ایرانی سیمنٹ پر20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا مطالبہ
20فیصدکسٹمزڈیوٹی کے باوجودایرانی سیمنٹ حکام کی ملی بھگت سے 40 فیصد سستی بک رہی ہے
ٹیکس چوری کیساتھ ایرانی سیمنٹ پاکستانی معیارپربھی پورانہیں اترتی، محصولات لینے اورپی ایس کیوسی اے سرٹیفکیٹ کے بعدملک میں آنے دیا جائے،سیکریٹری خزانہ کوخط فوٹو: فائل
آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) نے وزارت خزانہ سے درخواست کی ہے کہ مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے ایران سے درآمد ہونے والی سیمنٹ پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے۔
چیئرمین اے پی سی ایم اے محمد علی ٹبا نے اپنے ایک خط کے ذریعے سیکریٹری فنانس وقار مسعود خان کی توجہ اس امر پر مبذول کرائی ہے کہ ایرانی سیمنٹ کی درآمد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، ہر روز ایرانی سیمنٹ کی مقدار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور روزانہ درآمد ہونے والی سیمنٹ کی مقدار 2 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی کے باوجود ایرانی سیمنٹ بلوچستان میں مقامی سیمنٹ کے مقابلے میں 40 فیصد کم قیمت پر فروخت کی جارہی ہے اور اس میں کسٹم حکام کی ملی بھگت بھی شامل ہے، ایرانی سیمنٹ کی درآمد کے نتیجے میں بلوچستان اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں میں ایرانی سیمنٹ کی بھرمار ہوگئی ہے۔
ایران سے سیمنٹ بحری، زمینی اور ریلوے روٹ کے ذریعے درآمد کی جارہی ہے، ایرانی سیمنٹ پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں ٹیکس چوری کی وجہ سے مقامی سیمنٹ بڑی تیزی سے اپنی مارکیٹ کھو رہی ہے، ایرانی سیمنٹ پی ایس کیو سی اے کے معیارات پر بھی پورا نہیں اترتی، حکام کو چاہیے کہ وہ سیمنٹ کی درآمد کی اس وقت تک اجازت نہ دے جب تک سیمنٹ کی مد میں مکمل ڈیوٹی اور ٹیکس نہ ادا کردیے جائیں اور ساتھ ہی یہ پی ایس کیو سی اے کے معیارات پر بھی پورا اترنے کے سرٹیفکیٹ کی حامل ہو۔
پاکستانی سیمنٹ انڈسٹری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہے، سیمنٹ ہماری اہم برآمد بھی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں ہر سال 0.5 ارب ڈالر کی برآمد کے ذریعے ملک کے لیے اہم زرمبادلہ بھی حاصل کرتی ہے۔
ایرانی سیمنٹ کی درآمد سے مقامی صنعت بری طرح متاثر ہو گی اور صنعت کی سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچے گا۔ چیئرمین اے پی سی ایم اے نے تجویز دی کہ ایچ ایس کوڈ 2523:2900 کے تحت سیمنٹ امپورٹ پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے۔
چیئرمین اے پی سی ایم اے محمد علی ٹبا نے اپنے ایک خط کے ذریعے سیکریٹری فنانس وقار مسعود خان کی توجہ اس امر پر مبذول کرائی ہے کہ ایرانی سیمنٹ کی درآمد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، ہر روز ایرانی سیمنٹ کی مقدار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور روزانہ درآمد ہونے والی سیمنٹ کی مقدار 2 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی کے باوجود ایرانی سیمنٹ بلوچستان میں مقامی سیمنٹ کے مقابلے میں 40 فیصد کم قیمت پر فروخت کی جارہی ہے اور اس میں کسٹم حکام کی ملی بھگت بھی شامل ہے، ایرانی سیمنٹ کی درآمد کے نتیجے میں بلوچستان اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں میں ایرانی سیمنٹ کی بھرمار ہوگئی ہے۔
ایران سے سیمنٹ بحری، زمینی اور ریلوے روٹ کے ذریعے درآمد کی جارہی ہے، ایرانی سیمنٹ پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں ٹیکس چوری کی وجہ سے مقامی سیمنٹ بڑی تیزی سے اپنی مارکیٹ کھو رہی ہے، ایرانی سیمنٹ پی ایس کیو سی اے کے معیارات پر بھی پورا نہیں اترتی، حکام کو چاہیے کہ وہ سیمنٹ کی درآمد کی اس وقت تک اجازت نہ دے جب تک سیمنٹ کی مد میں مکمل ڈیوٹی اور ٹیکس نہ ادا کردیے جائیں اور ساتھ ہی یہ پی ایس کیو سی اے کے معیارات پر بھی پورا اترنے کے سرٹیفکیٹ کی حامل ہو۔
پاکستانی سیمنٹ انڈسٹری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہے، سیمنٹ ہماری اہم برآمد بھی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں ہر سال 0.5 ارب ڈالر کی برآمد کے ذریعے ملک کے لیے اہم زرمبادلہ بھی حاصل کرتی ہے۔
ایرانی سیمنٹ کی درآمد سے مقامی صنعت بری طرح متاثر ہو گی اور صنعت کی سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچے گا۔ چیئرمین اے پی سی ایم اے نے تجویز دی کہ ایچ ایس کوڈ 2523:2900 کے تحت سیمنٹ امپورٹ پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے۔