رینجرزکواختیارات دلانے کیلیے بلڈرزاورصنعتکاربھی کھڑے ہوگئے
سندھ حکومت غیرمشروط طور پررینجرز کے اختیارات میں توسیع کرنے کا اعلان کرے
سندھ حکومت غیرمشروط طور پررینجرز کے اختیارات میں توسیع کرنے کا اعلان کرے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
تاجروں کے بعدصنعتکار بھی کراچی میں قیام کے لیے رینجرکے اختیارات میں توسیع کے لیے میدان میں آگئے۔
کراچی کے ساتوں ٹاؤن ایسوسی ایشنز نارتھ کراچی، ایف بی ایریا، کورنگی، سائٹ، سائٹ سپرہائی وے، لانڈھی کی صنعتی انجمنوں پر مشتمل انڈسٹریل الائنس کے سربراہ مہتاب الدین چاؤلہ نے ساتوں ٹاؤن انڈسٹریل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اورآباد کے چیئرمین حنیف گوہر کے ہمراہ پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ غیرمشروط طور پررینجرز کے اختیارات میں توسیع کرنے کا اعلان کرے۔
یہ مطالبہ کراچی کے50 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے والے صنعتی شعبے کا ہے جو کراچی کے امن کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ اختیارات ملنے کے بعد رینجرز کی کارکردگی نظر آئی ہے اورتاجروں وصنعت کاروں کے ساتھ عوام نے اپنے آپ کو محفوظ تصور کرنا شروع کیا ہے۔ صنعتکار نمائندوں کا کہنا تھا کہ رینجرز کے جاری آپریشن کو ادھورا چھوڑنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، جاری آپریشن کی وجہ سے طویل مدت بعد اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ صنعتکارواپس آنے لگے ہیں جو بدامنی کے باعث کراچی چھوڑکرچلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی کراچی میں 35 سال قبل والا امن بحال نہیں ہوا لہٰذا حکومت سندھ بہتری کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے۔
صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے سلسلے میں حکومت سندھ کے رویے سے انداز ہورہا ہے کہ کراچی کے حالات میں اب مزید بہتری رونما نہیں ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بدامنی کی بنیادی وجہ کرپشن بھی ہے لہٰذا بدامنی پیداکرنے کے سہولت کارکو بھی گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کراچی میں گزشتہ28 سال سے تعینات ہے لیکن اسے 2 سال قبل ہی فری ہینڈ دیا گیا جس کے نتائج کے سب معترف ہیں۔ صنعت کاروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ رینجرز کو نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں مکمل اختیارات کے ساتھ مدت میں توسیع کرنے کا اعلان کرے۔
علاوہ ازیں آباد کے چیئرمین محمد حنیف گوہر، وائس چیئرمیں رضوان آڈھیا اور سدرن ریجن کے چیئرمین آصف سم سم نے حکومت سندھ کو متنبہ کیاکہ کراچی میں100 فیصدامن قائم نہ ہونے کی صورت میں اقتصادی راہداری منصوبے میں46 ارب روپے کی چینی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔
سندھ حکومت درست سمت میں کام کررہی ہوتی تو آج کراچی کے عوام اور تاجر رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ نہ کرتے، اگر رینجرزکو اختیارات نہ ملے تو کراچی میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں پھر اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں رینجرز کی کاوشوں سے تحفظ کا احساس پیدا ہوا تو وہ بلڈرز اور تاجر جو بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے نے دوبارہ آکرکراچی میں سرمایہ کاری کی، رینجرز کے اختیارات محدود کرنے سے سنگین منفی نتائج سامنے آئیں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جاری مہم میں اگر آباد کا کوئی بھی رکن غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو آباد اس کی حمایت ہرگز نہیں کرے گی بلکہ متعلقہ تحقیقاتی ایجنسی کا ساتھ دے گی، کراچی میں 2 برس قبل ہمارے ممبران کی جانب سے ہر ماہ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی 100سے زائد شکایات آتی تھیں، رینجرز کے آپریشن کے بعد ان شکایات کی تعداد صفر ہوگئی ہے، رینجرز کے اختیارات کا دائرہ اندرون سندھ تک بڑھایا جائے۔اس موقع پر جنید شیخانی،ریاض رزاق، حسن بخشی، کامران تیجانی، ریاض غازیانی اور دیگرسینئر ممبران بھی موجود تھے۔
