رینجرز کی کارروائی پیشگی اجازت سے مشروط
جو سیاسی جماعتیں شہر قائد سے اپنی وابستگی کے پر امن مشن پر قائم ہیں وہ رینجرز کے معاملہ پر بھی اتفاق رائے پیدا کریں
جو سیاسی جماعتیں شہر قائد سے اپنی وابستگی کے پر امن مشن پر قائم ہیں وہ رینجرز کے معاملہ پر بھی اتفاق رائے پیدا کریں، فوٹو: فائل
سندھ اسمبلی نے صوبہ میں رینجرز کے قیام کی مشروط توثیق کر دی جس کے تحت رینجرز کو سرکاری دفتر پر چھاپے اور دہشتگردوں کے سہولت کار کی گرفتاری کے لیے وزیر اعلیٰ سے پیشگی اجازت لینا ہو گی، اپوزیشن نے قرارداد مسترد کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ قرارداد کی تفصیل اخبارات میں آ چکی ہے تاہم مثبت پیش رفت یہ ہے کہ کوئی فیصلہ سامنے آ گیا، مسئلہ مشروط اختیارات سے رینجرز کی ساکھ یا اس کی ادارہ جاتی ساکھ کے متاثر ہونے کا کوئی سوال نہیں، متنازع بنائے جانے والے رینجرز نے تو جلتے ہوئے شہر کو بچایا ہے، پولیس کا بھی اس میں اہم کردار ہے، ان کی قربانیوں سے شہر کی رونقیں لوٹ آئی ہیں، اپوزیشن اور حکومتی پارٹی کو مل کر صورتحال سنبھالنا چاہیے۔
واک آؤٹ نہیں اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جو سیاسی جماعتیں شہر قائد سے اپنی وابستگی کے پر امن مشن پر قائم ہیں وہ رینجرز کے معاملہ پر بھی اتفاق رائے پیدا کریں، ہر مسئلہ کو پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلز پر اچھالنے کی روش جمہوری عمل کو استحکام نہیں دے سکے گی، اس سے بداعتمادی اور بے یقینی اور بڑھے گی جب کہ رینجرز اور پولیس کا موثر اشتراک عمل ناگزیر ہے جس کے لیے کوشش ہونی چاہیے کہ متانت، رواداری، تحمل و برداشت کا کلچر مستحکم ہو، ساتھ ہی ساتھ سندھ اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو امن انتظامی شفافیت اور کرپشن سے پاک نظام دینا اولین ہدف ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے سیاسی اشتراک عمل اتفاق رائے اور مفاہمانہ طرز عمل سے معاملات کو سلجھانا زیادہ بہتر ہے۔ اس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ رینجرز نے امن کے قیام دہشت گردوں بھتہ خوروں ٹارگٹ کلرز اور گینگ وار میں ملوث عناصر کو لگام دی ہے لیکن سندھ پر اس کا یہ احسان نہیں بلکہ رینجرز افسران و اہلکاروں کی فرض شناسی اور صوبہ کو سماجی و معاشی تباہی سے بچانے کی پر جوش کوشش کا نتیجہ امن کے امکانات کو روش کیے ہوئے ہے، ابھی مشن پورا نہیں ہوا ہے، دہشت گرد ی کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، کراچی میں لاقانونیت اور جرائم پیشہ عناصر سے خالی نہیں ہوا، وارداتیں ہو رہی ہیں، بے پناہ غیر قانونی اسلحہ شہر کو آتش فشاں بنا سکتا ہے، مژگاں کھول کے رکھنے کا وقت ہے، کراچی آپریشن متفقہ فیصلہ کا مظہر ہے، اسے مزید بلا امتیاز ثابت کرنے کی ضرورت ہے، کرمنل عناصر راہ فرار اختیار کرتے جا رہے ہیں، ان کے تعاقب میں ٹمپو برقرار رہنا چاہیے جو ملک و قوم کے دشمن ہیں، کراچی کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ رینجرز کے اختیارات کی مشروطی کو ایشو نہیں بنایا جائے گا۔ اسے کوئی منفی یا معاندانہ رخ دینا قطعی مناسب نہیں۔ جمہوریت بدامنی کے ہاتھوں ڈسی جا چکی ہے، اس کے استحکام اور ملکی ترقی و عوام کی آسودگی کے لیے پولیس اور رینجرز کے مابین آہنی دوستی کا نیا باب کھولنا صرف سندھ ہی نہیں پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ معاشرے میں جرائم کی شدت اور نوعیت غیر انسانی حد تک ہولناک ہو گئی ہے، حکومت کوشش کرے کہ مفاہمت مزید فروغ پائے، دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کی گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی افسوسناک صورتحال باقی نہیں رہنی چاہیے۔ قرارداد میں پاکستان رینجرز کی سندھ میں تعیناتی پر شرائط عائد کی گئی ہیں ۔ رینجرز کو صرف ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور فرقہ ورانہ کلنگ سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے۔
