پیشگوئی کے باوجود بین الاقوامی مارکیٹس میں مندی کا رحجان غالب رہا۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل ملز مالکان نے ایک ہنگامی میٹنگ کے دوران ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی فراہمی مزید بہتر بنانے کے لیے ہفتے میں ایک دن ٹیکسٹائل ملز بند رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت پاکستان نے ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی فراہمی بہتر کرنے کے بجائے پنجاب میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی بحال کر کے ٹیکسٹائل ملز کے لیے گیس کی فراہمی غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا جس سے خدشہ ہے کہ لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں بھی خاطر خواہ کمی سے ملکی معیشت بھی کمزور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلادیش میں وہاں کی حکومتیں ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مراعات میں غیر معمولی اضافہ جبکہ ٹیکسز میں کمی کر رہی ہے جس سے ان ملکوں کی کاٹن برآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں ٹیکسٹائل ملز کے لیے گیس کی فراہمی مکمل طور پر معطل کر کے اس کا گلا گھونٹا جا رہا ہے جس کے باعث پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے باوجود کاٹن برآمدات میں دن بدن کمی کا واضح رجحان دیکھا جا رہا ہے جس سے پاکستانی معیشت کو غیر معمولی خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2015-16 کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 19 لاکھ 20 ہزار بیلز (480 پاؤنڈ) مزید کم ہو کر 10 کروڑ 37 لاکھ بیلز رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے تخمینوں کے مقابلے میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی پاکستان میں 10لاکھ بیلز بتائی گئی ہے جبکہ امریکا میں 2لاکھ 50ہزار بیلز، چین میں 7 لاکھ بیلز جبکہ ترکی میں 1لاکھ 50 ہزار بیلز کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ حیران کن طور پر آسٹریلیا میں کپاس کی پیداوار میں 3لاکھ بیلز اضافے کے بارے میں رپورٹس جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.25 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 71.25 سینٹ، مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 1 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 63.71 سینٹ فی پاؤنڈ،کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 250 روپے، بھارت میں روئی کی قیمتیں 137 روپے فی کینڈی کمی کے بعد 32 ہزار 800 روپے فی کینڈی جبکہ چین میں روئی کی قیمتیں 100 یو آن فی ٹن کمی کے بعد 12 ہزار 10 یو آن فی ٹن تک مستحکم رہیں۔

احسان الحق نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار انٹر نیشنل کاٹن ایڈوائزی کمیٹی (آئی سی اے سی)کی پلینری میٹنگ کا انعقاد پاکستان میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئی سی اے سی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق آئی سی اے سی کی 75 ویں پلینری میٹنگ 31 اکتوبر سے 4نومبر 2016 کے دوران اسلام آباد میں منعقد ہو گی جس میں دنیا بھر سے زرعی سائنسدان اور کاٹن اسٹیک ہولڈرز شرکت کریں گے جو پاکستان کے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کاٹن کراپ اسیسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) کی چوتھی میٹنگ آج (14 دسمبر) اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے جس میں 2015-16 کے لیے کپاس کا نیا پیداواری ہدف مختص کیا جائیگا۔یاد رہے کہ سی سی اے سی کے تیسرے اجلاس میں پاکستان میں 2015-16 کے لیے کپاس کا پیداواری 1 کروڑ 14 لاکھ بیلز (170 کلو گرام) مختص کیا گیا تھا جس میں اب 10 سے 12 لاکھ بیلز کی مزید کمی متوقع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق فیڈرل ریزورز بینک آف یو ایس اے نے اپنی آئندہ ہفتے کے دوران ہونیوالی میٹنگ میں مارک اپ ریٹ بڑھانے کا عندیہ دیا ہے جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں کموڈیٹیز کی قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت امریکا میں مارک اپ کی زیادہ سے زیادہ شرح 0.25 فیصد ہے۔
Load Next Story