مزید از خود نوٹس
اب تک ہم نے جو کچھ کہا اسے آپ ’’ماورائے از خود نوٹس‘‘ کہہ سکتے ہیں
barq@email.com
ISLAMABAD:
اب تک ہم نے جو کچھ کہا اسے آپ ''ماورائے از خود نوٹس'' کہہ سکتے ہیں اور اب ہم ذرا لنگر لنگوٹ کس کر آنسوؤں کے اس سمندر میں کودتے ہیں جو شیخ معظم خان نے از خود نوٹس کے نام سے بہائے ہیں اور یہ تو آپ ایک پشتو ٹپے کی صورت میں جانتے ہیں کہ دل سے تو خون کے قطرے نکلتے ہیں لیکن پلکوں کے سروں تک پہنچ کر پانی پانی ہو جاتے ہیں اور مرشد نے کہا ہے کہ
یونہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
بلکہ وہ تو ہو چکی ہیں اس سے زیادہ ویرانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان بستیوں میں کندھے سے کندھا چھل رہا ہے، لیکن پھر بھی ہر آدمی ''تنہا'' نظر آتا ہے اور یہ بھیڑ کی تنہائی دہشت و بیاں کی تنہائی سے زیادہ جان لیوا ہوتی ہے کم از کم ہماری بستیوں میں تو ایسا ہی ہے باقی دنیا کا پتہ نہیں
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا
اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی
جی تو چاہتا ہے کہ جناب معظم خان کے تمام کالموں سے خوشی کریں کیوں کہ اب تک ہم جو پیشہ ورانہ اور استادانہ کالم پڑھتے بلکہ ''نہ پڑھتے'' رہے ہیں ان سب سے یہ الگ ٹائپ کی تحریریں ہیں لیکن شاید شیخ معظم خان بھی ان ''موروں'' میں سے ہیں جو ''چوروں'' پر پڑتے رہتے ہیں لیکن جنگل کے باسی ہونے کی وجہ سے ان کا ''ناچ'' کوئی نہیں دیکھتا صرف خود ہی تھوڑی دیر کے لیے خوش ہو لیتے ہیں اور پھر اپنی ''ٹانگوں'' پر نظر پڑتے ہی رونے لگتے ہیں، حافظ نے کیا خوب کہا ہے کہ
آتش نیست کہ برشعلہ او خند شمع
آتش آں است کہ برخرمن پروانہ زدند
یعنی آگ وہ نہیں جس کے شعلے سے ''شمع'' خنداں ہوتی ہے بلکہ آگ وہ ہے جو پروانے کو جلا ڈالتی ہے، ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی آگ لگی ہوئی ہے کہ کچھ لوگوں کا تو سب کچھ راکھ کر رہی ہے لیکن کچھ لوگ تاپتے ہیں اور کھاتے پیتے رہتے ہیں بلکہ مستی میں آکر سگریٹ اور چرٹ تک سلگا لیتے ہیں، جناب شیخ معظم خان مندوخیل نے کتابیں بھجوانے کے بعد جب ہماری پہلی بات چیت ٹیلی فون پر ہوئی تو انھوں نے خصوصی طور پر دو کالموں کو ضرور پڑھنے کے لیے کہا، ایک کا عنوان ہے ''پاکستان انجینئرنگ کونسل حادثات کی ذمے دار'' اور دوسرے کا ہے ''عدالت جانے سے پہلے ہزار بار سوچیں'' غالباً ان کا خیال تھا کہ ہم بھی وہی کریں گے جو آج کل اکثر لوگ کتابوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ بعض لوگ کم از کم سونگھ تو لیتے ہیں لیکن زیادہ تر سونگھے بغیر ہی ردی کے حوالے کر دیتے ہیں لیکن ہم تھوڑا سا بدل کر سلوک کرتے ہیں کم از کم کھولتے اور عنوانات پر نظر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔
