از خود نوٹس …

عام قسم کے ’’از خود نوٹس‘‘ تو ہم اکثر لیتے رہتے ہیں خاص طور پر اپنے خلاف تو کوئی ایسا دن کم ہی جاتا ہے

barq@email.com

لاہور:
عام قسم کے ''از خود نوٹس'' تو ہم اکثر لیتے رہتے ہیں خاص طور پر اپنے خلاف تو کوئی ایسا دن کم ہی جاتا ہے جس میں ہم نے اپنے خلاف چار پانچ از خود نوٹس نہ لیے ہوں، لیکن فائدہ کچھ نہیں کیوں کہ ساتھ ہی ہم بھلکڑ بھی بہت ہیں اس لیے دوسرے دن وہی کام پھر کر ڈالتے ہیں جس پر از خود نوٹس لے کر ہم خود کو لتاڑ چکے ہوتے ہیں، لیکن کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں ایک اور یعنی اصلی ''از خود نوٹس'' کے بڑے چرچے ہیں، اتنے زیادہ کہ کراچی کے ایک ہمارے کالم نگار بھائی شیخ معظم خان نے اتنے زیادہ ''از خود نوٹس'' لیے ہیں کہ کتاب نہیں بلکہ کتابیں بن گئی ہیں۔

ان کو تو ہم ۔۔۔۔ خیر چھوڑیئے، آپ سمجھ تو گئے ہوں گے، پھر بتانے کی کیا ضرورت ہے البتہ ایک کہانی جو دراصل حقیقہ ہے سنئے۔ انگریزوں نے جب ہندوستان میں ایک تجارتی کوٹھی عرف ''کاریڈور'' کے پیچھے پیچھے آکر پورے ہندوستان کو اپنی ''شاملات'' بنا لیا تو ابتداء میں ان کے پاس بھی کچھ باقاعدہ سے انتظامات نہیں تھے۔

ایک شکاری کو جب پرندوں کی ڈار مل جاتی ہے تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے جیسے دینی بزرگوں، پختون قوم پرستوں اور انصاف کے علم برداروں کو اچانک اور خلاف توقع ڈھیر سارا ''شکار'' مل گیا تھا، چنانچہ ابتداء میں انھوں نے ''آنریری مجسٹریٹوں'' کا سلسلہ چلایا مطلب خاص خاص لوگوں کو ''مصروف'' رکھنا تھا، اس دور میں ایک چھوٹے موٹے نواب کو بھی آنریری مجسٹریٹ بنایا گیا۔ بے چارے نواب صاحب، مشاعروں اور مجروں اور خورد و نوش کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تھے لیکن مجسٹریٹ کی کرسی پر بیٹھے تو اتنا جانتے تھے کہ پھانسی مجرموں کو دی جاتی ہے۔

اس لیے جب بھی اس کی ''عدالت'' میں کیس کو پیش کیا جاتا، چاہے وہ دو روپے کے لین دین کا کیس ہی کیوں نہ ہو آنریری مجسٹریٹ صاحب ایک ہی لفظ میں سزا کا اعلان کر دیتے ''پھانسی'' ۔۔۔۔ جنہوں نے اسے کرسی پر بٹھایا تھا وہ ان پر نظر بھی رکھے ہوئے تھے چنانچہ اہل کار ہر'' پھانسی'' کے کیس کو ان تک پہنچا دیتے، وہ اس مجرم کو جیل بھجوا دیتے، یوں جب آنریری مجسٹریٹ نے اپنے خیال میں ''کشتوں کے پشتے'' لگا دیے اور سو ڈیڑھ سو لوگوں کو پھانسی پر چڑھایا تو افسران بالا بھی تنگ آگئے۔


آخر کار ایک ترکیب سوچی گئی۔ مجسٹریٹ صاحب کو جیل کے معائنے اور پھانسی کا منظر دکھانے لے جایا گیا۔ نازک مزاج نواب نے جب پھانسی کا منظر دیکھا تو اس کی چیخ نکل گئی۔ پوچھا ، کیا پھانسی ایسی ہوتی ہے۔ جواب ہاں میں ملا تو رونے لگے کہ میں نے تو ہزاروں کو پھانسی دی ہے تب اسے بتایا گیا کہ ان میں سے ایک کو بھی پھانسی نہیں دی گئی، سب کے سب خیریت سے ہیں، اس لیے ہم بھی سوچتے ہیں کہ اچھا ہے کہ ہمیں بھی از خود نوٹس کے اختیارات نہیں ہیں ورنہ آپ تو ہمیں جانتے ہیں ہاں کبھی کبھی ہم از خود نوٹس لے کر تصور ہی تصور میں اپنی تمنائیں پوری کر لیتے ہیں۔ لگتا ہے جناب شیخ معظم خان مندوخیل بھی ہماری ہی کیٹگری کے بندے ہیں۔

یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے ہم سے زیادہ یا کم از خود نوٹس لیے ہیں کیونکہ ان کے ''از خود نوٹس'' احاطہ تحریر میں آکر اور کتابی روپ دھارن کر کے نظر آتے ہیں ۔ہم چونکہ خیال کے ''ایرو پلین'' میں پیدا ہوئے ہیں اس لیے کسی بھی ملک خطے یا مقام وغیرہ کے قوانین ہم پر لاگو نہیں ہوتے اور ہم جب چاہیں اپنے خیال کے ہوائی رتھ پر بیٹھ کر جہاں چاہیں جا سکتے ہیں اور جو چاہے کر سکتے ہیں چنانچہ بش ابن بش کے علاوہ ہم سلمان رشدی، بنگلہ دیش والی نسرین، براڈپٹ، سیف علی خان اور نہ جانے کتنوں کو تہہ تیغ کر چکے ہیں۔ یہ عادت دراصل ہمیں بچپن سے لگی ہے۔ پہلی بار ہم نے دلیپ کمار کو قتل کیا تھا کیوں کہ وہ مدھو بالا سے ہر فلم میں شادی کرنے سے باز نہیں آتا تھا، پھر نرگس اور وجنتی مالا کے سلسلے میں راج کپور کو تو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو کھلا دیا تھا۔

آپ سوچ رہے ہو کہ ہم یونہی اپنی سن ترانیاں گا رہے ہیں لیکن ایسا نہیں اصل میں ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ شیخ معظم خان بھی ہمارے ہی کیٹگری کا بندہ ہے فرق صرف یہ ہے کہ کہ ہم راست اقدام کر کے لوگوں کا تیاپانچہ کرتے ہیں اور وہ باقاعدہ قانونی طریقے پر ملزم کو از خود نوٹس لے کر کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں اور اسے چاقو چھری نہیں بلکہ قانون کی تلوار اور قلم کی نوک سے مارتے ہیں، لیکن ہم دونوں کے ساتھ ایک ہی جیسا المیہ ہو جاتا ہے جن بلاؤں کو ہم مارتے ہیں اور وہ لتاڑتے ہیں وہ ''ہرکولیس'' کی اس بلا کی طرح ہیں کہ ایک سر کاٹو تو دو اس سے بھی بڑے اور خطرناک ''سر'' اگا لیتے ہیں، جناب معظم کی کتابوں میں ان کے جو کالم جمع کیے گئے ہیں ۔

ان میں بے شمار مجرموں کو از خود نوٹس کے ذریعے سزائیں دی گئی ہیں بلکہ اکثر کو تو دین و دنیا کے ڈراوے بھی دیے گئے ہیں اور سدھارنے کا ہر طریقہ اپنایا گیا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ان میں کمی کے بجائے پیشی ہی ہوئی ہے کیوں کہ برائیوں اور ''بروں'' کے معاملے میں یہ مٹی بہت ہی زرخیز واقع ہوئی ہے، ایک مرتبہ فصلوں کی گھاس سے تنگ آکر ہم نے اس کا رونا رویا اور ایک زرعی دواؤں کی دکان سے گھاس ختم کرنے کی دوا لینے گئے تو ہاں ایک بزرگ کسان سے ملاقات ہوئی۔

ہماری تکلیف سن کر بولے، دراصل بیٹا بات یہ ہے کہ یہ جو گھاس ہوتی ہے یہ زمین کی اپنی ''سگی'' اولاد ہوتی ہے اور جو فصل ہم بوتے ہیں وہ اس کی سوتیلی اولاد ہوتی ہے، اس بنیاد پر جب ہم نے اپنی اس ''زرخیز'' سرزمین کے بارے میں سوچا اور پھر یہاں اگنے والی گھاس پھول، کانٹوں اور اونٹ کھٹاروں کی بے پناہ بڑھوتری کا خیال کیا تو اس بزرگ کی بات یاد آگئی، ہم تم اور شیخ معظم جیسے کسان لاکھ گوڈیاں کریں دوائیاں چھڑکیں اپنی اولاد تو اپنی ہوتی ہے ۔
Load Next Story