علمی آزادی پر حملہ
ڈاکٹر وقارشاہ تاریخ کے استاد ہیں۔انھوں نے تاریخ کے مختلف موضوعات پر12 کتابیں لکھی ہیں۔
tauceeph@gmail.com
ڈاکٹر وقارشاہ تاریخ کے استاد ہیں۔انھوں نے تاریخ کے مختلف موضوعات پر12 کتابیں لکھی ہیں۔ کئی طالب علم ان کی زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی کے مقالات مکمل کرچکے ہیں اورکچھ طلبہ ان کی نگرانی میں تحقیقی کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر وقار شاہ ، قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈکلچرل ریسرچ کے ڈائریکٹر تھے۔
ڈاکٹرشاہ کو شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں ہونے والی تاریخ کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ڈاکٹر شاہ نے کانفرنس میں دقیق مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے پاکستان میں تحریرکی جانے والی تاریخ کی کتابوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں جدوجہد کرنے والے ان اکابرین کو نظراندازکیا گیا ہے جنہوں نے ساری زندگی انگریزکی حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے میں گزاری۔
انھوں نے خاص طور پر پختونوں میں آزادی کی روح پھونکنے والے خان عبدالغفارخان، عبدالصمد اچکزئی، سندھ میں مسلم لیگ کو منظم کرنے والے جی ایم سید کا ذکرکیا جن کی جدوجہد کو ان کتابوں میں نظراندازکیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر وقار شاہ نے بھگت سنگھ کا ذکرکیا۔ وقار شاہ کاکہنا تھا کہ بھگت سنگھ اوران کے ساتھیوں نے آزادی کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں اور عوام پر تشدد کرنے والی انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انگریز حکومت نے انصاف کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی کی سزا دی ۔
بھگت سنگھ کی جدوجہد کا پاکستان میں شایع ہونے والی کتابوں میں ذکر نہیں ملتا۔ ڈاکٹر وقار شاہ نے انتہائی اہم علمی اور تاریخی حقیقت کا ذکر اپنے مقالے میں کیا تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین اور اساتذہ جمع ہوئے تھے جن میں امریکا، یورپ اور ایشیائی ممالک کے اساتذہ بھی شامل تھے۔کانفرنس میں ڈاکٹر شاہ کے مقالے کی پذیرائی ہوئی۔ بہت سے ماہرین نے سوالات کیے۔
ڈاکٹرشاہ کا مقالہ ان کے شعبے اور یونیورسٹی کے لیے ایک اعزاز تھا مگر ان کو مقالہ قائد اعظم یونیورسٹی میں فیصلہ سازی پر قادر مقتدرہ کو پسند نہیں آیا اور ایک نوٹیفکیشن کے تحت انھیں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے معزول کردیا گیا۔
ملک کی یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کا حق استعمال کرنے والے اساتذہ کی برطرفی کی ایک تاریخ ہے۔ تاریخ کے نامور استاد اور اردو میں عوام کی تاریخ لکھنے کا آغاز کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی جنہوں نے اب تک 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں، ایسی ہی صورتحال کی بناء پر سندھ یونیورسٹی سے ریٹائر ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔ پھر انھیں کسی یونیورسٹی میں مستقل ملازمت نہیں مل سکی تھی۔
اسی طرح انگریزی کے استاد اور معروف دانشور کرار حسین پر ہمیشہ یونیورسٹیوں کے دروازے بند رہے۔ انھیں 1972 میں بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما غوث بخش بزنجو نے بلوچستان یونیورسٹی میں وائس چانسلرکی حیثیت سے ملازمت دی تھی۔ اسی طرح پروفیسر ایرک سپرین اور پروفیسر امین مغل وغیرہ بھی 60ء اور 70ء کی دہائی میں ایسی ہی صورتحال کا شکار رہے۔ نوبل انعام پانے والے پہلے پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام کو ان کے مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور سمیت کسی یونیورسٹی میں ملازمت کی پیشکش نہیں ہوئی۔
