علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات کی نشاندہی
دہشت گردی مسلسل ایک سنگین خطرہ ہے اور درحقیقت زیادہ خطرناک نتائج کی حامل بن چکی ہے
خطے میں ریاستی خود مختاری ، داخلی امن و استحکام اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اور اشتراک کی ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل
MADARIPUR:
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ارد گرد سیکیورٹی کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، ہم ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا خطرہ دیکھ رہے ہیں، دنیا کے مختلف حصوں میں قابو سے باہر مسلح تصادم جاری ہیں، پرتشدد نظریات کے انسداد کی ضرورت ہے، دہشت گردی مسلسل ایک سنگین خطرہ ہے اور درحقیقت زیادہ خطرناک نتائج کی حامل بن چکی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم ارکان کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج سے جامع حکمت عملی کے ذریعے مل کر نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے، خطے میں ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے باہمی مواصلاتی روابط بہت اہم ہیں۔
وزیراعظم نے منگل کو ژیانگ ژو میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او ) کے14 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش جس صورتحال کی تصویر کشی کی ہے وہ حقیقت افروز ہے، انھوں نے جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں دہشتگردی، انتہا پسندی، مسلکی اور جان لیوا انفرادی اور گروہی تشدد کے واقعات کے تناظر میں امن کی حقیقی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے، تاہم شنگھائی تنظیم کو موثر بنانا ہے، اسے سارک،آسیان اور دیگر اقتصادی عالمی فورمز کے تقابل میں رکھے بغیر پاک چین دوستی کے تاریخی حوالہ اور بے مثال یگانگت کا تسلسل ہونا چاہیے ۔
آج کی عالمی سیاست میں عسکری طاقت ایک اضافی ریاستی قوت کی مظہر بدیہی حقیقت ہے ، مگر اصل طاقت قوموں اور عوام دوست حکومتوں کی مساوات و انصاف پر مبنی مستحکم سماجی و سیاسی نظام ہے جو ملک اقتصادی طور پر طاقتور ہوگا وہی عالمی برادری میں سر اٹھا کر جی سکے گا۔ چین خطے کی عظیم اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے، اس کی امن و بقائے باہمی کی حکمت عملی امن عالم کے کاز میں ایک کلیدی کردار رکھتی ہے ، جب کہ پاکستان اور چین کے باہمی معاشی اہداف اور مشترکہ سرمایہ کاری سے خطے کی سماجی و معاشی تقدیر بدلی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے پاک چین دوستی کو فولادی رشتے میں بدل دیا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نے شنگھائی تنظیم کی رکنیت کے لیے اپنے داخلی عمل کی تکمیل سے نمایاں پیشرفت کی ہے، اب ایس سی او سیکریٹریٹ سے ''پاسداری کی یادداشت'' کا منتظر ہے تاکہ اس کی رکنیت کو جون 2016 میں تاشقند میں آیندہ سربراہ اجلاس میں حتمی شکل دی جا سکے۔اس موقع پر چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ ایس سی او کی توسیع شروع ہو چکی ہے، انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے شدید چیلنجز لاحق ہیں، علاقے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں۔
وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ راہداری کے تمام منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں، چین ارومچی میں ایک تجارتی ویزا آفس قائم کرنے کی اجازت دے تاکہ اقتصادی راہداری منصوبوں پر عمل درآمد اور عوامی وفود کے تبادلوں میں سہولت مل سکے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ فاٹا میں آپریشن ضرب عضب اورملک میں نیشنل ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔
ایس سی او رکن ممالک کو دہشتگردی کے اجتماعی خطرہ کا سامنا ہے اس لیے اس عفریت کے خلاف اتحاد و اشتراک اور باہمی تعاون کو ناقابل تسخیر طاقت کی علامت بن کر طلوع ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے چینی ہم منصب کو نریندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات اور سشما سوراج کے دورہ اسلام آباد کے بارے میں آگاہ کیا ۔ ادھر میڈیا کی اطلاع کے مطابق بھارتی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر تاریخ کا دھارا بدلنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ سرحدی خلاف ورزیاں، دہشت گردی اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ امن کے لیے خطرہ ہے۔
مودی کا بیان اچھے موقع پر آیا ہے مگر شرط یہ ہے کہ بھارت اپنا فرسودہ مائنڈ سیٹ بدلے اور تزویراتی ،عسکری، سیاسی اور سفارتی سطح پر وہی کرے جو خطے میں امن سے مشروط ہو، سشما سوراج کی آمد کے بعد جو ماحول بنا ہے اور تاریخ بدلنے کا جو اچھوتا خیال مودی کے ذہن میں آیا ہے وہ اسے نیک نیتی سے پاکستان کے ساتھ شیئر کرے تاکہ برصغیر کی تاریخ اورہمسائیگی کے زمینی حقائق اور عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے دو ملک خطے میں امن اور کروڑوں عوام کی خوش حالی اور آسودگی کے لیے اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
پاک بھارت تعلقات میں بہتری پاکستان ہی نہیں بھارت کے بھی مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ابھی شروعات ہوئی ہیں، اب بھارت کی ذمے داری ہے کہ وہ فہم و فراست کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے میں پاکستان سے تعاون کرے، مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ۔
