ختم نہ ہونے والا نظریہ
سی آئی اے برادر تنظیموں نے مل کر اٹلی میں سازشی کارروائیاں شروع کیں، ا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
دنیا بھر میں موجود معاشی تضادات نے ایک شخص مارکس کو سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف ایک بہتر معاشی نظام پیش کرنے کی ترغیب فراہم کی اس نظام کو سوشلزم اور اس معیشت کو سوشلسٹ معیشت کا نام دیا گیا۔ 1917ء کے روسی انقلاب نے سوشلزم کو ریاستی پالیسی کے طور پر دنیا میں متعارف کرایا۔ سوشلسٹ نظام سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن گیا۔ اس کے خلاف مغربی ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کو متحرک کیا گیا اور اسے یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ دنیا میں کسی ریاست کسی ملک کو سوشلزم کی راہ اختیار کرنے نہ دیں۔ اس سلسلے میں ان ایجنسیوں نے ''آپریشن گلاڈیو'' کے نام سے سوشلسٹوں کے خلاف ایک آپریشن کا آغاز کیا، اس آپریشن میں امریکا کی خفیہ اور معروف ایجنسی سی آئی اے اور اس کے اتحادی ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں شامل تھیں۔ ان کا پہلا شکار اٹلی تھا، اس مشن کا مقصد اٹلی میں کمیونزم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنا تھا۔
سی آئی اے برادر تنظیموں نے مل کر اٹلی میں سازشی کارروائیاں شروع کیں، امریکا نے بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں پہلی سازش یہ کی کہ اس وقت کی اٹلی کی خفیہ ایجنسی ''سائفار'' کے سربراہ کو راضی کر لیا کہ وہ اٹلی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کمیونسٹ نظام کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں۔ اٹلی کی اس خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس بات کا پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے اس مشن سے اپنی حکومت کو لاعلم رکھیں۔ اس سازش کا انکشاف 1990ء میں اس وقت کے وزیر اعظم نے ایک تحقیقاتی مشن کے سامنے کیا۔ یہ حوالہ محض اس لیے دیا جا رہا ہے کہ سامراجی ملکوں کی سوشلزم مخالف سازشوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس طرح کی کئی سازشیں کی جاتی رہیں، جن میں بدعنوان سیاستدانوں، سرکاری ملازموں، صنعت کاروں، فوجی افسروں اور معروف صحافیوں کو بھاری ترغیبات دے کر استعمال کیا جاتا تھا۔
کسی بھی نظام سے غیر مطمئن لوگوں کی یہ اصولی اخلاقی اور دانشورانہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ سازشوں کے بجائے اپنے ناپسندیدہ نظام کا کوئی بہتر متبادل نظام پیش کریں۔ مارکس سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں کا سخت مخالف تھا، وہ دنیا کی 90 فیصد آبادی کو 2 فیصد لٹیری ایلیٹ کی غلامی سے آزادی دلانا چاہتا تھا، سو اس نے برسوں کی ذہنی اور علمی کاوشوں کے بعد ایک نظریہ پیش کیا، جسے مارکسزم کا نام دیا گیا۔
اس نظام میں لٹیرے طبقات کی لوٹ مار کو قانون اور انصاف کے ڈھکوسلوں سے روکنے کے بجائے ارتکاز زر پر ایسی پابندی لگا دی گئی کہ کسی ایک شخص کے ہاتھوں میں یا کسی چھوٹے سے طبقے کے ہاتھوں میں قومی دولت جمع نہ ہو جائے۔ اس نظام میں دوسرا اہم اقدام یہ کیا گیا کہ ''پیداوار برائے منافع'' کے بہیمانہ اصول کو ختم کرتے ہوئے ''پیداوار برائے ضرورت'' کے اصول کو متعارف کرایا گیا۔ یہ دو ایسے بنیادی اصول تھے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ارتکاز زر کے ساتھ منافع خوری کی لعنت سے عوام کو بچاتے تھے، لیکن ان اصولوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کو اس قدر خوفزدہ کر دیا کہ وہ ہر صورت ہر قیمت پر اس نظام کے خاتمے پر متفق ہو گئے اور طرح طرح کی سازشیں طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے۔
پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں میں خاص طور پر یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ مارکسزم کا مطلب لادینیت ہے۔ بدقسمتی سے سرمایہ پرستوں کے مقاصد اور ان کی سازشوں کو سمجھے بغیر ہمارے مذہبی حلقے خود بھی بری طرح اس استحصالی نظام کے شکار تھے، سرمایہ داروں کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے سوشلزم کو لادینیت کہنے لگے۔ یوں بھوکے ننگے غریب عوام کو اس نظام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی گئی جو حقیقت میں سرمایہ دارانہ نظام کا دشمن تھا اور ہے۔ یہ پروپیگنڈہ خاص طور پر ان غریب اور پسماندہ ملکوں میں کیا گیا جہاں کے عوام اس صدیوں پر محیط سفاکانہ سرمایہ دارانہ نظام سے غیر مطمئن تھے اور اس نظام کے خلاف ان میں شدید بے چینی اور نفرت پائی جاتی تھی۔
یہ کیسی ناانصافی ہے کہ ناانصافی کی بنیاد پر تعمیر ہونے والے اس مکروہ نظام کی عمارت کو غربت، بھوک، افلاس، جہل اور ناداری جیسی لعنتوں پر تعمیر کیا گیا اور اس کے خلاف بے چین ہونے والے عوام کو نظریاتی فریب دے کر انھیں اس نظام کے خلاف بغاوت سے روکا گیا اور روکا جا رہا ہے۔ ہمارے وہ سیاستدان، وہ دانشور، وہ معاشی ماہرین جو غربت کے اعداد و شمار بتاتے نہیں تھکتے اور پسماندہ ملکوں میں 53 فیصد لوگوں کو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے اور ہر سال لاکھوں انسانوں کے بھوک سے مر جانے کی خبریں سناتے ہیں، وہ تاریخ کے ایک بہتر اور منصفانہ نظام کا نام لیتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کروڑوں انسانوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی رسی میں جکڑنے والے اب تک اپنے مقاصد میں کامیاب رہے ہیں، لیکن پاکستان سمیت بیشتر پسماندہ ملکوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنٹوں کی اربوں کی کرپشن کی کہانیاں اس قدر تیزی سے عوام میں پھیل رہی ہیں کہ صابر و شاکر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور چھلکنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ اس استحصالی نظام کے بہروپیوں نے اپنے نظام کو عوام کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانے کے لیے جمہوریت کا جو ناٹک رچایا تھا وہ جمہوریت بھی اب سر بازار ننگی ہو رہی ہے اور عوام حیرت سے اس کا گھناؤنا جسم دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ملکوں کی ایجنسیوں نے اب پسماندہ ملکوں میں جہاں پر سرمایہ دارانہ نظام سے بغاوت کے زیادہ امکانات ہیں، ایک طرف جمہوریت کے شعبدہ بازوں کو کھلی چھوٹ دے کر انھیں طاقتور بنا دیا ہے تو اس نامنصفانہ نظام کے حقیقی مخالفین کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ صحیح معنوں میں عوامی جمہوریت لانے کے قابل بھی نہ رہے۔ ٹوٹ پھوٹ، افراتفری میں مبتلا یہ طاقتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عوام ایسے مسیحاؤں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں جو انھیں طبقاتی ناانصافیوں سے نجات دلائیں۔