سینئر اساتذہ کا کہنا ہے کہ اردو کے معروف نقاد پروفیسر ممتاز حسین کا کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے تقرر ہوچکا تھا مگر ممتاز حسین کے ترقی پسندانہ نظریات کی بناء پر انھیں یونیورسٹی میں ملازمت نہیں دی گئی۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر ظفر عارف کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں ان کے نظریات کی بناء پر ملازمت سے محروم رکھا گیا اورکئی سال سندھ کی جیلوں میں مقید رکھا گیا۔
مسلم لیگ ق کے رہنما مشاہد حسین ، پروفیسرجمیل عمر، پروفیسر عمر اصغر، پروفیسر اعجاز الحق بھی اپنے نظریات کی آبیاری کی پاداش میں پنجاب یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اور نیشنل کالج آف آرٹس سے ملازمتوں سے محروم ہوئے تھے مگر ان اساتذہ کے یونیورسٹی سے بے دخل ہونے سے ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر جوگزری وہ تو گزری مگر یونیورسٹیاں بانجھ ہوگئیں۔ یونیورسٹیوں کے نصاب اور طریقہ تعلیم میں منفی تبدیلیاں آگئیں۔
نصاب میں مذہبی مضامین، زبانوں کے علوم، تاریخ اور سماجی سائنس کے مضامین میں رجعت پسندی اور فکرومنطق غائب ہوئی اور رجعت پسندی سرایت کرگئی جس کی بناء پر تعلیم حاصل کرنے والی نسلوں میں رواداری، برداشت، حقائق کو تسلیم کرنے اور حقائق کی بناء پراپنا طرز فکر استوارکرنے کی روایت شکستہ ہوئی۔ یوں سائنسی طرز فکرکا ارتقاء نہ ہونے کی بناء پر سائنسدان معاشرے میں سائنس کی ترقی میں فعال کردار ادا نہ کرسکے۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیوں میں ریاست پرعوام کی بالادستی، پرامن اقتدارکی منتقلی کے لیے جمہوری اداروں کے ارتقاء، شہریوں کے برابری کے حقوق پر تحقیق ہوتی ہے اور اساتذہ اور طالب علم اپنی تحقیقات کے ذریعے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں میں تحقیق اور اس تحقیق پرکھلے عام بحث ومباحثے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں جمہوری نظام پر بحث ومباحثے کے بجائے آمریت، خلافت اور دیگر فرسودہ موضوعات پر تحقیق پروان چڑھی جس کے نتیجے میں غیر مسلمان طالب علم ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ طالع آزما قوتوں کو بھی تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں سے دہشت گرد نکلنے لگے۔
تاشقین ملک ہوں یا اسماعیلی برادری کی بس کوکراچی کے صفورا چوک کے قریب حملہ کرنے والے، ان قاتلوں کا تعلق یونیورسٹیوں سے رہا۔ لاہور کے ممتازسینئر استاد اور ساری زندگی اساتذہ کے حالات کار اور عام آدمی کے تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والے تاج حیدرکا کہنا ہے کہ آمریت کے دور میں ریاستی اداروں نے یونیورسٹیوں اورکالجوں کو روشن خیال اور ترقی پسنداساتذہ سے دور کرنے کے لیے ایک مسلسل منظم منصوبے پر عملدرآمد کیا جس کا نقصان کئی نسلوں کو بھگتنا پڑا۔
غیر ریاستی کردار (Non State Actors) نے روشن خیال اساتذہ کو قتل کرنا شروع کیا، ڈاکٹر شبیر شاہ، ڈاکٹر شکیل اوج، ڈاکٹر وحید الرحمن اور ڈاکٹر فاروق سمیت کئی اساتذہ شہید ہوئے۔ اب دوبارہ یونیورسٹیوں سے روشن خیالی کو ختم کرنے کی کوشش جاری ہے جوکہ خطرناک عمل ہے۔ تاریخ کے استاد پروفیسر سید ناصر عباس اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل ہوگیا، یوں امریکا اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو روشن خیالی اور انسانی حقوق کی بالادستی قبول نہیں تھی۔
اس صورتحال میں فوجی آمریت کو مستحکم کیا گیا اور عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے والے سماجی گروہوں، اساتذہ، وکلاء، صحافیوں اور دانشوروں کو تنظیم سازی سے روکا گیا اور آزادئ صحافت ، آزادئ اظہار اور تخلیق کی آزادی پر بے پناہ قدغن اور پابندیاں عائدکی گئیں۔
