پارا چنار کا نوحہ
پارا چنار کا شمار خیبر پختونخوا کے خوبصورت علاقوں میں ہوتا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
پارا چنار کا شمار خیبر پختونخوا کے خوبصورت علاقوں میں ہوتا ہے، اس خوبصورت علاقے میں فطرت کے بدصورت حیوانوں نے ایک زبردست دھماکا کر دیا جہاں لنڈا بازار میں غریب اور متوسط طبقے کے عوام سخت سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پرانے کپڑے خرید رہے تھے۔ پختون ایک غیرت مند اور سامراج دشمن قوم ہے جس کی پوری تاریخ سامراج کی مزاحمت کی تاریخ ہے، اس باغیرت اور سامراج دشمن قوم میں غربت کا عالم یہ ہے کہ غریب ہی نہیں بلکہ متوسط طبقے کے عوام بھی سامراجی ملکوں کے پرانے کپڑے خرید کر سردیوں کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کے بہادر عوام سامراج کے چھوڑے ہوئے کالے غلاموں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے جنھوں نے قوم کی 80 فیصد دولت پر قبضہ کر کے ملک کی 90 فیصد آبادی کو لنڈا کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لنڈا سے پرانے کپڑے خریدنے میں مصروف موت سے بے خبر لوگوں کے سروں پر وحشیوں نے ایسی موت مسلط کر دی کہ ان کے سر ایک طرف اڑ گئے اور جسم چیتھڑوں میں بدل گئے۔ ان معصوم اور بے گناہ لوگوں کا گناہ کیا تھا؟
اس بربریت میں اب تک 25 لوگ شہید اور 70 لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ویسے تو پورا ملک ہی ان وحشیوں کی شکارگاہ بنا ہوا ہے لیکن پختونخوا میں آئے دن ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ پختونخوا ہی میں شدت پسندی اس قدر شدید کیوں ہے؟ بلاشبہ پختون بہادر اور غیرت مند لوگ ہوتے ہیں وہ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ محبت اور رواداری کا سلوک نہیں کرتے بلکہ باہر سے آنے والے مہمانوں کی میزبانی اس محبت اور خلوص سے کرتے ہیں کہ مہمان نوازی انسانیت نوازی میں بدل جاتی ہے ایسی مہمان نواز اور انسان دوست قوم میں ایسے دہشت گرد حیوان کس طرح پیدا ہو گئے جو اپنے ہی نسل اور قومی بھائیوں کو آئے دن ایک بھیانک موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں اور یہ سب اس مذہب کے نام پر ہو رہا ہے جو ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے خون کو حرام کہتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے بالواسطہ مظالم سے ہر سال لاکھوں بچے دودھ سے محرومی کی وجہ لاکھوں مائیں زچگی کے موقعے پر طبی سہولتوں کے فقدان اور ناقص غذا کی وجہ سے مر جاتی ہیں اور کروڑوں انسان بھوک اور بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں پاکستان میں قومی سطح پر اس نظام کا ایجنٹ 2 فیصد طبقہ 80 فیصد دولت پر قبضہ کر کے 90 فیصد عوام کو روٹی کپڑے سے محتاج کر رہا ہے، اگر دہشت گرد خدا کی خوشنودی اور جنت کا حصول چاہتے تو غریب بے گناہ اور لنڈا کے کپڑوں سے سردیوں کا مقابلہ کرنے والوں کے بجائے اپنی بہادری کا رخ اس ظالم ایلیٹ کی طرف کر دیتے جو خوددار انسانوں کو لنڈے بازاروں میں دھکیل رہی ہے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن اور فلسطینیوں کی قاتل اسرائیل حکومت کی طرف موڑ دیتے لیکن ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ اس لیے کہ دہشت گرد سرمایہ دارانہ نظام اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ امریکا، فرانس، جرمنی، روس میں پہنچ کر دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے پڑوس میں موجود اسرائیل تک کیوں نہیں پہنچ سکتے؟
ہمارے ایک پختون مارکسسٹ دانشور دوست نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہتھیار ہمارا زیور ہے ہم اس زیور کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس زیور کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پختون دانشور پختون ادیب پختون شاعر پختون فنکار کیا کر رہے ہیں؟ ہماری حکومت بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں ہم نے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا ہے بالکل بجا بالکل درست لیکن شمالی وزیرستان کے پڑوسی پارا چنار میں پھر 25 افراد کو قتل کرنے اور 70 افراد کو زخمی کرنے والے کون ہیں؟ کراچی میں ملٹری پولیس کو قتل کرنے والے کون ہیں؟ شمالی وزیرستان سے بھاگ کر افغانستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں فروکش ہونے والے دہشت گردوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے ورنہ ہر شہر پارا چنار ہر شہر کراچی ہر شہر پشاور بن جائے گا۔ اس بلا کو بغیر منصوبہ بندی بغیر نظم و ضبط کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اس خوفناک وبا کا آغاز قبائلی علاقوں سے ہوا ہے، اس لیے کہ قبائلی معاشروں میں مذہب پرستی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ مذہبی انتہا پسند قبائلی علاقوں کے معصوم عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پاکستان ہی میں نہیں ساری دنیا میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یہ حق ہر مذہب کے ماننے والوں کو ہے ہمارے ملک کی بیشتر مذہبی جماعتیں بھی اسلام کا نفاذ چاہتی ہیں لیکن وہ 68 سالوں سے اس حوالے سے جمہوری قدروں کی حدود میں رہ کر پرامن جدوجہد کر رہی ہیں 68 سالوں سے عوام ان جماعتوں کو مسترد کرتے آ رہے ہیں۔ کیا یہ جماعتیں انھیں مسترد کرنے والے عوام کو قتل کر رہی ہیں؟ نہیں کیونکہ یہ جماعتیں ایک مسلمان کے خون کو دوسرے مسلمان پر حرام اور ایک مسلمان کے قتل کو سارے عالم کا قتل سمجھتی ہیں۔ اور وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ساری دنیا کے لیے اسلام کو قابل قبول بنانے کے لیے اسے دنیا میں ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہو گا۔ کیا خود بے گناہ مسلمانوں کو آئے دن خون میں نہلا کر بے گناہ عورتوں اور معصوم بچوں کو قتل کر کے دنیا کے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اسلام کی طرف لایا جا سکتا ہے؟
ہمارے سول اور فوجی اکابرین بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہ ارادے بڑے نیک ہیں یہ عزم بڑا متاثر کن ہے لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں جہل میں ہزاروں سالوں کی گہرائی میں پیوستہ ہیں ان جڑوں کو ختم کرنے کے لیے سب سے اولین ضرورت علم کی ہے غالباً علم کی اسی اہمیت کی وجہ سے پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا کہ ''علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین جانا پڑے تو چین جاؤ۔'' اب حصول علم کے لیے چین جانے کی ضرورت نہیں ملک میں تعلیم کو عام اور لازمی کرو، قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے پہنچنے والے نقصانات اور دنیا کے عوام میں مذہب اسلام سے پیدا ہونے والی بدگمانیوں اور اس کے اثرات سے عوام کو آگاہ کرو۔ اعتدال پسند مذہبی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ دین کی شکل بگاڑنے والوں کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کریں۔
اس بربریت میں اب تک 25 لوگ شہید اور 70 لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ویسے تو پورا ملک ہی ان وحشیوں کی شکارگاہ بنا ہوا ہے لیکن پختونخوا میں آئے دن ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ پختونخوا ہی میں شدت پسندی اس قدر شدید کیوں ہے؟ بلاشبہ پختون بہادر اور غیرت مند لوگ ہوتے ہیں وہ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ محبت اور رواداری کا سلوک نہیں کرتے بلکہ باہر سے آنے والے مہمانوں کی میزبانی اس محبت اور خلوص سے کرتے ہیں کہ مہمان نوازی انسانیت نوازی میں بدل جاتی ہے ایسی مہمان نواز اور انسان دوست قوم میں ایسے دہشت گرد حیوان کس طرح پیدا ہو گئے جو اپنے ہی نسل اور قومی بھائیوں کو آئے دن ایک بھیانک موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں اور یہ سب اس مذہب کے نام پر ہو رہا ہے جو ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے خون کو حرام کہتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے بالواسطہ مظالم سے ہر سال لاکھوں بچے دودھ سے محرومی کی وجہ لاکھوں مائیں زچگی کے موقعے پر طبی سہولتوں کے فقدان اور ناقص غذا کی وجہ سے مر جاتی ہیں اور کروڑوں انسان بھوک اور بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں پاکستان میں قومی سطح پر اس نظام کا ایجنٹ 2 فیصد طبقہ 80 فیصد دولت پر قبضہ کر کے 90 فیصد عوام کو روٹی کپڑے سے