شہید بچوں کے نام سے منسوب مادر علمی

قوم کے شہید بچوں نے اپنی جانیں قربان کر کے قوم کو سبق دیا ہے کہ ان کا سب سے بڑا دشمن وہ دہشت گرد ہے

پاکستانی ایک زندہ وتابندہ قوم ہیں،یہ اپنے معصوم شہیدوں کو بھولے نہیں ہیں، فوٹو : فائل

جہل اورانتہاء پسندی کے راستے پرگامزن گمراہ گروہ کے شقی القب افراد نے گزشتہ برس پھول جیسے معصوم طلباوطالبات کوانتہائی سفاکانہ اور بے رحمانہ انداز میں قتل کیا،ایسا ظلم ایسی بربریت کا نظارہ چشم فلک نے کم ہی دیکھا ہوگا۔

تاریخ انسانی کاایک المناک سانحہ،جس کے مندرجات سننے یا دہرانے کی نہ تاب ہے اورنہ کسی صاحب دل میں ہمت ۔ ماؤں کے کلیجے شق ہوگئے،کیسی قیامت تھی جو ان پر ٹوٹ پڑی تھی، ہر آنکھ سے اشکوں کی لڑی جاری تھی ،جو رکنے کا نام نہ لیتی تھی ، یہ کاری وار اس لیے کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی رک جائے، جہل کا راج ہوجائے، ارض وطن کے پھول تعلیمی درسگاہوں میں علم وآگہی کی روشنی حاصل نہ کرسکیں، قوم کے حوصلے پست ہوجائیں، لیکن پہلے تو شہید بچوں کے والدین نے صبرکی انتہاء کردی ، جس ہمت ،جرات اور استقلال کا مظاہرہ ان معصوم شہیدوں کے ورثاء نے کیا، وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔

جس کے نتیجے میں ایک نئی پاکستانی قوم جنم لیا، نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ، ایک ہی بات پر سب کا اتفاق تھا کہ دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی،خون شہیداں کا یہ صلہ تھا کہ پاک فوج نے 'ضرب عضب' آپریشن شروع کیا ، دہشتگردوں کا ان کی کمین گاہوں تک پیچھا کیا گیا،بتدریج ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتی گئی ۔

بم دھماکوں میں نمایاں کمی آئی ،خودکش بمبار اور دہشتگرد تسلسل سے پکڑے جانے لگے، جو فرار ہوئے انھیں بھی جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا ۔دہشت گردوں کے ساتھ جنگ جاری ہے اور اس جنگ کو اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک آخری دہشت گرد' اس کے سرپرست اور پشتی بان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ۔دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں' نظریاتی محاذ پر بھی وہ سرگرم ہیں' ان کے ان عزائم کو ناکام بنانا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔آج ماضی کے مقابلے میں حالات خاصے بدل گئے ہیں۔


دہشت گرد اور ان کے حامی عوام میں ہمدردی سے محروم ہو چکے ہیں۔انھوں نے پشاور میں جو کچھ کیا' اس کا عذاب وہ اگلی دنیا میں بھی بھگتیں گے اور اس دنیا میں بھی بھگت رہے ہیں۔قوم کے شہید بچوں نے اپنی جانیں قربان کر کے قوم کو سبق دیا ہے کہ ان کا سب سے بڑا دشمن وہ دہشت گرد ہے جس نے نہ صرف اپنے ملک کو بدنام کیا بلکہ اپنے دین کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی۔

قوموں کی زندگی میں مصائب وآزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں ، زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں ، جو کٹھن وقت میں پامردی کا مظاہرہ کرتی ہیں ،پاکستانی ایک زندہ وتابندہ قوم ہیں،یہ اپنے معصوم شہیدوں کو بھولے نہیں ہیں، معصوم شہدا کی پہلی برسی کے موقعے پروزیراعظم نوازشریف نے وفاقی دارالحکومت کے 122 کالجوں اور اسکولوں کا نام بدل کر آرمی پبلک اسکول پشاورکے شہداء کے ناموں سے منسوب کرنے کی منظوری دے کر ایک ایسا مستحسن قدم اٹھایا ہے ، جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے وہ کم ہے ۔

یہ انداز عقیدت ومحبت ہے قوم کا وطن کے معصوم شہیدوں کے نام ، اسی تناظر میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ متعصب اور عدم برداشت کے حامل عناصر ہمارے بچوں کو پڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے، ان بچوں نے روشن خیالی کے بیج بوئے ہیں، ہمارے دشمن نفرت اور انتہاء پسندی کے ساتھ لڑتے ہیں اور ہم برداشت کو فروغ دے کر ان کا جواب دیں گے، روشن خیالی اور تعلیم ہماری سر زمین ہیں، ہمارے گھر کی بقاء ہماری مادر وطن اور ہمارے شہیدوں کی یادوں کوالگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔

ملک کے وزیراعظم کا ایک ایک لفظ قوم کے احساسات، امنگوں اور آرزووں کا ترجمان ہے، معصوم شہیدوں نے اپنے لہو سے جو چراغ روشن کیے ہیں، ان کی روشنی میں قوم آگے بڑھتی جائے گی، لازم ہے کہ ہمارے ملک سے دہشت گردی کامکمل طور پر خاتمہ ہو، امن وامان بحال ہو اورہم ترقی وخوشحالی کے سفرکا آغاز کرسکیں ، لیکن یہ سب کچھ پلک جھپکتے میں تو نہیں ہوجائے گا ، ہمیں اپنی صفوں میں موجود ان سفاک لوگوں کو پہچاننا ہوگا۔

جو ہم میں موجود ہیں،ہمارے گلی ، محلے ، قصبے، شہر میں رہتے ہیں ، ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ، کھاتے پیتے ہیں ،جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کرگمراہی کے راستے پر چل رہے ہیں، جو معصوم ذہنوں کی برین واشنگ کرکے،ان کے گلے میں جنت کی چابی لٹکا کر ان جلتے ہوئے الاؤکے سپرد کردیتے ہیں ، پوری قوم کو یک جان ہوکر اس سفاک مائنڈسیٹ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
Load Next Story