عیدالاضحی کا پیغام
سنت ابراہیمی کے پیغام کو سمجھیں تو مسلم دنیا میں امن اور خوشحالی کا دور شروع ہو جائے گا
مومن کی نشانی ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچے فوٹو : فائل
KARACHI:
آج پاکستان میں پورے دینی جوش جذبے اور روایتی عقیدت و احترام سے عید الاضحی منائی جا رہی ہے جو سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنھیں ابو الانبیاء یعنی نبیوں کا باپ کہا گیا ہے' اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بیٹے (حضرت) اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے کا حکم ہوا، جب والد نے اس ننھے بچے پر خواب میں ملنے والے حکم ربانی کا احوال بیان کیا تو اس کمسن نبی زادے کا جواب بھی شان انبیاء کا آئینہ دار تھا یعنی انھوں نے بھی بخوشی اپنی جان کا نذرانہ راہ حق میں نثار کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا' البتہ ایک احتیاط کی التجا ضرور کی کہ بابا جان مجھے قربانی کرتے وقت الٹا لٹائیے گا' مبادا میرا چہرہ دیکھ کر آپ کا ہاتھ کانپ اٹھے۔
روایت ہے کہ ابو الانبیاء نے اپنی آنکھوں پر بھی سیاہ پٹی باندھ لی اور اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز یعنی لخت جگر کے حلقوم پر چھری چلا دی۔ ہاطف غیبی کی آواز آئی تمہاری قربانی قبول ہو گئی۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو مذبحہ کے چبوترے پر تازہ تازہ ذبح شدہ دنبہ پڑا تھا۔ متبسم نور نظر کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس سے بڑی عید اور کون سی ہو سکتی ہے۔ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے اور ام انبیاء حضرت حاجرہ ؑکے لیے کہ جن کے شیر خوار نے لق و دق صحرا میں زمین پر ننھی منی' نرم و نازک ایڑیاں مار مار کر میٹھے پانی کا چشمہ نکال دیا تھا اور جب یہ چشمہ شیر خوار کی پیاس بجھانے کے لیے جوش میں باہر ابلنے لگا تو بی بی حاجرہ ؑنے بے اختیار کہا زم زم یعنی ٹھہر جا، ٹھہر جا۔
آج ہزار ہا سال گزرنے کے بعد بھی اس کو زم زم ہی کہا جاتا ہے۔ وہ زم زم جس کا متبرک پانی حج اور عمرے پر جانے والے دنیا بھر کے مسلمان لے کر آتے ہیں۔ اس چشمے کا پانی پانے کے لیے ان دو چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں صفا و مروہ کے درمیان بھاگ بھاگ کر سات چکر لگانے پڑتے ہیں کہ پیاس سے ایڑیاں رگڑنے والے بچے کی ماں اسے پیاس سے تڑپتا دیکھ کر ان دو پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں بے تابی سے دوڑی تھیں۔ آج ان دونوں پہاڑیوں کو ایک بہت طویل چھت کے نیچے اکٹھا کر دیا گیا ہے لہٰذا صفا و مروہ کے سات چکر لگانے والے اس تپش کا اندازہ نہیں لگا سکتے جو حضرت بی بی حاجرہ ؑ نے سہی ہو گی لیکن حق تعالیٰ نے اس لاچار خاتون کے اس فطری عمل کو کس قدر پذیرائی اور رفعت عطا کی کہ اس وقت سے آج تک حرم شریف کی زیارت کرنے والے ہر شخص کو سنت حضرت حاجرہ ؑکے عمل کی تقلید کا حکم دوام جاری ہو گیا۔
ان سات چکروں کو سعی کہتے ہیں جس کے بغیر خانہ کعبہ کے طواف کے سات چکر بھی مکمل نہیں سمجھے جاتے۔ عیدالاضحیٰ اسی خوشی کا استعارہ ہے۔ چنانچہ یہ وہی قربانی ہے جس کے اتباع میں ہم جانور قربان کرتے ہیں۔ امسال تقریباً 30 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا۔ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ دیا' اس یاد گار اور تاریخی خطبے میں انھوں نے امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور مسلمانوں کے لیے راہ عمل کی نشاندہی بھی کی۔