محتاج کر رہا ہے، اگر دہشت گرد خدا کی خوشنودی اور جنت کا حصول چاہتے تو غریب بے گناہ اور لنڈا کے کپڑوں سے سردیوں کا مقابلہ کرنے والوں کے بجائے اپنی بہادری کا رخ اس ظالم ایلیٹ کی طرف کر دیتے جو خوددار انسانوں کو لنڈے بازاروں میں دھکیل رہی ہے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن اور فلسطینیوں کی قاتل اسرائیل حکومت کی طرف موڑ دیتے لیکن ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ اس لیے کہ دہشت گرد سرمایہ دارانہ نظام اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ امریکا، فرانس، جرمنی، روس میں پہنچ کر دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے پڑوس میں موجود اسرائیل تک کیوں نہیں پہنچ سکتے؟
ہمارے ایک پختون مارکسسٹ دانشور دوست نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ ہتھیار ہمارا زیور ہے ہم اس زیور کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس زیور کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پختون دانشور پختون ادیب پختون شاعر پختون فنکار کیا کر رہے ہیں؟ ہماری حکومت بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں ہم نے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا ہے بالکل بجا بالکل درست لیکن شمالی وزیرستان کے پڑوسی پارا چنار میں پھر 25 افراد کو قتل کرنے اور 70 افراد کو زخمی کرنے والے کون ہیں؟ کراچی میں ملٹری پولیس کو قتل کرنے والے کون ہیں؟ شمالی وزیرستان سے بھاگ کر افغانستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں فروکش ہونے والے دہشت گردوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے ورنہ ہر شہر پارا چنار ہر شہر کراچی ہر شہر پشاور بن جائے گا۔ اس بلا کو بغیر منصوبہ بندی بغیر نظم و ضبط کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اس خوفناک وبا کا آغاز قبائلی علاقوں سے ہوا ہے، اس لیے کہ قبائلی معاشروں میں مذہب پرستی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ مذہبی انتہا پسند قبائلی علاقوں کے معصوم عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پاکستان ہی میں نہیں ساری دنیا میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یہ حق ہر مذہب کے ماننے والوں کو ہے ہمارے ملک کی بیشتر مذہبی جماعتیں بھی اسلام کا نفاذ چاہتی ہیں لیکن وہ 68 سالوں سے اس حوالے سے جمہوری قدروں کی حدود میں رہ کر پرامن جدوجہد کر رہی ہیں 68 سالوں سے عوام ان جماعتوں کو مسترد کرتے آ رہے ہیں۔ کیا یہ جماعتیں انھیں مسترد کرنے والے عوام کو قتل کر رہی ہیں؟ نہیں کیونکہ یہ جماعتیں ایک مسلمان کے خون کو دوسرے مسلمان پر حرام اور ایک مسلمان کے قتل کو سارے عالم کا قتل سمجھتی ہیں۔ اور وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ساری دنیا کے لیے اسلام کو قابل قبول بنانے کے لیے اسے دنیا میں ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہو گا۔ کیا خود بے گناہ مسلمانوں کو آئے دن خون میں نہلا کر بے گناہ عورتوں اور معصوم بچوں کو قتل کر کے دنیا کے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اسلام کی طرف لایا جا سکتا ہے؟
ہمارے سول اور فوجی اکابرین بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہ ارادے بڑے نیک ہیں یہ عزم بڑا متاثر کن ہے لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں جہل میں ہزاروں سالوں کی گہرائی میں پیوستہ ہیں ان جڑوں کو ختم کرنے کے لیے سب سے اولین ضرورت علم کی ہے غالباً علم کی اسی اہمیت کی وجہ سے پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا کہ ''علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین جانا پڑے تو چین جاؤ۔'' اب حصول علم کے لیے چین جانے کی ضرورت نہیں ملک میں تعلیم کو عام اور لازمی کرو، قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے پہنچنے والے نقصانات اور دنیا کے عوام میں مذہب اسلام سے پیدا ہونے والی بدگمانیوں اور اس کے اثرات سے عوام کو آگاہ کرو۔ اعتدال پسند مذہبی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ دین کی شکل بگاڑنے والوں کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کریں۔