اس کے بعد سونگھتے ہیں اگر کوئی ''سگندھ'' مل جائے تو پھر چبا چبا کر پڑھتے ہیں اس لیے شیخ معظم خان کی کتابوں کو سونگھا تو بڑی دلاویز خوشبو آئی، رہے وہ دو عنوانات ؟ تو ظاہر ہے کہ ان کو تو خوب چبا چبا کر کھانا تھا، شیخ صاحب کے کالموں میں خاص بات ہے کہ وہ کالم لکھنے سے پہلے خوب تحقیق کرتے ہیں اور متعلقہ موضوع پر اعداد و شمار جمع کر کے بات کرتے ہیں۔
''پاکستان انجینئرنگ کونسل'' والے کالم کا تعلق تو کراچی سے ہے لیکن پاکستان میں کم از کم یہ ''یک جہتی'' تو بے پناہ ہے کہ جو مرض کراچی میں ہوتا ہے وہ پورے ملک کو بھی لاحق ہوتا ہے اور پھر لیڈر ہوں یا انجینئر یا ڈاکٹر یا ادارہ یا محکمہ یا افسران سب کی ''یک جہتی'' سے ملک اور عوام کی ''سلامتی'' کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، پاکستان انجینئرنگ کونسل بھی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ''وجود'' اور ''لے پالکوں'' سے پورے ملک کی صحت خطرے میں ہے اس کے وجود باسعود کے بارے میں شیخ معظم خان مندوخیل نے جو تفصیلات جمع کی ہیں وہ انتہائی لرزا دینے والی ہیں کہ اوپر سے ''سو روپے'' جب عوام کی فلاح و بہبود ؟ ترقیاتی کاموں ؟ اور فنڈز کو ٹھکانے لگانے کے لیے چلتے ہیں تو عوام تک پہنچتے برف کی طرح پگھلتے پگھلتے آٹھ دس روپے یا اس سے بھی کم رہ جاتے ہیں۔
تھوڑا سا اگر شیخ صاحب کے الفاظ میں بیان ہو جائے تو اچھا ہو گا، لکھتے ہیں ''پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) ایکٹ کے تحت 1976ء میں بنا ہوا ایک خود مختار ادارہ ہے جسے حکومت پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے ہر ادارے کے قیام کے کچھ بیسک اصول ہوتے ہیں اور وہ اگر ان بیسک اصولوں پر قائم رہے تو ادارے کی افادیت اپنی جگہ، اس سے ملک و قوم کو بھی فائدہ پہنچتا ہے لیکن جب ادارہ کرپشن میں ڈوب جائے تو پھر ادارے کا اللہ ہی حافظ ، جس طرح ٹرین اپنی ٹریک سے ہٹ جائے تو تباہی تباہی ہوتی ہے آج پاکستان انجینئرنگ کونسل کا حال احوال خستہ اور بیکار روڈوں سے واضح ہوتا ہے گٹروں کا پانی روڈوں پر ابلتا رہتا ہے ہر طرف ایک ہی شکایت ہے کہ پانی نہیں ہے اور اگر پانی آتا بھی ہے تو زیادہ تر گندا پانی آتا ہے اور اس گندے پانی سے لوگوں کو ڈائریا ہو جاتا ہے اور اس بیماری سے بے تحاشا اموات ہوتی ہیں کیا ۔
ان اموات کے ذمے دار متعلقہ ادارے نہیں ہیں، کیا رشوت خور ذمے دار نہیں ہیں اب تو یہ حال ہے کہ صرف چیک ریسو کرنے پر 30-25 فیصد لیتے ہیں اور بعض محکموں کے بارے میں تو اخبارات میں آتا رہا ہے کہ 70 فیصد کمیشن بھی لیا جاتا ہے اب جب 70 فیصد کمیشن دفتر والوں کا اور 6 فیصد انکم ٹیکس ایک فیصد وائر چارجز تین فیصد کمیشن اور ٹوٹل ہو گیا 80 فیصد اور 10 فیصد سیکیورٹی، تو شاید اسی لیے تو سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور سیوریج کی لائنوں میں اوور فلو ہو رہا ہے'' اس سے آگے موصوف نے ان تباہیوں اور تباہ کاریوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جو کراچی اور گرد و نواح میں پیش آتی رہی ہیں اور جن کی ذمے داری صرف اور صرف خراب تعمیراتی؟ اور ترقیاتی محمکہ پر عائد ہوتی ہے ان میں ایک حادثے کا ذکر خصوصی طور پر قابل توجہ ہے۔
