سعودی اتحاد واضح فیصلہ کی ضرورت
پاکستان نے اگر اس اتحاد میں شمولیت کا پیشگی عندیہ نہیں دیا تھا تو اسے جلد اس ضمن میں صورتحال کو کلیئر کرنا چاہیے
امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان دہشت گردی کے عالمی عفریت کو سامنے رکھتے ہوئے اس موج خوں میں قدم رنجہ ہونے سے پہلے فیصلہ کے بحران کا تاثر ختم کرنے کو یقینی بنائے گا۔ فوٹو : فائل
مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے بدستور اعصاب شکن چیلنج بنی ہوئی ہے ۔ سانحہ یورپ پر داعش کے حملے کے بعد دہشت گردی عالمی میڈیا میں سر فہرست ابھری ہے ادھر شام و عراق کے حالات بھی مخدوش ہیں جب کہ اسی زلزلہ خیز تناظر میں گزشتہ دنوں سعودی عرب کی طرف سے خطے کی سلامتی کے لیے34 ملکی فوجی اتحاد میں پاکستان کو شامل کیے جانے پر حکومت کا رد عمل ابھی کھل کر سامنے نہیں آیا ۔
گزشتہ روز سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر گرما گرم بحث کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا 34کہ ملکی اتحاد کے حوالے سے حکومت کلیئر نہیں، حکومت تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے ، پاکستان کے کردار کا ابھی تعین نہیں ہوا۔ تعین ہو بھی جائے تو اتحاد ایک بین الاقوامی عسکری فورس ہوگی جو صرف سعودی عرب یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رکھی جائے گی بلکہ اتحاد کو بنیادی حکمت عملی کے تحت اس دہشتگردی کے عالمی تناظر میں کارروائی کا بھی اختیار ہوگا۔
لہٰذا پاکستان کو اپنی داخلی صورتحال کو مد نظر رکھنا ہوگا، اور ادراک کرنا ہوگا کہ اتحاد یا کولیشن کی کارروائی سے خود اس کی سالمیت کو تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا، کیونکہ خطے کی سنگین صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں داعش کی ہولناک اسٹرٹیجکل پیش رفت نے مغرب سمیت عالم اسلام میں بڑی کھلبلی مچا رکھی ہے، ادھر ریاض میں قائم اس اتحاد میں شمولیت سے پاکستان کو باضابطہ طور پر اعتماد میں لیا گیا تھا یا نہیں یہ بھی واضح نہیں ہے ۔
پاکستان نے اگر اس اتحاد میں شمولیت کا پیشگی عندیہ نہیں دیا تھا تو اسے جلد اس ضمن میں صورتحال کو کلیئر کرنا چاہیے، اس مسئلہ پر پارلیمنٹ اور قوم کو بلا تاخیر اعتماد میں لیا جائے۔ چیئرمین رضا ربانی کا استفسار قومی امنگوں سے ہم آہنگ ہے کہ حکومت کلیئر نہیں تو کولیشن میں شامل کیسے ہو گئے؟ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اتحاد میں ایران، عمان، شام اور عراق شامل نہیں ہیں، ان چار ممالک کو اتحاد میں شامل نہ کیے جانے پر یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ یہ اتحاد ان کے خلاف ہے۔
ایران ، سعودی مخاصمت کو بھی مبصرین اہم فیکٹر قرار دیتے ہیں، اس پہلو پر بھی سوچ بچار ضروری ہے جب کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی نمایندے رچرڈ اولسن نے رواں ہفتہ امریکی سینیٹ کمیٹی برائے امور خارجہ میں دوسری سماعت پر کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا ایک مرکز ہونے کے باعث پاکستانی طالبان کے ساتھ ساتھ اب افغان طالبان سے لڑنے کی بھی ضرورت کو ہے۔ سرتاج عزیز نے وضاحتاً کہا یہ الائنس نہیں کولیشن ہے، دنیا کے 34 ملکوں نے ایسا ہی کیا ہے، اس حوالے سے فروری میں اوآئی سی اور جلد مزید اجلاس ہوں گے۔ بہرحال ملکی و عالمی صورتحال کا گہرائی سے ادراک کرتے ہوئے پاکستان کو قدم بڑھانے چاہئیں۔
