حصص مارکیٹ میں مندی کے باعث332 پوائنٹس گرگئے
کاروباری حجم 19.55 فیصد کم رہا، 11 کروڑ44 لاکھ حصص کے سودے ہوئے
کاروباری حجم 19.55 فیصد کم رہا، 11 کروڑ44 لاکھ حصص کے سودے ہوئے ۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
KARACHI:
امریکی ریگولیٹرکی جانب سے امریکا میں قائم پاکستانی بینک کونوٹس کی اطلاع پر بینکنگ سیکٹرمیں فروخت کے دباؤ اور سرمایہ کاروں کے نئی پوزیشن لینے سے گریز کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کواتارچڑھاؤ کے بعددوبارہ مندی رہی جس سے انڈیکس کی33000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پھر گر گئی۔
مندی کی وجہ سے 60 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے51 ارب24 کروڑ59 لاکھ63 ہزار45 روپے ڈوب گئے، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر72.41 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فروخت کا رحجان بڑھنے سے مارکیٹ مندی کے گرداب میں چلی گئی،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس332.50 پوائنٹس کی کمی سے 32777.04 ہو گیا ، کاروباری حجم 19.55 فیصد کم رہا، 11 کروڑ44 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار325 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں 100 کے بھاؤ میں اضافہ، 195 کے داموں میں کمی اور30 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
امریکی ریگولیٹرکی جانب سے امریکا میں قائم پاکستانی بینک کونوٹس کی اطلاع پر بینکنگ سیکٹرمیں فروخت کے دباؤ اور سرمایہ کاروں کے نئی پوزیشن لینے سے گریز کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کواتارچڑھاؤ کے بعددوبارہ مندی رہی جس سے انڈیکس کی33000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پھر گر گئی۔
مندی کی وجہ سے 60 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے51 ارب24 کروڑ59 لاکھ63 ہزار45 روپے ڈوب گئے، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر72.41 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فروخت کا رحجان بڑھنے سے مارکیٹ مندی کے گرداب میں چلی گئی،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس332.50 پوائنٹس کی کمی سے 32777.04 ہو گیا ، کاروباری حجم 19.55 فیصد کم رہا، 11 کروڑ44 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار325 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں 100 کے بھاؤ میں اضافہ، 195 کے داموں میں کمی اور30 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