کراچی سے شکار پور جانے والی ایک بس میمن گوٹھ لنک روڈ پر ٹینکر سے ٹکرا گئی اس خوف ناک حادثے میں 60 سے زیادہ مسافر جل بھن کر کوئلہ بن گئے ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، فائر بریگیڈ دو گھنٹے ''تاخیر'' سے پہنچی صرف پانچ منٹ کی مسافت پر واقع پاکستان اسٹیل کے پتھر دل حکام نے التجاؤں کے باوجود آگ بجھانے والی گاڑیاں نہیں بھیجیں، ٹینکر ایک خاص کیمیکل سے بھرا ہوا تھا، ساتھ ہی اس کی ڈیزل ٹینکی بھی پھٹ گئی، رہی سہی کمی بس کی چھت پر لدے ہوئے گیس سلنڈوں نے پوری کر دی۔
اب جیسا کہ میں نے لکھا ہے روڈوں کی حالت خستہ، پلوں کی حالت خستہ، انفراسٹرکچر تباہ و برباد، ظاہر سی بات ہے کہ ذمے دار سائٹ کے انجینئر اور متعلقہ ادارہ ہے کیوں کہ متعلقہ ادارہ اس بات کا ذمے دار ہے کہ جو کنٹریکٹر کمپنی معیاری کام کرنے سے قاصر رہے اسے بلیک لسٹ کر دے۔ میرے خیال میں موجودہ حالات میں پاکستان کی اسی فیصد کمپنیاں بلیک لسٹ ہو جاتیں اب یہ بلیک لسٹ کیوں نہیں ہوتیں اور متعلقہ انجینئروں کو سزا کیوں نہیں ملتی یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟
شیخ صاحب کے ''سوالیہ نشان'' کا جواب غالباً آٹھ سالہ بچے بھی دے سکتے ہیں ہاں البتہ انجینئرنگ کونسل اور حکومت کے لیے یہ ''جواب'' مشکل ہو جیسا ایک نوجوان سے جب انٹرویو میں پوچھا گیا کہ سبز پتوں کا رنگ کیا ہوتا ہے تو اس نے کافی دیر سوچتے کے بعد جواب دیا کہ یہ ہمارے نصاب میں شامل نہیں تھا لیکن اسے پھر بھی نوکری مل گئی کیوں کہ وہ وزیر کا بھتیجا تھا۔اس سے آگے شیخ صاحب نے رجسٹریشن اور رجسٹرڈ کمپنیوں کے بارے میں بھی اچھی خاصی تفصیل دی ہے کہ کمپنیاں کیسے رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور کن کن مزاروں پر کتنے کتنے چڑھاوے چڑھانا پڑتے ہیں، دوسرا کالم جس کا عنوان ہے ''عدالت جانے سے پہلے ہزار بار سوچیں''... اس پر کبھی بعد میں بات کریں گے کیوں کہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے۔
اب تک ہم نے جو کچھ کہا اسے آپ ''ماورائے از خود نوٹس'' کہہ سکتے ہیں اور اب ہم ذرا لنگر لنگوٹ کس کر آنسوؤں کے اس سمندر میں کودتے ہیں جو شیخ معظم خان نے از خود نوٹس کے نام سے بہائے ہیں اور یہ تو آپ ایک پشتو ٹپے کی صورت میں جانتے ہیں کہ دل سے تو خون کے قطرے نکلتے ہیں لیکن پلکوں کے سروں تک پہنچ کر پانی پانی ہو جاتے ہیں اور مرشد نے کہا ہے کہ
یونہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
بلکہ وہ تو ہو چکی ہیں اس سے زیادہ ویرانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان بستیوں میں کندھے سے کندھا چھل رہا ہے، لیکن پھر بھی ہر آدمی ''تنہا'' نظر آتا ہے اور یہ بھیڑ کی تنہائی دہشت و بیاں کی تنہائی سے زیادہ جان لیوا ہوتی ہے کم از کم ہماری بستیوں میں تو ایسا ہی ہے باقی دنیا کا پتہ نہیں
