آرٹس کونسل کے انتخابات اور ادب

آرٹس کونسل میں سالانہ انتخابات ہو رہے ہیں، ہر سال کی طرح اس سال بھی 2016ء کے سالانہ انتخابات ہوں گے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

آرٹس کونسل میں سالانہ انتخابات ہو رہے ہیں، ہر سال کی طرح اس سال بھی 2016ء کے سالانہ انتخابات ہوں گے اور روایت کے مطابق انتخابات میں شرکت کرنے والے آرٹس کونسل کی نیک نامی اور اراکین آرٹس کونسل کے منورنجن کے لیے مختلف پروگراموں کا اعلان اور وعدے کر رہے ہیں۔ آرٹس کونسل کے ایجنڈے میں ادب اور فن کا فروغ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

فن و ثقافت کے حوالے سے ہر سال آرٹس کونسل کے منتظمین بہت سارے دلچسپ پروگرام پیش کرتے ہیں جن کی اپنی افادیت ہوتی ہے ۔ کراچی کے خوفزدہ ماحول کو نارمل کرنے میں تفریحی پروگرام مثبت کردار ادا کر رہے ہیں لیکن اس حوالے سے قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان پروگراموں سے عموماً آرٹس کونسل کے اراکین اور ان کی فیملیز استفادہ کرتی ہیں اور ان اراکین کی تعداد 3-4 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

جب کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ بتائی جاتی ہے۔ کیا دو کروڑ کی آبادی میں سے ڈھائی لاکھ بھی ان پروگراموں سے استفادہ کر سکتے ہیں؟آرٹس کونسل عشروں سے فعال ہے، لیکن اس کی سرگرمیاں آرٹس کونسل کی باؤنڈری وال تک محدود ہیں اور اس باؤنڈری وال میں داخلے کے لیے آرٹس کونسل کا ممبر ہونا ضروری ہے، ہمارے احمد شاہ پینل نے ''عوام کے مفاد'' میں ممبر شپ کی شرائط نرم کرتے ہوئے آرٹ لور یعنی آرٹ سے محبت کرنے والوں کو بھی آرٹس کونسل کی ممبر شپ حاصل کرنے کا اہل بنا دیا ۔مگر ایسا لگتا ہے کہ اس رعایت اور آسانی کی درست طریقے پبلسٹی نہیں کی گئی۔ اگر الیکٹرانک میڈیا پر دو چار اشتہار چلا دیے جاتے تو بلا شبہ کراچی کے لاکھوں شہری آرٹس کونسل کے ممبر ہو چکے ہوتے۔

آرٹ کو عوام تک پہنچانے کا ایک اور طریقہ ہے۔ جو کئی ملکوں میں رائج ہے۔ وہ ہے اسٹریٹ تھیٹر، پاکستان میں بھی اسٹریٹ تھیٹر کا سلسلہ چلا لیکن یہ کام چونکہ چند بے وسیلہ لیکن ایماندار افراد کرتے رہے اس لیے اسٹریٹ تھیٹر ہمارے کلچر کا حصہ بن کر عوام تک نہ پہنچ سکا، ہمارے مرحوم دوست علی احمد اسٹریٹ تھیٹر کے ماہر اور رسیا تھے۔


بد قسمتی سے علی احمد ایک حادثے میں انتقال کر گئے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔ لیکن ثانیہ سعید سمیت کچھ گروپ اسٹریٹ تھیٹر کو جاری رکھنے کی کوشش تو کرتے رہے لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ لوگ زیادہ فعال نہ ہو سکے آرٹس کونسل کے ایجنڈے کا دوسرا بڑا آئٹم ادب ہے پہلے ادب کی اہمیت پر ہم تھوڑی سی روشنی ڈالیں گے۔

ہمارا ملک جن مسائل سے دو چار ہے ان میں غربت، مہنگائی، جرائم ایلیٹ کلاس کی کھربوں کی لوٹ مار مذہبی انتہا پسندی انسانوں کی رنگ نسل زبان فرقوں، قومیتوں، فقہوں میں تقسیم طبقاتی استحصال ایسے مسائل ہیں جو عوام کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں، ہماری جمہوری حکومتیں چونکہ اپنے ہی مسائل کے حل میں مصروف ہوتی ہیں اس لیے عوام کے مسائل کے حل میں وہ رسمی اقدامات کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے۔ادب ایک ایسا میڈیم ہے جو ان مسائل کا مستقل حل ذہنی تبدیلیوں کی شکل میں پیش کر سکتا ہے اور کرتا رہا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کتاب کلچر رہا ہی نہیں بلاشبہ الیکٹرانک میڈیا نے عوام کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر لی ہے لیکن ادب سے عوام میں دلچسپی پیدا کر کے کتاب کلچر کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔

آرٹس کونسل ہر سال دسمبر کے مہینے میں ایک بڑی اردو کانفرنس کا اہتمام کرتی ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے والے لوگوں کی تعداد بھی بہت محدود ہی ہوتی ہے اور اس کے اثرات بھی وقتی ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے ملک کے جن اہم مسائل کی نشان دہی کی ہے ان کے حل کے لیے بلکہ دیر پا حل کے لیے عوام کی ذہنی تبدیلی ضروری ہے اور یہ کام صرف ادب ہی انجام دے سکتا ہے اور اس کے لیے منتخب قومی اور بین الاقوامی ادب کا عوام تک پہنچنا ضروری ہے اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ منتخب ادب کے انتہائی سستے ایڈیشن تیار کر کے ان کی ہر شہر کے بک اسٹالوں تک ترسیل کا ایک منظم سسٹم تیار کیا جائے یہ کام وہی ادارے کر سکتے ہیں جن کے پاس وسائل ہوں۔

آرٹس کونسل کراچی کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ یہ بامقصد اور انقلابی کام انجام دے سکتا ہے لیکن عشروں سے اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے، اس کے بجائے عمارتوں کی تعمیر پر ساری توانائیاں اور وسائل ضایع کیے جا رہے ہیں جب کہ ہماری قومی ضرورت ذہنوں کی تعمیر ہے آرٹس کونسل میں صرف فنکار ہی نہیں بلکہ نامور ادیب اور شاعر موجود ہیں کیا انھیں اس بات کا احساس نہیں کہ عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ ہمیں ذہنوں کی تعمیر کی ضرورت ہے اور ذہنوں کی تعمیر کا سب سے موثر اور اہم وسیلہ ادب ہی ہے کیا آرٹس کونسل کے ادباء اور شعراء ادب کی اہمیت سے غافل ہیں یا ان کی سنی نہیں جاتی تو پھر ان کا آرٹس کونسل سے نتھی رہنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آرٹس کونسل کے انتخابات لڑنے والے کسی پینل کے ایجنڈے میں کتاب کلچر کا احیاء شامل نہیں۔
Load Next Story