دہشت گردی کیخلاف جنگ سیاسی جماعتوں کی ذمے داری

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم تقسیم کی لکیریں ختم کرتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم تقسیم کی لکیریں ختم کرتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر اے پی ایس میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں ہر سال16دسمبر کو '' یوم عزم تعلیم''کے طور پر منانے اورآرمی پبلک اسکول پشاور کو اے پی ایس شہداء یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ''اے اپی ایس کے شہید بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور کسی بھی دہشت گرد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، دہشت گردوں کا مکمل صفایا کر کے دم لیں گے۔

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم تقسیم کی لکیریں ختم کرتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، اب کوئی اگر مگر نہیں ہو گی مشن صرف ایک ہی ہے دہشت گردی کا خاتمہ اور یہ خاتمہ ہم کرکے رہیں گے، سانحہ اے پی ایس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور ہمارے بچوں کے خون نے ہمیں ایک فیصلہ پر پہنچایا کہ ہم نے اس لہو کی ایک، ایک بوند کا حساب لینا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا جس کی بدولت دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے دہشت گردوں کی تربیت گاہیں تباہ ہوچکی ہیں اور اب وہ دن دور نہیں جب دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا نہیں ہو جاتا، دہشت گرد کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور نہ ہم کسی کو قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت دے سکتے ہیں، نئی نسل کو روشن پاکستان دیں گے کیونکہ شہید بچوں کے لہو نے پاکستان کے مستقبل کے راستے کا تعین کر دیا ہے، یہ شہید بچے ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور مجھے یقین ہے کہ وہ جنت کے باغوں میں آسودہ ہونگے'' تقریب میں چاروں صوبوں اورگلگت بلتستان کے وزرائے اعلی وگورنرز، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سروسز چیفس، عمران خان، سراج الحق، غیر ملکی سفراء، شہداء کے والدین اور ورثاء نے شرکت کی۔

سانحہ اے پی ایس کو ایک برس بیت گیا اس سانحے نے جہاں پوری قوم کو رلا دیا وہاں اس نے دہشت گردی کے خلاف اسے اتحاد اور اتفاق کی لڑی میں بھی پرو دیا، اس سانحے کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں اور ملک کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے خواہ اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا۔


ہماری بہادر افواج یک جان ہو کر اس مشن میں مصروف ہو گئیں، یہ مشن آسان نہ تھا مگر ہماری افواج نے قربانیوں کی ایک نئی داستان رقم کرتے ہوئیاسے کامیاب کرکے دکھایا جس کی پوری دنیا معترف ہے اور بالآخر اس علاقے میں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں اور اڈے تباہ کر دیے جس سے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان بنایا گیا اور دہشت گردی میں ملوث متعدد افراد کو سزائے موت دی گئی۔ دہشت گرد شمالی وزیرستان سے بھاگ کر ملک کے مختلف علاقوں میں چھپے بیٹھے ہیں اب ان میں سامنے آنے کی ہمت نہیں رہی اور وہ چھپ کر وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے اپنے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں لیکن ہماری حکومت اور عسکری قیادت نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ اس جنگ میں کسی بھی طور پر پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے خواہ اس کے لیے انھیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ چند دنوں کا قصہ نہیں یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے جو ناجانے کب ختم ہو اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ملک میں ایسی طاقتور قوتیں بھی موجود ہیں جن کا مفاد اس جنگ کے جاری رہنے میں ہے اور وہ دہشت گردوں کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ جنگ صرف عسکری قیادت کی نہیں پوری قوم کی ہے اسے جیتنے کے لیے سب کو یکجا ہو کر آگے بڑھنا ہو گا' پوری قوم کا تعاون اور جذبہ ہی اس جنگ کو جلد از جلد اختتام تک لے جا سکتا ہے لیکن دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاستدانوں کا پلیٹ فارم اس جنگ میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا جو حالات کا متقاضی ہے۔

اے پی ایس کے بچوں نے تو اس جنگ کے خاتمے کے لیے نعرہ لگا دیا کہ انھیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے تاکہ تعلیم کے ہتھیار کے ذریعے انسانیت کے ان دشمنوں کا خاتمہ کیا جا سکے لیکن سیاستدانوں نے اس سلسلے میں زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پوری قوم کو ساتھ لے کر اس جنگ کے خلاف میدان عمل میں اتر آئیں تاکہ وطن عزیز کے گوشے گوشے کو امن کا گہوارہ بنا دیا جائے۔ جمہوری حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کا کام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صرف بیان دے کر خود کو بری الذمہ سمجھیں بلکہ ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی فکری نشستوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔

ان فکری نشستوں میں سیاسی کارکنوں کی ذہنی تربیت کی جائے تاکہ انھیں دہشت گردی کے مضمرات سے آگاہی حاصل ہو سکے' ادھر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نصاب تعلیم کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قوم کے بچوں کی ذہن سازی کر کے پاکستان کو متمدن اور مہذب ریاست کا روپ دیا جا سکے۔
Load Next Story