پاکستان سمیت 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد
دہشت گردی اور شدت پسندی میں ملوث عناصر کی بیخ کنی کے لیے اسلامی ممالک کو اتحاد کی ضرورت ہے
اسلامی ممالک کا اتحاد خوش آیند ضرور ہے لیکن یہ امر ممکن بنانے کی ضرورت ہے کہ اتحاد کسی دوسرے مسلم ملک کے لیے ضرور رساں ثابت نہ ہو۔ فوٹو : فائل
دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 34 اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں مصر، قطر اور عرب امارات جیسے کئی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، ملائیشیا اور افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔ اتحاد میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔
جس پر پاکستان کی جانب سے اظہار حیرت کیا گیا ہے کیونکہ اتحاد میں شمولیت اور نام دینے سے پہلے پاکستان سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے اور کہا ہے کہ ان ملکوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، باہمی روابط اور ملٹری آپریشن کی غرض سے اس کا مشترکہ آپریشن سینٹر ریاض میں ہوگا۔
جمہوریہ انڈونیشیا سمیت 10 دوسرے ممالک نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اسلامی ممالک کے اتحاد کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے، جب کہ بہت سے اسلامی ممالک حیرت میں پڑگئے ہیں کیونکہ ان کا نام شامل کرنے سے پہلے بھی صلاح مشورہ نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب کے وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان جیسے ممالک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط کیا جائے گا۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے، جس کے تحت شدت پسند تنظیم داعش کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا شام میں ایک مختلف اتحاد کی سربراہی کررہا ہے، شام میں داعش کے خلاف برسرپیکار ہے، اس کے ساتھ ایران اور روس ہیں جب کہ ایران عراق میں داعش کے خلاف فوجی اور اسلحہ کی فراہمی کے ذریعے عراقی حکومت کی مدد کررہا ہے۔
بلاشبہ دہشت گردی اور شدت پسندی میں ملوث عناصر کی بیخ کنی کے لیے اسلامی ممالک کو اتحاد کی ضرورت ہے لیکن کسی بھی ملک کا نام شامل کرنے سے پہلے مشاورت ضروری تھی، نیز اسلامی ممالک کے مابین تنازعات بھی اس اتحاد کی افادیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
پاکستان کا اظہار حیرت بجا ہے کیونکہ اس سے پہلے یمن اتحاد میں پاکستان نے شمولیت سے انکار کردیا تھا، اب پھر اس کا نام شامل کیا گیا ہے جب کہ پاکستان داعش کے خلاف امریکا کی جانب سے اسی قسم کے اتحاد کی پیشکش رد کرچکا ہے۔ پاکستان پہلے ہی مختلف النوع خارجی و داخلی مسائل کا شکار ہے، اس جانب توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس اتحاد کے ذریعے کسی عالمی سازش کا شکار نہ ہوا جائے۔ اسلامی ممالک کا اتحاد خوش آیند ضرور ہے لیکن یہ امر ممکن بنانے کی ضرورت ہے کہ اتحاد کسی دوسرے مسلم ملک کے لیے ضرور رساں ثابت نہ ہو۔
جس پر پاکستان کی جانب سے اظہار حیرت کیا گیا ہے کیونکہ اتحاد میں شمولیت اور نام دینے سے پہلے پاکستان سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے اور کہا ہے کہ ان ملکوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، باہمی روابط اور ملٹری آپریشن کی غرض سے اس کا مشترکہ آپریشن سینٹر ریاض میں ہوگا۔
جمہوریہ انڈونیشیا سمیت 10 دوسرے ممالک نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اسلامی ممالک کے اتحاد کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے، جب کہ بہت سے اسلامی ممالک حیرت میں پڑگئے ہیں کیونکہ ان کا نام شامل کرنے سے پہلے بھی صلاح مشورہ نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب کے وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان جیسے ممالک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط کیا جائے گا۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے، جس کے تحت شدت پسند تنظیم داعش کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا شام میں ایک مختلف اتحاد کی سربراہی کررہا ہے، شام میں داعش کے خلاف برسرپیکار ہے، اس کے ساتھ ایران اور روس ہیں جب کہ ایران عراق میں داعش کے خلاف فوجی اور اسلحہ کی فراہمی کے ذریعے عراقی حکومت کی مدد کررہا ہے۔
بلاشبہ دہشت گردی اور شدت پسندی میں ملوث عناصر کی بیخ کنی کے لیے اسلامی ممالک کو اتحاد کی ضرورت ہے لیکن کسی بھی ملک کا نام شامل کرنے سے پہلے مشاورت ضروری تھی، نیز اسلامی ممالک کے مابین تنازعات بھی اس اتحاد کی افادیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
پاکستان کا اظہار حیرت بجا ہے کیونکہ اس سے پہلے یمن اتحاد میں پاکستان نے شمولیت سے انکار کردیا تھا، اب پھر اس کا نام شامل کیا گیا ہے جب کہ پاکستان داعش کے خلاف امریکا کی جانب سے اسی قسم کے اتحاد کی پیشکش رد کرچکا ہے۔ پاکستان پہلے ہی مختلف النوع خارجی و داخلی مسائل کا شکار ہے، اس جانب توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس اتحاد کے ذریعے کسی عالمی سازش کا شکار نہ ہوا جائے۔ اسلامی ممالک کا اتحاد خوش آیند ضرور ہے لیکن یہ امر ممکن بنانے کی ضرورت ہے کہ اتحاد کسی دوسرے مسلم ملک کے لیے ضرور رساں ثابت نہ ہو۔