آصفہ رضوی کی یاد میں

آصفہ نے شروع سے ہی باغیانہ خیالات کی حامل تھی, یوں آصفہ بائیں بازو...

tauceeph@gmail.com

نچلے متوسط طبقے کی بستی مارٹن کوارٹرز 1948میں آباد ہوئی۔ جس میں رہنے والے سرکاری ملازمین کا بظاہر سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر اس بستی میں بہت سے سیاسی کارکن پیدا ہوئے ۔مارٹن روڈ سے تعلق رکھنے والوں میں بائیں بازو کے کارکنوں میں سید سعید حسن،علی مختار رضوی، رشید رضوی ، شاہد علی، وصی اللہ، سلطان حسن وغیرہ نے طلبا تحریک اور پھر سیاسی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ان میں ایک نمایاں نام آصفہ رضوی کا ہے۔ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا ان کے نانا مولانا ابن حسن جارچوی تحریک پاکستان کے کارکن اور ممتاز عالم دین تھے۔

آصفہ نے شروع سے ہی باغیانہ خیالات کی حامل تھی ان کے والد ظفر عباس رضوی پی ڈبلیو ڈی کے رہنما بھی تھے یوں آصفہ بائیں بازو کی تحریک کا اہم کردار بن گئیں ،آصفہ نے مارٹن روڈ کے سرکاری اسکول سے میٹرک کیا ،کالج سے بی اے اور اسلامیہ کالج سے ایل ایل بی کی اسناد حاصل کیں اور گورنمنٹ کالج قاسم آباد سے بی ایڈ کیا وہ 1973میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوئیں یہ وہ دور تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے 1973کا آئین منظورکرایا تھا جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا باب نمایاں تھا۔

بھٹو صاحب نے 1973میں آئین نافذ ہوتے ہی بنیادی حقوق کو ڈیفنس پاکستان رولز(DPR)کے تحت معطل کیا اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کے گورنر میر غوث بخش بزنجو اور وزیر اعلیٰ عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو برطرف کردیا اس کے ساتھ پورے ملک میں ترقی پسند کارکنوں کی گرفتاریوں اورترقی پسند لٹریچر کی ضبطی کا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکن مشکل میں آگئے ۔ ڈاکٹر جبار خٹک ، تاج مری ، نذیر عباسی سمیت بہت سے کارکن گرفتار ہوئے ، آصفہ رضوی نے اس مشکل صورتحال میں سیاسی کام کرنا شروع کیا وہ نہ صرف طلبہ کے محاذ پر متحرک بھی تھیں بلکہ انجمن ترقی پسند خواتین میں بھی سرگرم ہوئیں اس کے ساتھ سندھ ہاری کمیٹی ، نیشنل عوامی پارٹی اور مزدور تنظیموں کے ساتھ مربوط ہوکر سیاسی کام کرنے لگیںپھر حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کردی ،

قوم پرست سیاستدانوں نے شیر باز خان مزاری کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی مگر کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے این ڈی پی سے فاصلے بڑھائے اور ڈاکٹر اعزاز نذیر کی قیادت میں نیشنل پروگریسو پارٹی قائم کرلی ۔ آصفہ ر ضوی اس دوران کمیونسٹ پارٹی کی رکن بن گئیں انھوں نے ایک سرکاری اسکول میں معلمہ کے فرائض انجام دینے شروع کیے اور باقی وقت سندھ این ایس ایف اور دوسری تنظیموں کو منظم کرنے میں دینے لگی۔ اس وقت بائیں بازو میں صر ف چند خواتین متحرک تھیں ان میں سب سے کم عمر آصفہ رضوی تھیں ۔ وزیر اعظم بھٹو نے مارچ 1977میں عام انتخابات کا اعلان کردیا ، پیپلزپارٹی کے مقابلے پر دائیں بازو کی جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد قائم کیا اس اتحاد کے پس پشت فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق تھے جنھیں امریکی حمایت حاصل تھی ، آصفہ رضوی اور ان کے ساتھیوں نے فوج کی سازش بھانپ لی ، ان ترقی پسند کارکنوں نے انتخابات میں علیحدہ امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ۔

لیاری سے نوجوان تحریک کے رہنماجان بلوچ قومی اسمبلی کے امیدوار تھے ، آصفہ رضوی نے تنویر شیخ ، ڈاکٹر جبار خٹک ، غلام اکبر ، غلام نبی چانڈیو، ضیاء اعوان وغیر ہ کے ساتھ مل کر جان بلوچ کی مہم کو اس طرح منظم کیا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوارعبدالستار گبول اور ان کے حامی مشکل میں پڑگئے ، آصفہ رضوی کو خاتون ہونے کی حیثیت سے زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ، اس انتخابی مہم کے دوران جان بلوچ کے حامیوں پر حملہ ہوا، آصفہ کی جرات سے یہ حملہ آور فرار ہوگئے ، یوں لیاری کے عوام کو ایک اور ترقی پسند قوت کی موجودگی کا احساس ہوا، جب پی این اے نے انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی تو کمیونسٹ پارٹی کے بصیر ت افروز فیصلے کی بناء پر ترقی پسند کارکنوں نے خودکو اس تحریک سے علیحدہ رکھا ، ان ہنگاموں کے دوران ایک سینئر کارکن تنویر شیخ اور آصفہ رضوی رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے بعد ازاں جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء لگا دیا ،


