رینجرز کے اختیارات اور سیاسی شو ڈاؤن

سندھ میں رینجرز کو توسیع دینے کا معاملہ بتدریج بحرانی رخ اختیار کرتا جارہا ہے

ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز اور سیکیورٹی اداروں نے شہر کی رونقیں بحال کر دی ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ میں رینجرز کو توسیع دینے کا معاملہ بتدریج بحرانی رخ اختیار کرتا جارہا ہے ، اگرچہ توسیع کا عمل آئین و قانون کے دائرہ کار میں ہے، تاہم عوام جو جمہوریت کے اصل حسن کا دیدار کرنے اور اس کے ناگزیر ثمرات بنیادی ریلیف اور گڈ گورننس سے محروم ہیں ، یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس سے قبل دی جانے والی توسیع میں کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی ،تو اس بار آسمان سر پر اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔

ابھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ، یہی امید تھی کہ سندھ و پنجاب سمیت پورے ملک میں بلدیاتی نظام کے باعث پارلیمنٹیرینز کو قانون سازی کے عمل میں زیادہ سہولت اور یکسوئی حاصل ہوگی اور غیر ضروری دباؤ سے آزاد ہوکر نہ صرف اہم قانون سازی میں شریک ہوں گے بلکہ اپنے جمہوری کمٹمنٹ کے تحت ریاستی اداروں اور صوبائی اکائیوں کے مابین خوشگوار تعلقات کار سماجی اور معاشی اہداف کے حصول اور دہشت گردی سے مکمل نجات کی قومی حکمت عملی کو کامیابی سے ہمکنار بھی کریں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ عجیب درد ناک صورتحال نے سندھ کی سیاست کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔

تدبر اور جمہوری رویے کے سیاسی افلاس کا افسوس ناک منظر نامہ سج گیا ہے، سیاسی شراکت دار اس بات کا احساس کریں کہ کراچی کے عوام ترقی، معاشی آسودگی اور امن کی بھیک مانگتے مانگتے تھک چکے ہیں۔ شہر قائد میں جہاں پرائمری تعلیم، صحت، پانی، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کی بنیادی سہولتیں تک نہیں وہاں وفاق و صوبہ سندھ کے درمیاں دوطرفہ سیاسی شو ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایسی صورتحال تو بادی النظر میں دہشتگردی میں ملوث عناصر کے لیے انتہائی پر کشش بنائی جارہی ہے،حالانکہ ضرورت قیاس آرائیوں سے بچنے اور خیر سگالی و اشتراک عمل سے رینجرز کے معاملہ کو حل کرنے کی ہے جس سے کراچی آپریشن کا مقدر جڑا ہوا ہے۔

مافیائیں بہانے کی تلاش میں ہیں کہ آپریشن متنازع بن جائے تاکہ وہ کراچی سمیت پورے ملک میں آپریشن ضرب عضب اور ٹارگٹڈ آپریشن کی بساط الٹ دیں۔ اس لیے جتنی جلد مفاہمت ممکن ہو بہتر ہے۔ سندھ حکومت اور وفاق کے نمایندوں کے درمیان شعلہ نوائی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا مقابلہ سیاسی بدقسمتی ہے۔

عوام ملک کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ 90 کی دہائی والی خود سوز سیاسی کشمکش اور داخلی بدامنی کو دعوت نہیں دینی چاہیے، اپنی ملکی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، بجائے تاخیری حربوں، دھمکیوں اور بڑھکیں مارنے کے سیاسی مکالمے سے مسائل کا حل نکالا جائے۔ قائد حزب اختلاف خورشید احمد شاہ قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کرکام کرنا چاہیے تاکہ وفاق کی تمام اکائیاں کام کرتی رہیں، احتساب کرنا ہے تو بلاتفریق سب کا کیا جائے۔


وفاق سندھ میں گورنرراج یا ایمرجنسی لگانا چاہتا ہے تو لگادے دھمکیاں نہ دے ، خورشیدشاہ نے کہا کہ ہم نے میثاق جمہوریت پردستخط کر کے کسی کی پگڑیاں نہ اچھالنے کا عہد کیا ہے، ہم 90 کی دہائی کی سیاست نہیں دہرانا چاہتے ، جب کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ایک بیان میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ لوگوںنے اپنی غلط کاریاںچھپانے کے لیے سندھ اورپاکستان کی سیاست کوڈھال بنارکھا ہے، کوئی ادارہ ان کی جواب طلبی کرتا ہے تو یہ اسے سندھ پر حملے سے تشبیہہ دیتے ہیں، سندھ پر کوئی ادارہ یا وفاقی حکومت حملہ آور نہیں بلکہ سندھ پر حملہ آور تو وہ لوگ ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے سندھ کی زمینوں، وسائل اور اس کی دولت پر قابض ہیں اورانھیں دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

اسی شور شرابے میں سندھ اسمبلی میں رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا، اجلاس میں اپوزیشن نے ہنگامہ کیا ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ رینجرز کے معاملے کوبڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، جب کہ رینجرز ہمارے ساتھ اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اگر شاہ صاحب کے دل کی بات زبان پر آگئی ہے تو سندھ اسمبلی قرارداد کی منظوری کو تماشا نہ بنائے۔ اسی میں شہر اور ملک کا مفاد مضمر ہے۔کراچی اور سندھ کے مختلف مقامات کی حساسیت کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔

بھتہ خوری،کرپشن اور اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے پارلیمانی شراکت دار سر جوڑ کر بیٹھیں۔ ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز اور سیکیورٹی اداروں نے شہر کی رونقیں بحال کر دی ہیں۔

امریکی اخبار''وال اسٹریٹ جرنل'' کے مطابق رینجرز اور مقامی پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف جارحانہ کارروائی کی جس سے عوام اور تاجروں کو سہولت ملی ، ادھر ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ لیاری میں امن قائم کرنے میں پولیس کا اہم کردار ہے جب کہ ہم کراچی کی رونقیں بحال کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔لیکن ابھی منزل دور ہے۔

رینجرز کے مسئلے پر پوائنٹ اسکورنگ افسو ناک ہے، ادراک کرنا چاہیے کہ دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں، سندھ میں سیاسی اضطراب دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے میں دشواری پیدا کرسکتا ہے اس لیے رینجرز اور پولیس کے مابین قائم وحدت عمل کو قائم رکھنا ناگزیر ہے۔
Load Next Story