ملالہ یوسف کادماغ اور بینائی ٹھیک ہےمیاں افتخار

خواہش ہے ملالہ صحتیاب ہوکرآئے،والدین کی مرضی وہ واپس آنا چاہتے ہیں یا نہیں

فوٹو: فائل

مینگورہ میں عسکریت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونیوالی امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کی حالت بتدریج بہتر ہورہی ہے۔


سر میں گولی لگنے کے باوجود اس کا دماغ اور آنکھوں کی بینائیٹھیک ہے ، سہارا لیکر چل بھی سکتی ہے تاہم بول نہیں سکتی کیونکہ سانس کے متبادل انتظام کیلیے گلے میں پائپ ڈالا گیا ہے البتہ وہ اپنا پیغام لکھ کر سمجھاسکتی ہے، مزید دو ماہ تک علاج کے بعد ملالہ کو اسپتال سے فارغ کیا جائے گا''۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے دورہ برطانیہ سے واپسی کے فوراً بعد پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ، انھوں نے کہاکہ ملالہ سہارا لیکر چل سکتی ہے، تاہم ابھی بول نہیں سکتی کیوں سانس کے متبادل انتظام کے طور پر اس کے گلے میں پائپ ڈالا گیا ہے۔

البتہ وہ اپنا پیغام لکھ کر سمجھا سکتی ہے جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اس کا دماغ بالکل ٹھیک ہے،میاں افتخار حسین نے کہاکہ برمنگھم ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملالہ کا بنیادی علاج پاکستان( پشاور) کے نیوروسرجن نے کیا ہے، انھوں نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ ملالہ یوسفزئی صحت یاب ہوکر پاکستان واپس آجائے صوبائی حکومت اس کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گی ، انھوں نے کہاکہ ملالہ یوسفزئی کے والدین جو برطانیہ چلے گئے ہیں ان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں یا نہیں تاہم صوبائی حکومت دونوں صورتوں میں ان سے مکمل تعاون کرے گی۔۔
Load Next Story