پیپلزپارٹی اور ترقی پسندتنظیموں کے خلاف خفیہ ایجنسیوں کا آپریشن شروع ہوا ، آصفہ تنویر اور بہت سے کارکن زیر زمین سیاسی کام کرنے لگے اس دوران طلبہ مزدور رابطہ کمیٹی نے مارشل لاء کے خلاف مزاحمت شروع کی ، آصفہ اور ان کے ساتھی وال چاکنگ ، پوسٹر ، کارنر میٹنگوں کے ذریعے عوام کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دینے لگے، بلوچستان کے علاقے پٹ فیڈر کے کسانوں کو بھٹو صاحب کی زرعی اصلاحات کے تحت زمینیں الاٹ ہوئی تھیں، ضیاء حکومت کی ایماء پرعلاقے کے جاگیرداروں نے کسانوں کو آبائی زمینوں سے بے دخل کردیا

اس علاقے کی کسان تنظیم نے احتجاجی تحریک شروع کی اس وقت کمیونسٹ پارٹی کے فیصلے کے تحت اس کی عوامی تنظیم طلبا مزدور کسان رابطہ کمیٹی نے پٹ فیڈر کے کسانوںکی حمایت میں اپنے کارکنوںکو وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا ، کراچی سے آصفہ رضوی ، غلام اکبر، عمردین جب کہ اندرون سندھ سے رمضان میمن، حمیدہ گھانگرو پر مشتمل دستہ پٹ فیڈر پہنچا، آصفہ اور حمیدہ گھانگرو کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا مگر ان دونوں بہادر لڑکیوں نے مردوں کے شانہ بشانہ پٹ فیڈر میں بھوک ہڑتال شروع کی ، ان لوگوں کو فوجی عدالت کے حکم پر مچھ جیل بھیج دیا گیا ، مچھ جیل کا شمار پاکستان کی سخت ترین جیل میں ہوتا ہے۔

اس جیل میں عمومی طور پر خطر ناک اور حکومت کے مخالف افراد کو رکھا جاتاہے ،ٹیلے پر بنی ہوئی جیل کی پتھر کی عمارت گرمی میں جہنم اور سردیوں میں انٹارکٹیکا کا منظر پیش کرتی ہے ، آصفہ رضوی اور حمیدہ گھانگرو نے مچھ جیل میں چھ ماہ جرات اور بہادری سے گزارے ، انھوں نے جیل کی کال کوٹھریوںمیں حشرات الارض سے بچتے ہوئے ناقص کھانا کھاکے اور مطالعے کے ذریعے سے اپنا وقت گزرا،ان خواتین اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی بناء پر بلوچستان کے مارشل لاء حکام نے ضلعی حکام کو مجبور کیا کہ بے دخل ہونے والے کسانوں کی زمینوں کو لوٹانے کے لیے اقدامات کریں یوں یہ تحریک کامیاب ہوئی ، آصفہ اور ان کے ساتھی سرخرو ہوکر واپس آئے ،

آصفہ نے کرچی آکر اپنی سیاسی سرگرمیاں پھر شروع کیں اس دوران پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس اورایپنک نے روزنامہ مساوات کی بحالی کے لیے گرفتاریوں کی مہم شروع کردی اور صحافیوں کے ساتھ طلبا مزدوروں کسانوں نے بھی گرفتاریاں دینی شروع کیں ۔کمیونسٹ پارٹی کے فیصلے کے تحت آصفہ رضوی نے آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا ۔ آصفہ رضوی کا نمبر عیدالفطر کے دن آیا ، آصفہ عید والے دن جیل چلی گئیں ، انھیں کراچی سینٹرل جیل کی خواتین جیل میں نظر بند رکھاگیا ، جب تین مہینے بعد تحریک کامیاب ہوئی تو آصفہ رضوی بھی جیل سے رہا ہوئی ، کچھ عرصے بعد ہاری تحریک کے رہنما جام ساقی کو خفیہ ایجنسیوں نے حیدرآباد سے گرفتار کیا اور ان کی گرفتاری ظاہر نہیں کی ، کراچی کے ریگل چوک پر طلبہ مزدور کسان رابطہ کمیٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا پولیس نے مظاہرہ کرنے والوں کوگرفتار کیا ،

خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے کراچی کے علاقے میں آپریشن کرکے کمیونسٹ پارٹی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل جمال نقوی ، نذیر عباسی ، سہیل سانگی اور کمال وارثی کو گرفتار کرلیا یوں کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں کی گرفتاری سے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف ترقی پسند قوتوں کی تحریک کمزور پڑجائے گی مگر آصفہ رضوی اور ان کے شوہر تنویر شیخ روپوش ہوگئے ۔ اس روپوشی میں انھیں روز ٹھکانے تبدیل کرنا ضروری تھا ، اس دوران خفیہ ایجنسی کے ٹارچر کیمپ میں سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس کے صدر نذیر عباسی بہیمانہ تشدد کو تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے، آصفہ نے زیر زمین طلبہ ، مزدوروں ، خواتین اور سیاسی کارکنوں کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ان کی آواز سے تنویر شیخ کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہی ،

آصفہ نے مارشل لاء کے خاتمے کے بعد وکالت شروع کی وہ جلد ہی وکیلوں میں مقبول ہوئیں ، 90کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے اور پاکستان میں بائیںبازوکے انتشارکی بناء پر ان کی تنظیمی سرگرمیاں مختصر ہوئیں ، آصفہ رضوی نے ہمیشہ نظریات کو نہ صرف اہمیت دی بلکہ نظریات کی خاطر قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں ان کا شمار چند سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک استحصال سے پاک معاشرے کے لیے قربانیاں دیں ۔اپنی قربانیوں کے عوض کسی قسم کا پلاٹ یاکوئی مراعات قبول نہیں کی اور جدوجہد کی ایک منفرد داستان چھوڑ گئیں ۔
Load Next Story