انھوں نے کہا کہ مومن کی نشانی ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچے' دہشت گردی اور ظلم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں' اظہار رائے کی آزادی اور جمہوریت کے نام پر اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے' مشکلات سے نکلنے کا واحد حل اسلام ہے' باہمی یکجہتی سے تمام مشلکلات سے نکلا جا سکتا ہے' امت مسلمہ کو ایک اقتصادی قوت میں ڈھلنا ہو گا' ترقی کے لیے باہمی یکجہتی اور اخوت کو فروغ دینا ہو گا' سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف دھیان دینا ہو گا' وسائل اور تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کیا جائے' مسلمان اپنی دولت باہر کے بینکوں سے نکال کر اپنے معاشرے میں لائیں' اسلامی ممالک میں اسلامی تعلیمات کو رواج دینا ہو گا۔
امام کعبہ نے اپنے خطبہ میں واضح کیا کہ نبی کریمؐ کی عزت و تکریم کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے' نبیؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے' مسلمان پر لازم ہے کہ کسی بھی قوم کو عدل کے حق سے محروم نہ کرے' مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ موجودہ دور میں اخوت کو فروغ دینا چاہیے' دشمن مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔آج اگر ہم پوری امت مسلمہ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی، حالات خوش کن نظر نہیں آتے۔ افغانستان کے حالات سب کے سامنے ہیں ، امریکا اور نیٹو کی افواج ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ عراق میں ابھی تک امن قائم نہیں ہوسکااور وہاں لوگ مارے جارہے ہیں۔ لیبیا کو بھی تباہ وبرباد کردیا گیا ہے۔
صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہے۔ سوڈان کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اور اس کے جنوب میں عیسائی ریاست قائم کردی گئی ہے۔ یمن اور شام میں خانہ جنگی جاری ہے۔ پاکستان اور ایران بھی دشمن کے نشانے پر ہیں۔یہ صورت حال امت مسلمہ کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے لیے عبرت کا سامان لیے ہوئے ہیں کہ اگر انھوں نے خود کو نہ سنبھالا تو مزید تباہی ان کا مقدر بن جائے گی۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے گزشتہ برس بھی اپنے خطبہ حج میں خبردار کیا تھا کہ جب تک ہم خود احتسابی کا نظام اختیار نہیں کریں گے' اس وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ا سلام میں سرمایہ دارانہ' طبقاتی اور انسانی حقوق پامال کرنے والے کسی بھی نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ شیخ عبدالعزیز الشیخ نے خطبہ حج میں جو کچھ بیان کیا' وہ عالم اسلام کے حکمرانوں اور بااثر طبقات کے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ممالک پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں۔ ان ملکوں میں بے وسیلہ اور کمزور طبقات پر ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں بد امنی اور بے چینی کی بنیاد یہی استحصال ہے' اگر مسلمان ممالک کے حکمران اپنے عوام کو ان کے حقوق دینے پر تیار ہو جائیں تو ان ملکوں میں امن ہو جائے گا اور امریکا یا مغربی ممالک کو ایسا موقع نہیں ملے گا کہ وہ کسی ملک میں بدامنی یا آمریت کو بنیاد بنا کر کوئی مداخلت کرے۔ عیدالاضحی کا پیغام بھی اپنی عزیز ترین ہستی کو خدا کی راہ میں قربان کر دینا ہے۔
اگر ہمارے حکمران اسی سنت ابراہیمی کے پیغام کی روح کو سمجھیں اور اپنے اختیارات کی قربانی دے کر عوام کو ان کا حق لوٹا دیں تو مسلم دنیا میں امن اور خوشحالی کا دور شروع ہو جائے گا اور مسلم ممالک پوری دنیا کے لیے رول ماڈل بن جائیں گے ،مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہیے کہ اگر انھوں نے اپنی دولت اور اختیار کو اپنے عوام میں تقسیم نہ کیا تو پھر یہ کام دشمن کردے گا۔