دنیا داعش کے بے رحم حملوں کے خوف سے لرزہ براندام ہے، امریکا فرانس ترکی اور عرب و مغربی ریاستیں اپنے دستوں کو داعش کے خلاف زمین پر اتارنے کے لیے تیار نہیں، مگر بشارالاسد حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش سب رکھتے ہیں، مگر ان میں عدم اتفاق بھی ہے۔ ادھر ایران اور روس اسد کے ساتھ ہیں۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان دہشت گردی کے عالمی عفریت کو سامنے رکھتے ہوئے اس موج خوں میں قدم رنجہ ہونے سے پہلے فیصلہ کے بحران کا تاثر ختم کرنے کو یقینی بنائے گا۔
گزشتہ روز سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر گرما گرم بحث کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا 34کہ ملکی اتحاد کے حوالے سے حکومت کلیئر نہیں، حکومت تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے ، پاکستان کے کردار کا ابھی تعین نہیں ہوا۔ تعین ہو بھی جائے تو اتحاد ایک بین الاقوامی عسکری فورس ہوگی جو صرف سعودی عرب یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رکھی جائے گی بلکہ اتحاد کو بنیادی حکمت عملی کے تحت اس دہشتگردی کے عالمی تناظر میں کارروائی کا بھی اختیار ہوگا۔
لہٰذا پاکستان کو اپنی داخلی صورتحال کو مد نظر رکھنا ہوگا، اور ادراک کرنا ہوگا کہ اتحاد یا کولیشن کی کارروائی سے خود اس کی سالمیت کو تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا، کیونکہ خطے کی سنگین صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں داعش کی ہولناک اسٹرٹیجکل پیش رفت نے مغرب سمیت عالم اسلام میں بڑی کھلبلی مچا رکھی ہے، ادھر ریاض میں قائم اس اتحاد میں شمولیت سے پاکستان کو باضابطہ طور پر اعتماد میں لیا گیا تھا یا نہیں یہ بھی واضح نہیں ہے ۔
پاکستان نے اگر اس اتحاد میں شمولیت کا پیشگی عندیہ نہیں دیا تھا تو اسے جلد اس ضمن میں صورتحال کو کلیئر کرنا چاہیے، اس مسئلہ پر پارلیمنٹ اور قوم کو بلا تاخیر اعتماد میں لیا جائے۔ چیئرمین رضا ربانی کا استفسار قومی امنگوں سے ہم آہنگ ہے کہ حکومت کلیئر نہیں تو کولیشن میں شامل کیسے ہو گئے؟ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اتحاد میں ایران، عمان، شام اور عراق شامل نہیں ہیں، ان چار ممالک کو اتحاد میں شامل نہ کیے جانے پر یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ یہ اتحاد ان کے خلاف ہے۔
ایران ، سعودی مخاصمت کو بھی مبصرین اہم فیکٹر قرار دیتے ہیں، اس پہلو پر بھی سوچ بچار ضروری ہے جب کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی نمایندے رچرڈ اولسن نے رواں ہفتہ امریکی سینیٹ کمیٹی برائے امور خارجہ میں دوسری سماعت پر کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا ایک مرکز ہونے کے باعث پاکستانی طالبان کے ساتھ ساتھ اب افغان طالبان سے لڑنے کی بھی ضرورت کو ہے۔ سرتاج عزیز نے وضاحتاً کہا یہ الائنس نہیں کولیشن ہے، دنیا کے 34 ملکوں نے ایسا ہی کیا ہے، اس حوالے سے فروری میں اوآئی سی اور جلد مزید اجلاس ہوں گے۔ بہرحال ملکی و عالمی صورتحال کا گہرائی سے ادراک کرتے ہوئے پاکستان کو قدم بڑھانے چاہئیں۔
دنیا داعش کے بے رحم حملوں کے خوف سے لرزہ براندام ہے، امریکا فرانس ترکی اور عرب و مغربی ریاستیں اپنے دستوں کو داعش کے خلاف زمین پر اتارنے کے لیے تیار نہیں، مگر بشارالاسد حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش سب رکھتے ہیں، مگر ان میں عدم اتفاق بھی ہے۔ ادھر ایران اور روس اسد کے ساتھ ہیں۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان دہشت گردی کے عالمی عفریت کو سامنے رکھتے ہوئے اس موج خوں میں قدم رنجہ ہونے سے پہلے فیصلہ کے بحران کا تاثر ختم کرنے کو یقینی بنائے گا۔