وزیراعظم کو شنگھائی تقریب میں بھی کراچی یاد رہا، انھوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا، کراچی کے حالات بہتر ہوں گے تو ملک کے حالات بہتر رہیں گے۔اس بیان سے یہی ثابت ہوتا ہے ملکی سالمیت اور سیاسی استحکام معاشی پیش رفت، ترقی و خوشحالی پر مبنی منصوبوں کی تکمیل سے منسلک ہے، امن پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے، اسی طرح خطے میں ریاستی خود مختاری ، داخلی امن و استحکام اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اور اشتراک کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ارد گرد سیکیورٹی کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، ہم ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا خطرہ دیکھ رہے ہیں، دنیا کے مختلف حصوں میں قابو سے باہر مسلح تصادم جاری ہیں، پرتشدد نظریات کے انسداد کی ضرورت ہے، دہشت گردی مسلسل ایک سنگین خطرہ ہے اور درحقیقت زیادہ خطرناک نتائج کی حامل بن چکی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم ارکان کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج سے جامع حکمت عملی کے ذریعے مل کر نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے، خطے میں ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے باہمی مواصلاتی روابط بہت اہم ہیں۔
وزیراعظم نے منگل کو ژیانگ ژو میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او ) کے14 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش جس صورتحال کی تصویر کشی کی ہے وہ حقیقت افروز ہے، انھوں نے جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں دہشتگردی، انتہا پسندی، مسلکی اور جان لیوا انفرادی اور گروہی تشدد کے واقعات کے تناظر میں امن کی حقیقی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے، تاہم شنگھائی تنظیم کو موثر بنانا ہے، اسے سارک،آسیان اور دیگر اقتصادی عالمی فورمز کے تقابل میں رکھے بغیر پاک چین دوستی کے تاریخی حوالہ اور بے مثال یگانگت کا تسلسل ہونا چاہیے ۔
آج کی عالمی سیاست میں عسکری طاقت ایک اضافی ریاستی قوت کی مظہر بدیہی حقیقت ہے ، مگر اصل طاقت قوموں اور عوام دوست حکومتوں کی مساوات و انصاف پر مبنی مستحکم سماجی و سیاسی نظام ہے جو ملک اقتصادی طور پر طاقتور ہوگا وہی عالمی برادری میں سر اٹھا کر جی سکے گا۔ چین خطے کی عظیم اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے، اس کی امن و بقائے باہمی کی حکمت عملی امن عالم کے کاز میں ایک کلیدی کردار رکھتی ہے ، جب کہ پاکستان اور چین کے باہمی معاشی اہداف اور مشترکہ سرمایہ کاری سے خطے کی سماجی و معاشی تقدیر بدلی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے پاک چین دوستی کو فولادی رشتے میں بدل دیا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نے شنگھائی تنظیم کی رکنیت کے لیے اپنے داخلی عمل کی تکمیل سے نمایاں پیشرفت کی ہے، اب ایس سی او سیکریٹریٹ سے ''پاسداری کی یادداشت'' کا منتظر ہے تاکہ اس کی رکنیت کو جون 2016 میں تاشقند میں آیندہ سربراہ اجلاس میں حتمی شکل دی جا سکے۔اس موقع پر چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ ایس سی او کی توسیع شروع ہو چکی ہے، انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے شدید چیلنجز لاحق ہیں، علاقے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں۔
وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ راہداری کے تمام منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں، چین ارومچی میں ایک تجارتی ویزا آفس قائم کرنے کی اجازت دے تاکہ اقتصادی راہداری منصوبوں پر عمل درآمد اور عوامی وفود کے تبادلوں میں سہولت مل سکے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ فاٹا میں آپریشن ضرب عضب اورملک میں نیشنل ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔
ایس سی او رکن ممالک کو دہشتگردی کے اجتماعی خطرہ کا سامنا ہے اس لیے اس عفریت کے خلاف اتحاد و اشتراک اور باہمی تعاون کو ناقابل تسخیر طاقت کی علامت بن کر طلوع ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے چینی ہم منصب کو نریندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات اور سشما سوراج کے دورہ اسلام آباد کے بارے میں آگاہ کیا ۔ ادھر میڈیا کی اطلاع کے مطابق بھارتی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر تاریخ کا دھارا بدلنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ سرحدی خلاف ورزیاں، دہشت گردی اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ امن کے لیے خطرہ ہے۔
مودی کا بیان اچھے موقع پر آیا ہے مگر شرط یہ ہے کہ بھارت اپنا فرسودہ مائنڈ سیٹ بدلے اور تزویراتی ،عسکری، سیاسی اور سفارتی سطح پر وہی کرے جو خطے میں امن سے مشروط ہو، سشما سوراج کی آمد کے بعد جو ماحول بنا ہے اور تاریخ بدلنے کا جو اچھوتا خیال مودی کے ذہن میں آیا ہے وہ اسے نیک نیتی سے پاکستان کے ساتھ شیئر کرے تاکہ برصغیر کی تاریخ اورہمسائیگی کے زمینی حقائق اور عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے دو ملک خطے میں امن اور کروڑوں عوام کی خوش حالی اور آسودگی کے لیے اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
پاک بھارت تعلقات میں بہتری پاکستان ہی نہیں بھارت کے بھی مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ابھی شروعات ہوئی ہیں، اب بھارت کی ذمے داری ہے کہ وہ فہم و فراست کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے میں پاکستان سے تعاون کرے، مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ۔
وزیراعظم کو شنگھائی تقریب میں بھی کراچی یاد رہا، انھوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا، کراچی کے حالات بہتر ہوں گے تو ملک کے حالات بہتر رہیں گے۔اس بیان سے یہی ثابت ہوتا ہے ملکی سالمیت اور سیاسی استحکام معاشی پیش رفت، ترقی و خوشحالی پر مبنی منصوبوں کی تکمیل سے منسلک ہے، امن پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے، اسی طرح خطے میں ریاستی خود مختاری ، داخلی امن و استحکام اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اور اشتراک کی ضرورت ہے۔