آج پاکستان میں پورے دینی جوش جذبے اور روایتی عقیدت و احترام سے عید الاضحی منائی جا رہی ہے جو سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنھیں ابو الانبیاء یعنی نبیوں کا باپ کہا گیا ہے' اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بیٹے (حضرت) اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے کا حکم ہوا، جب والد نے اس ننھے بچے پر خواب میں ملنے والے حکم ربانی کا احوال بیان کیا تو اس کمسن نبی زادے کا جواب بھی شان انبیاء کا آئینہ دار تھا یعنی انھوں نے بھی بخوشی اپنی جان کا نذرانہ راہ حق میں نثار کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا' البتہ ایک احتیاط کی التجا ضرور کی کہ بابا جان مجھے قربانی کرتے وقت الٹا لٹائیے گا' مبادا میرا چہرہ دیکھ کر آپ کا ہاتھ کانپ اٹھے۔
روایت ہے کہ ابو الانبیاء نے اپنی آنکھوں پر بھی سیاہ پٹی باندھ لی اور اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز یعنی لخت جگر کے حلقوم پر چھری چلا دی۔ ہاطف غیبی کی آواز آئی تمہاری قربانی قبول ہو گئی۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو مذبحہ کے چبوترے پر تازہ تازہ ذبح شدہ دنبہ پڑا تھا۔ متبسم نور نظر کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس سے بڑی عید اور کون سی ہو سکتی ہے۔ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے اور ام انبیاء حضرت حاجرہ ؑکے لیے کہ جن کے شیر خوار نے لق و دق صحرا میں زمین پر ننھی منی' نرم و نازک ایڑیاں مار مار کر میٹھے پانی کا چشمہ نکال دیا تھا اور جب یہ چشمہ شیر خوار کی پیاس بجھانے کے لیے جوش میں باہر ابلنے لگا تو بی بی حاجرہ ؑنے بے اختیار کہا زم زم یعنی ٹھہر جا، ٹھہر جا۔
آج ہزار ہا سال گزرنے کے بعد بھی اس کو زم زم ہی کہا جاتا ہے۔ وہ زم زم جس کا متبرک پانی حج اور عمرے پر جانے والے دنیا بھر کے مسلمان لے کر آتے ہیں۔ اس چشمے کا پانی پانے کے لیے ان دو چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں صفا و مروہ کے درمیان بھاگ بھاگ کر سات چکر لگانے پڑتے ہیں کہ پیاس سے ایڑیاں رگڑنے والے بچے کی ماں اسے پیاس سے تڑپتا دیکھ کر ان دو پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں بے تابی سے دوڑی تھیں۔ آج ان دونوں پہاڑیوں کو ایک بہت طویل چھت کے نیچے اکٹھا کر دیا گیا ہے لہٰذا صفا و مروہ کے سات چکر لگانے والے اس تپش کا اندازہ نہیں لگا سکتے جو حضرت بی بی حاجرہ ؑ نے سہی ہو گی لیکن حق تعالیٰ نے اس لاچار خاتون کے اس فطری عمل کو کس قدر پذیرائی اور رفعت عطا کی کہ اس وقت سے آج تک حرم شریف کی زیارت کرنے والے ہر شخص کو سنت حضرت حاجرہ ؑکے عمل کی تقلید کا حکم دوام جاری ہو گیا۔
ان سات چکروں کو سعی کہتے ہیں جس کے بغیر خانہ کعبہ کے طواف کے سات چکر بھی مکمل نہیں سمجھے جاتے۔ عیدالاضحیٰ اسی خوشی کا استعارہ ہے۔ چنانچہ یہ وہی قربانی ہے جس کے اتباع میں ہم جانور قربان کرتے ہیں۔ امسال تقریباً 30 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا۔ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ دیا' اس یاد گار اور تاریخی خطبے میں انھوں نے امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور مسلمانوں کے لیے راہ عمل کی نشاندہی بھی کی۔