جس کے نتیجے میں ملک کے اکثریتی حصے مشرقی پاکستان کے عوام میں احساسِ محرومی پیدا ہوا اور جب ان کے منتخب نمایندوں کو اقتدار کے حق سے محروم کیا گیا تو مشرقی پاکستان کے عوام نے علیحدہ ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا اور 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان تاریخ میں کھوگیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ پھر بقیہ پاکستان میں ماضی کی صورتحال برقرار رہی۔ جنرل ضیاء الحق نے روشن خیالی اور خرد افروزی کے ادارے کو ختم کرنے کے لیے یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کے ادارے کو اور معاشرے میں آزاد اظہار اور آزاد صحافت کے ادارے کو شکستہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پاکستان اس صورتحال پر پہنچ گیا۔
دنیا بھر میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کی جڑیں پاکستان میں تلاش کی جاتی ہیں مگر اب جمہوری دور میں اساتذہ کے ساتھ اس طرح کے سلوک کا جواز نہیں ہے۔ تاریخ کی ایک طالبہ ڈاکٹر آزادی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تاریخ سے حقائق کو چھپانے کانقصان نئی نسلوں کو ہوتا ہے۔ تلخ حقائق کے اظہار سے صحت مند ذہن کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر کسی رہنما نے تاریخی جدوجہد کی ہے تو اس کے بعض نظریات سے تو اختلاف ہوسکتا ہے مگر اس شخصیت کی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے جمعہ 11 دسمبر کا دن تعلیم کے لیے وقف کیا، وہ خاص طور پر پشاور گئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کی صد سالہ تقریبات کا افتتاح کیا اور اس یونیورسٹی کی ترقی کے لیے 100 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں کہا کہ اساتذہ کی تربیت اورجدید نصاب کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
جدید نصاب کی تیاری کے لیے یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کا ادارہ مستحکم ہونا چاہیے تاکہ یونیورسٹیاں بحث ومباحثے کا حقیقی ادارہ بن سکیں۔ ڈاکٹر وقار کے خلاف کارروائی علمی آزادی پر حملہ ہے۔ وزیر اعظم اس حقیقت کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ پاکستان کو ایک لبرل اور جدید ریاست بننا چاہیے۔ وزیر اعظم کے ارشادات اوراقدامات جدید تعلیم کے لیے اہم ہیں مگر آزادئ اظہار اور حقائق پر توجہ دلانے والے اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک وزیراعظم کے اعلان کردہ اہداف کو پورا نہیں کرسکے گا۔
ڈاکٹرشاہ کو شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں ہونے والی تاریخ کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ڈاکٹر شاہ نے کانفرنس میں دقیق مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے پاکستان میں تحریرکی جانے والی تاریخ کی کتابوں کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں جدوجہد کرنے والے ان اکابرین کو نظراندازکیا گیا ہے جنہوں نے ساری زندگی انگریزکی حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے میں گزاری۔
انھوں نے خاص طور پر پختونوں میں آزادی کی روح پھونکنے والے خان عبدالغفارخان، عبدالصمد اچکزئی، سندھ میں مسلم لیگ کو منظم کرنے والے جی ایم سید کا ذکرکیا جن کی جدوجہد کو ان کتابوں میں نظراندازکیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر وقار شاہ نے بھگت سنگھ کا ذکرکیا۔ وقار شاہ کاکہنا تھا کہ بھگت سنگھ اوران کے ساتھیوں نے آزادی کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں اور عوام پر تشدد کرنے والی انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انگریز حکومت نے انصاف کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی کی سزا دی ۔
بھگت سنگھ کی جدوجہد کا پاکستان میں شایع ہونے والی کتابوں میں ذکر نہیں ملتا۔ ڈاکٹر وقار شاہ نے انتہائی اہم علمی اور تاریخی حقیقت کا ذکر اپنے مقالے میں کیا تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین اور اساتذہ جمع ہوئے تھے جن میں امریکا، یورپ اور ایشیائی ممالک کے اساتذہ بھی شامل تھے۔کانفرنس میں ڈاکٹر شاہ کے مقالے کی پذیرائی ہوئی۔ بہت سے ماہرین نے سوالات کیے۔
