پی ایس ایل بورڈ چیف سری لنکن کرکٹرزکے نہ آنے پرافسردہ
بھارت سے سیریز بی سی سی آئی کو اپنی حکومت سے اجازت ملنے پر ہوسکے گی ، شہر یارخان
بھارت سے سیریز بی سی سی آئی کو اپنی حکومت سے اجازت ملنے پر ہوسکے گی ، شہر یارخان۔ فوٹو: فائل
چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹرز کے پاکستان سپر لیگ میں شامل نہ ہونے کا افسوس رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان واپڈا سکول کرکٹ ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی تھے، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سیریزکیلیے بی سی سی آئی کے ساتھ ہمارا معاہدہ تھا، بھارتی کرکٹ بورڈ رضا مند تھا تاہم انہیں اپنی حکومت سے گرین سگنل نہیں ملا، سیریزکا انعقاد تب ہی ممکن ہو سکے گا جب بھارتی حکومت اجازت دے گی۔ پہلے بی سی سی آئی کو اجازت مل جائے پھرسوچا جائے گا کہ نئے سال میں کیا ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں، تاہم سری لنکن کرکٹرز اس ایونٹ میں شامل نہیں ہو سکے جس کا افسوس رہے گا، خواہش ہے کہ پی ایس ایل پاکستان میں ہو،آئندہ سالوں میں کوشش کریں گے کہ چند میچزملک میں ہی ہوں ہو تاکہ یہاں کے کرکٹ کے شائقین لطف اندوز ہو سکیں، پی ایس ایل کیلیے کھلاڑیوں کے انتخاب کا فیصلہ فرنچائز اور سلیکٹرز کا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کے لوگ ایونٹ میں کرپشن کو روکنے کیلیے سرگرم ہونگے، قومی ٹیم کی خامیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کی سب سے بڑی کمزوریاں فیلڈنگ اور فٹنس ہیں، فیلڈنگ پر کھلاڑیوں کی توجہ دیکھ کر خوشی ہوئی، شہریار خان کا کہنا تھا کہ ہمیں خواتین کی ٹیم کی بہت ضرورت ہے، دیگر کھیلوں کی خواتین ایتھلیٹس کو کرکٹ میں لایا جائے تو بہتر نتائج ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان واپڈا سکول کرکٹ ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی تھے، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سیریزکیلیے بی سی سی آئی کے ساتھ ہمارا معاہدہ تھا، بھارتی کرکٹ بورڈ رضا مند تھا تاہم انہیں اپنی حکومت سے گرین سگنل نہیں ملا، سیریزکا انعقاد تب ہی ممکن ہو سکے گا جب بھارتی حکومت اجازت دے گی۔ پہلے بی سی سی آئی کو اجازت مل جائے پھرسوچا جائے گا کہ نئے سال میں کیا ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں، تاہم سری لنکن کرکٹرز اس ایونٹ میں شامل نہیں ہو سکے جس کا افسوس رہے گا، خواہش ہے کہ پی ایس ایل پاکستان میں ہو،آئندہ سالوں میں کوشش کریں گے کہ چند میچزملک میں ہی ہوں ہو تاکہ یہاں کے کرکٹ کے شائقین لطف اندوز ہو سکیں، پی ایس ایل کیلیے کھلاڑیوں کے انتخاب کا فیصلہ فرنچائز اور سلیکٹرز کا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کے لوگ ایونٹ میں کرپشن کو روکنے کیلیے سرگرم ہونگے، قومی ٹیم کی خامیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کی سب سے بڑی کمزوریاں فیلڈنگ اور فٹنس ہیں، فیلڈنگ پر کھلاڑیوں کی توجہ دیکھ کر خوشی ہوئی، شہریار خان کا کہنا تھا کہ ہمیں خواتین کی ٹیم کی بہت ضرورت ہے، دیگر کھیلوں کی خواتین ایتھلیٹس کو کرکٹ میں لایا جائے تو بہتر نتائج ہوں گے۔