قرار داد میں دوسری شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ دہشت گردوں کی مالی اعانت یا سہولت فراہم کرنے کے شک کی بنیاد پر کسی شخص کو حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جائے گا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ سندھ پولیس اور پاکستان رینجرز (سندھ) کی مشترکہ کوششوں سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی اور حکومت سندھ ان دونوں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسروں اور جوانوں کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہتی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ حکومت سندھ نے پاکستان رینجرز سندھ کو 12 ماہ کے لیے تعینات کرنیکا جو فیصلہ کیا تھا، اس کی ان شرائط کے تحت توثیق کی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا کہ قرارداد کے ذریعہ رینجرز کے اختیارات کم نہیں کیے گئے، رینجرز کے پاس جو پہلے اختیارات تھے، وہی اختیارات اسے حاصل رہیں گے۔ اب کنفیوژن کے بجائے باہمی اعتماد سے کارروائی ہونی چاہیے۔
واک آؤٹ نہیں اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جو سیاسی جماعتیں شہر قائد سے اپنی وابستگی کے پر امن مشن پر قائم ہیں وہ رینجرز کے معاملہ پر بھی اتفاق رائے پیدا کریں، ہر مسئلہ کو پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلز پر اچھالنے کی روش جمہوری عمل کو استحکام نہیں دے سکے گی، اس سے بداعتمادی اور بے یقینی اور بڑھے گی جب کہ رینجرز اور پولیس کا موثر اشتراک عمل ناگزیر ہے جس کے لیے کوشش ہونی چاہیے کہ متانت، رواداری، تحمل و برداشت کا کلچر مستحکم ہو، ساتھ ہی ساتھ سندھ اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو امن انتظامی شفافیت اور کرپشن سے پاک نظام دینا اولین ہدف ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے سیاسی اشتراک عمل اتفاق رائے اور مفاہمانہ طرز عمل سے معاملات کو سلجھانا زیادہ بہتر ہے۔ اس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ رینجرز نے امن کے قیام دہشت گردوں بھتہ خوروں ٹارگٹ کلرز اور گینگ وار میں ملوث عناصر کو لگام دی ہے لیکن سندھ پر اس کا یہ احسان نہیں بلکہ رینجرز افسران و اہلکاروں کی فرض شناسی اور صوبہ کو سماجی و معاشی تباہی سے بچانے کی پر جوش کوشش کا نتیجہ امن کے امکانات کو روش کیے ہوئے ہے، ابھی مشن پورا نہیں ہوا ہے، دہشت گرد ی کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، کراچی میں لاقانونیت اور جرائم پیشہ عناصر سے خالی نہیں ہوا، وارداتیں ہو رہی ہیں، بے پناہ غیر قانونی اسلحہ شہر کو آتش فشاں بنا سکتا ہے، مژگاں کھول کے رکھنے کا وقت ہے، کراچی آپریشن متفقہ فیصلہ کا مظہر ہے، اسے مزید بلا امتیاز ثابت کرنے کی ضرورت ہے، کرمنل عناصر راہ فرار اختیار کرتے جا رہے ہیں، ان کے تعاقب میں ٹمپو برقرار رہنا چاہیے جو ملک و قوم کے دشمن ہیں، کراچی کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ رینجرز کے اختیارات کی مشروطی کو ایشو نہیں بنایا جائے گا۔ اسے کوئی منفی یا معاندانہ رخ دینا قطعی مناسب نہیں۔ جمہوریت بدامنی کے ہاتھوں ڈسی جا چکی ہے، اس کے استحکام اور ملکی ترقی و عوام کی آسودگی کے لیے پولیس اور رینجرز کے مابین آہنی دوستی کا نیا باب کھولنا صرف سندھ ہی نہیں پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ معاشرے میں جرائم کی شدت اور نوعیت غیر انسانی حد تک ہولناک ہو گئی ہے، حکومت کوشش کرے کہ مفاہمت مزید فروغ پائے، دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کی گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی افسوسناک صورتحال باقی نہیں رہنی چاہیے۔ قرارداد میں پاکستان رینجرز کی سندھ میں تعیناتی پر شرائط عائد کی گئی ہیں ۔ رینجرز کو صرف ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور فرقہ ورانہ کلنگ سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے۔
قرار داد میں دوسری شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ دہشت گردوں کی مالی اعانت یا سہولت فراہم کرنے کے شک کی بنیاد پر کسی شخص کو حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جائے گا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ سندھ پولیس اور پاکستان رینجرز (سندھ) کی مشترکہ کوششوں سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی اور حکومت سندھ ان دونوں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسروں اور جوانوں کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہتی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ حکومت سندھ نے پاکستان رینجرز سندھ کو 12 ماہ کے لیے تعینات کرنیکا جو فیصلہ کیا تھا، اس کی ان شرائط کے تحت توثیق کی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا کہ قرارداد کے ذریعہ رینجرز کے اختیارات کم نہیں کیے گئے، رینجرز کے پاس جو پہلے اختیارات تھے، وہی اختیارات اسے حاصل رہیں گے۔ اب کنفیوژن کے بجائے باہمی اعتماد سے کارروائی ہونی چاہیے۔