ڈاکٹرشاہ کا مقالہ ان کے شعبے اور یونیورسٹی کے لیے ایک اعزاز تھا مگر ان کو مقالہ قائد اعظم یونیورسٹی میں فیصلہ سازی پر قادر مقتدرہ کو پسند نہیں آیا اور ایک نوٹیفکیشن کے تحت انھیں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے معزول کردیا گیا۔
ملک کی یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کا حق استعمال کرنے والے اساتذہ کی برطرفی کی ایک تاریخ ہے۔ تاریخ کے نامور استاد اور اردو میں عوام کی تاریخ لکھنے کا آغاز کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی جنہوں نے اب تک 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں، ایسی ہی صورتحال کی بناء پر سندھ یونیورسٹی سے ریٹائر ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔ پھر انھیں کسی یونیورسٹی میں مستقل ملازمت نہیں مل سکی تھی۔
اسی طرح انگریزی کے استاد اور معروف دانشور کرار حسین پر ہمیشہ یونیورسٹیوں کے دروازے بند رہے۔ انھیں 1972 میں بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما غوث بخش بزنجو نے بلوچستان یونیورسٹی میں وائس چانسلرکی حیثیت سے ملازمت دی تھی۔ اسی طرح پروفیسر ایرک سپرین اور پروفیسر امین مغل وغیرہ بھی 60ء اور 70ء کی دہائی میں ایسی ہی صورتحال کا شکار رہے۔ نوبل انعام پانے والے پہلے پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام کو ان کے مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور سمیت کسی یونیورسٹی میں ملازمت کی پیشکش نہیں ہوئی۔
سینئر اساتذہ کا کہنا ہے کہ اردو کے معروف نقاد پروفیسر ممتاز حسین کا کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے تقرر ہوچکا تھا مگر ممتاز حسین کے ترقی پسندانہ نظریات کی بناء پر انھیں یونیورسٹی میں ملازمت نہیں دی گئی۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر ظفر عارف کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں ان کے نظریات کی بناء پر ملازمت سے محروم رکھا گیا اورکئی سال سندھ کی جیلوں میں مقید رکھا گیا۔
مسلم لیگ ق کے رہنما مشاہد حسین ، پروفیسرجمیل عمر، پروفیسر عمر اصغر، پروفیسر اعجاز الحق بھی اپنے نظریات کی آبیاری کی پاداش میں پنجاب یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اور نیشنل کالج آف آرٹس سے ملازمتوں سے محروم ہوئے تھے مگر ان اساتذہ کے یونیورسٹی سے بے دخل ہونے سے ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر جوگزری وہ تو گزری مگر یونیورسٹیاں بانجھ ہوگئیں۔ یونیورسٹیوں کے نصاب اور طریقہ تعلیم میں منفی تبدیلیاں آگئیں۔
نصاب میں مذہبی مضامین، زبانوں کے علوم، تاریخ اور سماجی سائنس کے مضامین میں رجعت پسندی اور فکرومنطق غائب ہوئی اور رجعت پسندی سرایت کرگئی جس کی بناء پر تعلیم حاصل کرنے والی نسلوں میں رواداری، برداشت، حقائق کو تسلیم کرنے اور حقائق کی بناء پراپنا طرز فکر استوارکرنے کی روایت شکستہ ہوئی۔ یوں سائنسی طرز فکرکا ارتقاء نہ ہونے کی بناء پر سائنسدان معاشرے میں سائنس کی ترقی میں فعال کردار ادا نہ کرسکے۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیوں میں ریاست پرعوام کی بالادستی، پرامن اقتدارکی منتقلی کے لیے جمہوری اداروں کے ارتقاء، شہریوں کے برابری کے حقوق پر تحقیق ہوتی ہے اور اساتذہ اور طالب علم اپنی تحقیقات کے ذریعے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں میں تحقیق اور اس تحقیق پرکھلے عام بحث ومباحثے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں جمہوری نظام پر بحث ومباحثے کے بجائے آمریت، خلافت اور دیگر فرسودہ موضوعات پر تحقیق پروان چڑھی جس کے نتیجے میں غیر مسلمان طالب علم ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ طالع آزما قوتوں کو بھی تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں سے دہشت گرد نکلنے لگے۔