تاجروں کے بعدصنعتکار بھی کراچی میں قیام کے لیے رینجرکے اختیارات میں توسیع کے لیے میدان میں آگئے۔
کراچی کے ساتوں ٹاؤن ایسوسی ایشنز نارتھ کراچی، ایف بی ایریا، کورنگی، سائٹ، سائٹ سپرہائی وے، لانڈھی کی صنعتی انجمنوں پر مشتمل انڈسٹریل الائنس کے سربراہ مہتاب الدین چاؤلہ نے ساتوں ٹاؤن انڈسٹریل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اورآباد کے چیئرمین حنیف گوہر کے ہمراہ پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ غیرمشروط طور پررینجرز کے اختیارات میں توسیع کرنے کا اعلان کرے۔
یہ مطالبہ کراچی کے50 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے والے صنعتی شعبے کا ہے جو کراچی کے امن کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ اختیارات ملنے کے بعد رینجرز کی کارکردگی نظر آئی ہے اورتاجروں وصنعت کاروں کے ساتھ عوام نے اپنے آپ کو محفوظ تصور کرنا شروع کیا ہے۔ صنعتکار نمائندوں کا کہنا تھا کہ رینجرز کے جاری آپریشن کو ادھورا چھوڑنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، جاری آپریشن کی وجہ سے طویل مدت بعد اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ صنعتکارواپس آنے لگے ہیں جو بدامنی کے باعث کراچی چھوڑکرچلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی کراچی میں 35 سال قبل والا امن بحال نہیں ہوا لہٰذا حکومت سندھ بہتری کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے۔
صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے سلسلے میں حکومت سندھ کے رویے سے انداز ہورہا ہے کہ کراچی کے حالات میں اب مزید بہتری رونما نہیں ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بدامنی کی بنیادی وجہ کرپشن بھی ہے لہٰذا بدامنی پیداکرنے کے سہولت کارکو بھی گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کراچی میں گزشتہ28 سال سے تعینات ہے لیکن اسے 2 سال قبل ہی فری ہینڈ دیا گیا جس کے نتائج کے سب معترف ہیں۔ صنعت کاروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ رینجرز کو نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں مکمل اختیارات کے ساتھ مدت میں توسیع کرنے کا اعلان کرے۔
علاوہ ازیں آباد کے چیئرمین محمد حنیف گوہر، وائس چیئرمیں رضوان آڈھیا اور سدرن ریجن کے چیئرمین آصف سم سم نے حکومت سندھ کو متنبہ کیاکہ کراچی میں100 فیصدامن قائم نہ ہونے کی صورت میں اقتصادی راہداری منصوبے میں46 ارب روپے کی چینی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔
سندھ حکومت درست سمت میں کام کررہی ہوتی تو آج کراچی کے عوام اور تاجر رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ نہ کرتے، اگر رینجرزکو اختیارات نہ ملے تو کراچی میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں پھر اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں رینجرز کی کاوشوں سے تحفظ کا احساس پیدا ہوا تو وہ بلڈرز اور تاجر جو بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے نے دوبارہ آکرکراچی میں سرمایہ کاری کی، رینجرز کے اختیارات محدود کرنے سے سنگین منفی نتائج سامنے آئیں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جاری مہم میں اگر آباد کا کوئی بھی رکن غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو آباد اس کی حمایت ہرگز نہیں کرے گی بلکہ متعلقہ تحقیقاتی ایجنسی کا ساتھ دے گی، کراچی میں 2 برس قبل ہمارے ممبران کی جانب سے ہر ماہ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی 100سے زائد شکایات آتی تھیں، رینجرز کے آپریشن کے بعد ان شکایات کی تعداد صفر ہوگئی ہے، رینجرز کے اختیارات کا دائرہ اندرون سندھ تک بڑھایا جائے۔اس موقع پر جنید شیخانی،ریاض رزاق، حسن بخشی، کامران تیجانی، ریاض غازیانی اور دیگرسینئر ممبران بھی موجود تھے۔