انھوں نے کہا کہ مومن کی نشانی ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچے' دہشت گردی اور ظلم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں' اظہار رائے کی آزادی اور جمہوریت کے نام پر اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے' مشکلات سے نکلنے کا واحد حل اسلام ہے' باہمی یکجہتی سے تمام مشلکلات سے نکلا جا سکتا ہے' امت مسلمہ کو ایک اقتصادی قوت میں ڈھلنا ہو گا' ترقی کے لیے باہمی یکجہتی اور اخوت کو فروغ دینا ہو گا' سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف دھیان دینا ہو گا' وسائل اور تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کیا جائے' مسلمان اپنی دولت باہر کے بینکوں سے نکال کر اپنے معاشرے میں لائیں' اسلامی ممالک میں اسلامی تعلیمات کو رواج دینا ہو گا۔
امام کعبہ نے اپنے خطبہ میں واضح کیا کہ نبی کریمؐ کی عزت و تکریم کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے' نبیؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے' مسلمان پر لازم ہے کہ کسی بھی قوم کو عدل کے حق سے محروم نہ کرے' مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ موجودہ دور میں اخوت کو فروغ دینا چاہیے' دشمن مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔آج اگر ہم پوری امت مسلمہ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی، حالات خوش کن نظر نہیں آتے۔ افغانستان کے حالات سب کے سامنے ہیں ، امریکا اور نیٹو کی افواج ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ عراق میں ابھی تک امن قائم نہیں ہوسکااور وہاں لوگ مارے جارہے ہیں۔ لیبیا کو بھی تباہ وبرباد کردیا گیا ہے۔
صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہے۔ سوڈان کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اور اس کے جنوب میں عیسائی ریاست قائم کردی گئی ہے۔ یمن اور شام میں خانہ جنگی جاری ہے۔ پاکستان اور ایران بھی دشمن کے نشانے پر ہیں۔یہ صورت حال امت مسلمہ کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے لیے عبرت کا سامان لیے ہوئے ہیں کہ اگر انھوں نے خود کو نہ سنبھالا تو مزید تباہی ان کا مقدر بن جائے گی۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے گزشتہ برس بھی اپنے خطبہ حج میں خبردار کیا تھا کہ جب تک ہم خود احتسابی کا نظام اختیار نہیں کریں گے' اس وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ا سلام میں سرمایہ دارانہ' طبقاتی اور انسانی حقوق پامال کرنے والے کسی بھی نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ شیخ عبدالعزیز الشیخ نے خطبہ حج میں جو کچھ بیان کیا' وہ عالم اسلام کے حکمرانوں اور بااثر طبقات کے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ممالک پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں۔ ان ملکوں میں بے وسیلہ اور کمزور طبقات پر ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں بد امنی اور بے چینی کی بنیاد یہی استحصال ہے' اگر مسلمان ممالک کے حکمران اپنے عوام کو ان کے حقوق دینے پر تیار ہو جائیں تو ان ملکوں میں امن ہو جائے گا اور امریکا یا مغربی ممالک کو ایسا موقع نہیں ملے گا کہ وہ کسی ملک میں بدامنی یا آمریت کو بنیاد بنا کر کوئی مداخلت کرے۔ عیدالاضحی کا پیغام بھی اپنی عزیز ترین ہستی کو خدا کی راہ میں قربان کر دینا ہے۔
اگر ہمارے حکمران اسی سنت ابراہیمی کے پیغام کی روح کو سمجھیں اور اپنے اختیارات کی قربانی دے کر عوام کو ان کا حق لوٹا دیں تو مسلم دنیا میں امن اور خوشحالی کا دور شروع ہو جائے گا اور مسلم ممالک پوری دنیا کے لیے رول ماڈل بن جائیں گے ،مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہیے کہ اگر انھوں نے اپنی دولت اور اختیار کو اپنے عوام میں تقسیم نہ کیا تو پھر یہ کام دشمن کردے گا۔