تاشقین ملک ہوں یا اسماعیلی برادری کی بس کوکراچی کے صفورا چوک کے قریب حملہ کرنے والے، ان قاتلوں کا تعلق یونیورسٹیوں سے رہا۔ لاہور کے ممتازسینئر استاد اور ساری زندگی اساتذہ کے حالات کار اور عام آدمی کے تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والے تاج حیدرکا کہنا ہے کہ آمریت کے دور میں ریاستی اداروں نے یونیورسٹیوں اورکالجوں کو روشن خیال اور ترقی پسنداساتذہ سے دور کرنے کے لیے ایک مسلسل منظم منصوبے پر عملدرآمد کیا جس کا نقصان کئی نسلوں کو بھگتنا پڑا۔
غیر ریاستی کردار (Non State Actors) نے روشن خیال اساتذہ کو قتل کرنا شروع کیا، ڈاکٹر شبیر شاہ، ڈاکٹر شکیل اوج، ڈاکٹر وحید الرحمن اور ڈاکٹر فاروق سمیت کئی اساتذہ شہید ہوئے۔ اب دوبارہ یونیورسٹیوں سے روشن خیالی کو ختم کرنے کی کوشش جاری ہے جوکہ خطرناک عمل ہے۔ تاریخ کے استاد پروفیسر سید ناصر عباس اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل ہوگیا، یوں امریکا اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو روشن خیالی اور انسانی حقوق کی بالادستی قبول نہیں تھی۔
اس صورتحال میں فوجی آمریت کو مستحکم کیا گیا اور عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے والے سماجی گروہوں، اساتذہ، وکلاء، صحافیوں اور دانشوروں کو تنظیم سازی سے روکا گیا اور آزادئ صحافت ، آزادئ اظہار اور تخلیق کی آزادی پر بے پناہ قدغن اور پابندیاں عائدکی گئیں۔
جس کے نتیجے میں ملک کے اکثریتی حصے مشرقی پاکستان کے عوام میں احساسِ محرومی پیدا ہوا اور جب ان کے منتخب نمایندوں کو اقتدار کے حق سے محروم کیا گیا تو مشرقی پاکستان کے عوام نے علیحدہ ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا اور 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان تاریخ میں کھوگیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ پھر بقیہ پاکستان میں ماضی کی صورتحال برقرار رہی۔ جنرل ضیاء الحق نے روشن خیالی اور خرد افروزی کے ادارے کو ختم کرنے کے لیے یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کے ادارے کو اور معاشرے میں آزاد اظہار اور آزاد صحافت کے ادارے کو شکستہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پاکستان اس صورتحال پر پہنچ گیا۔
دنیا بھر میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کی جڑیں پاکستان میں تلاش کی جاتی ہیں مگر اب جمہوری دور میں اساتذہ کے ساتھ اس طرح کے سلوک کا جواز نہیں ہے۔ تاریخ کی ایک طالبہ ڈاکٹر آزادی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تاریخ سے حقائق کو چھپانے کانقصان نئی نسلوں کو ہوتا ہے۔ تلخ حقائق کے اظہار سے صحت مند ذہن کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر کسی رہنما نے تاریخی جدوجہد کی ہے تو اس کے بعض نظریات سے تو اختلاف ہوسکتا ہے مگر اس شخصیت کی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے جمعہ 11 دسمبر کا دن تعلیم کے لیے وقف کیا، وہ خاص طور پر پشاور گئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کی صد سالہ تقریبات کا افتتاح کیا اور اس یونیورسٹی کی ترقی کے لیے 100 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں کہا کہ اساتذہ کی تربیت اورجدید نصاب کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
جدید نصاب کی تیاری کے لیے یونیورسٹیوں میں علمی آزادی کا ادارہ مستحکم ہونا چاہیے تاکہ یونیورسٹیاں بحث ومباحثے کا حقیقی ادارہ بن سکیں۔ ڈاکٹر وقار کے خلاف کارروائی علمی آزادی پر حملہ ہے۔ وزیر اعظم اس حقیقت کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ پاکستان کو ایک لبرل اور جدید ریاست بننا چاہیے۔ وزیر اعظم کے ارشادات اوراقدامات جدید تعلیم کے لیے اہم ہیں مگر آزادئ اظہار اور حقائق پر توجہ دلانے والے اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک وزیراعظم کے اعلان کردہ اہداف کو پورا نہیں کرسکے گا۔