جو منتشر اور بکھری ہوئی ترقی پسند طاقتیں جو نظریاتی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف ہیں وہ عوام میں جانے ان سے رابطے بڑھانے اور عوام کے سمندر میں مچھلی بن کر رہنے کے بجائے عوام کے سمندر کی ساحلی ریت پر پڑے ہوئے کچھوؤں کی طرح کلبلا رہے ہیں۔ اب تک وہ روایتی انڈر گراؤنڈ سرگرمیوں، مسئلوں کی میٹنگوں کے روایتی کلچر سے باہر نہ نکل سکیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی پرفریب جمہوریت کے پرستار ہر جگہ برسر اقتدار بھی ہیں اور حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ بلاشبہ سوشلسٹ بلاک ختم ہو گیا اور سوشلسٹ ملکوں نے اب منڈی کی معیشت کی راہ اختیار کر لی لیکن سوشلسٹ نظریہ ختم نہیں ہوا اور اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک غریبوں اور امیروں، مزدوروں اور صنعتکاروں، کسانوں اور جاگیرداروں کے درمیان تضادات باقی رہیں گے، خواہ سامراجی ملکوں کی ایجنسیاں اور مقامی ایجنٹ جمہوریت کے تقدس کے کتنے ہی گن گاتے رہیں۔
سی آئی اے برادر تنظیموں نے مل کر اٹلی میں سازشی کارروائیاں شروع کیں، امریکا نے بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں پہلی سازش یہ کی کہ اس وقت کی اٹلی کی خفیہ ایجنسی ''سائفار'' کے سربراہ کو راضی کر لیا کہ وہ اٹلی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کمیونسٹ نظام کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں۔ اٹلی کی اس خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس بات کا پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے اس مشن سے اپنی حکومت کو لاعلم رکھیں۔ اس سازش کا انکشاف 1990ء میں اس وقت کے وزیر اعظم نے ایک تحقیقاتی مشن کے سامنے کیا۔ یہ حوالہ محض اس لیے دیا جا رہا ہے کہ سامراجی ملکوں کی سوشلزم مخالف سازشوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس طرح کی کئی سازشیں کی جاتی رہیں، جن میں بدعنوان سیاستدانوں، سرکاری ملازموں، صنعت کاروں، فوجی افسروں اور معروف صحافیوں کو بھاری ترغیبات دے کر استعمال کیا جاتا تھا۔
کسی بھی نظام سے غیر مطمئن لوگوں کی یہ اصولی اخلاقی اور دانشورانہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ سازشوں کے بجائے اپنے ناپسندیدہ نظام کا کوئی بہتر متبادل نظام پیش کریں۔ مارکس سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں کا سخت مخالف تھا، وہ دنیا کی 90 فیصد آبادی کو 2 فیصد لٹیری ایلیٹ کی غلامی سے آزادی دلانا چاہتا تھا، سو اس نے برسوں کی ذہنی اور علمی کاوشوں کے بعد ایک نظریہ پیش کیا، جسے مارکسزم کا نام دیا گیا۔
اس نظام میں لٹیرے طبقات کی لوٹ مار کو قانون اور انصاف کے ڈھکوسلوں سے روکنے کے بجائے ارتکاز زر پر ایسی پابندی لگا دی گئی کہ کسی ایک شخص کے ہاتھوں میں یا کسی چھوٹے سے طبقے کے ہاتھوں میں قومی دولت جمع نہ ہو جائے۔ اس نظام میں دوسرا اہم اقدام یہ کیا گیا کہ ''پیداوار برائے منافع'' کے بہیمانہ اصول کو ختم کرتے ہوئے ''پیداوار برائے ضرورت'' کے اصول کو متعارف کرایا گیا۔ یہ دو ایسے بنیادی اصول تھے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ارتکاز زر کے ساتھ منافع خوری کی لعنت سے عوام کو بچاتے تھے، لیکن ان اصولوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کو اس قدر خوفزدہ کر دیا کہ وہ ہر صورت ہر قیمت پر اس نظام کے خاتمے پر متفق ہو گئے اور طرح طرح کی سازشیں طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے۔
پاکستان سمیت تمام مسلم ملکوں میں خاص طور پر یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ مارکسزم کا مطلب لادینیت ہے۔ بدقسمتی سے سرمایہ پرستوں کے مقاصد اور ان کی سازشوں کو سمجھے بغیر ہمارے مذہبی حلقے خود بھی بری طرح اس استحصالی نظام کے شکار تھے، سرمایہ داروں کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے سوشلزم کو لادینیت کہنے لگے۔ یوں بھوکے ننگے غریب عوام کو اس نظام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی گئی جو حقیقت میں سرمایہ دارانہ نظام کا دشمن تھا اور ہے۔ یہ پروپیگنڈہ خاص طور پر ان غریب اور پسماندہ ملکوں میں کیا گیا جہاں کے عوام اس صدیوں پر محیط سفاکانہ سرمایہ دارانہ نظام سے غیر مطمئن تھے اور اس نظام کے خلاف ان میں شدید بے چینی اور نفرت پائی جاتی تھی۔
یہ کیسی ناانصافی ہے کہ ناانصافی کی بنیاد پر تعمیر ہونے والے اس مکروہ نظام کی عمارت کو غربت، بھوک، افلاس، جہل اور ناداری جیسی لعنتوں پر تعمیر کیا گیا اور اس کے خلاف بے چین ہونے والے عوام کو نظریاتی فریب دے کر انھیں اس نظام کے خلاف بغاوت سے روکا گیا اور روکا جا رہا ہے۔ ہمارے وہ سیاستدان، وہ دانشور، وہ معاشی ماہرین جو غربت کے اعداد و شمار بتاتے نہیں تھکتے اور پسماندہ ملکوں میں 53 فیصد لوگوں کو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے اور ہر سال لاکھوں انسانوں کے بھوک سے مر جانے کی خبریں سناتے ہیں، وہ تاریخ کے ایک بہتر اور منصفانہ نظام کا نام لیتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کروڑوں انسانوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی رسی میں جکڑنے والے اب تک اپنے مقاصد میں کامیاب رہے ہیں، لیکن پاکستان سمیت بیشتر پسماندہ ملکوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنٹوں کی اربوں کی کرپشن کی کہانیاں اس قدر تیزی سے عوام میں پھیل رہی ہیں کہ صابر و شاکر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور چھلکنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ اس استحصالی نظام کے بہروپیوں نے اپنے نظام کو عوام کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانے کے لیے جمہوریت کا جو ناٹک رچایا تھا وہ جمہوریت بھی اب سر بازار ننگی ہو رہی ہے اور عوام حیرت سے اس کا گھناؤنا جسم دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ملکوں کی ایجنسیوں نے اب پسماندہ ملکوں میں جہاں پر سرمایہ دارانہ نظام سے بغاوت کے زیادہ امکانات ہیں، ایک طرف جمہوریت کے شعبدہ بازوں کو کھلی چھوٹ دے کر انھیں طاقتور بنا دیا ہے تو اس نامنصفانہ نظام کے حقیقی مخالفین کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ صحیح معنوں میں عوامی جمہوریت لانے کے قابل بھی نہ رہے۔ ٹوٹ پھوٹ، افراتفری میں مبتلا یہ طاقتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عوام ایسے مسیحاؤں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں جو انھیں طبقاتی ناانصافیوں سے نجات دلائیں۔
جو منتشر اور بکھری ہوئی ترقی پسند طاقتیں جو نظریاتی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف ہیں وہ عوام میں جانے ان سے رابطے بڑھانے اور عوام کے سمندر میں مچھلی بن کر رہنے کے بجائے عوام کے سمندر کی ساحلی ریت پر پڑے ہوئے کچھوؤں کی طرح کلبلا رہے ہیں۔ اب تک وہ روایتی انڈر گراؤنڈ سرگرمیوں، مسئلوں کی میٹنگوں کے روایتی کلچر سے باہر نہ نکل سکیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی پرفریب جمہوریت کے پرستار ہر جگہ برسر اقتدار بھی ہیں اور حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ بلاشبہ سوشلسٹ بلاک ختم ہو گیا اور سوشلسٹ ملکوں نے اب منڈی کی معیشت کی راہ اختیار کر لی لیکن سوشلسٹ نظریہ ختم نہیں ہوا اور اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک غریبوں اور امیروں، مزدوروں اور صنعتکاروں، کسانوں اور جاگیرداروں کے درمیان تضادات باقی رہیں گے، خواہ سامراجی ملکوں کی ایجنسیاں اور مقامی ایجنٹ جمہوریت کے تقدس کے کتنے ہی گن گاتے رہیں۔