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا
اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی
جی تو چاہتا ہے کہ جناب معظم خان کے تمام کالموں سے خوشی کریں کیوں کہ اب تک ہم جو پیشہ ورانہ اور استادانہ کالم پڑھتے بلکہ ''نہ پڑھتے'' رہے ہیں ان سب سے یہ الگ ٹائپ کی تحریریں ہیں لیکن شاید شیخ معظم خان بھی ان ''موروں'' میں سے ہیں جو ''چوروں'' پر پڑتے رہتے ہیں لیکن جنگل کے باسی ہونے کی وجہ سے ان کا ''ناچ'' کوئی نہیں دیکھتا صرف خود ہی تھوڑی دیر کے لیے خوش ہو لیتے ہیں اور پھر اپنی ''ٹانگوں'' پر نظر پڑتے ہی رونے لگتے ہیں، حافظ نے کیا خوب کہا ہے کہ
آتش نیست کہ برشعلہ او خند شمع
آتش آں است کہ برخرمن پروانہ زدند
یعنی آگ وہ نہیں جس کے شعلے سے ''شمع'' خنداں ہوتی ہے بلکہ آگ وہ ہے جو پروانے کو جلا ڈالتی ہے، ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی آگ لگی ہوئی ہے کہ کچھ لوگوں کا تو سب کچھ راکھ کر رہی ہے لیکن کچھ لوگ تاپتے ہیں اور کھاتے پیتے رہتے ہیں بلکہ مستی میں آکر سگریٹ اور چرٹ تک سلگا لیتے ہیں، جناب شیخ معظم خان مندوخیل نے کتابیں بھجوانے کے بعد جب ہماری پہلی بات چیت ٹیلی فون پر ہوئی تو انھوں نے خصوصی طور پر دو کالموں کو ضرور پڑھنے کے لیے کہا، ایک کا عنوان ہے ''پاکستان انجینئرنگ کونسل حادثات کی ذمے دار'' اور دوسرے کا ہے ''عدالت جانے سے پہلے ہزار بار سوچیں'' غالباً ان کا خیال تھا کہ ہم بھی وہی کریں گے جو آج کل اکثر لوگ کتابوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ بعض لوگ کم از کم سونگھ تو لیتے ہیں لیکن زیادہ تر سونگھے بغیر ہی ردی کے حوالے کر دیتے ہیں لیکن ہم تھوڑا سا بدل کر سلوک کرتے ہیں کم از کم کھولتے اور عنوانات پر نظر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔
اس کے بعد سونگھتے ہیں اگر کوئی ''سگندھ'' مل جائے تو پھر چبا چبا کر پڑھتے ہیں اس لیے شیخ معظم خان کی کتابوں کو سونگھا تو بڑی دلاویز خوشبو آئی، رہے وہ دو عنوانات ؟ تو ظاہر ہے کہ ان کو تو خوب چبا چبا کر کھانا تھا، شیخ صاحب کے کالموں میں خاص بات ہے کہ وہ کالم لکھنے سے پہلے خوب تحقیق کرتے ہیں اور متعلقہ موضوع پر اعداد و شمار جمع کر کے بات کرتے ہیں۔
''پاکستان انجینئرنگ کونسل'' والے کالم کا تعلق تو کراچی سے ہے لیکن پاکستان میں کم از کم یہ ''یک جہتی'' تو بے پناہ ہے کہ جو مرض کراچی میں ہوتا ہے وہ پورے ملک کو بھی لاحق ہوتا ہے اور پھر لیڈر ہوں یا انجینئر یا ڈاکٹر یا ادارہ یا محکمہ یا افسران سب کی ''یک جہتی'' سے ملک اور عوام کی ''سلامتی'' کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، پاکستان انجینئرنگ کونسل بھی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ''وجود'' اور ''لے پالکوں'' سے پورے ملک کی صحت خطرے میں ہے اس کے وجود باسعود کے بارے میں شیخ معظم خان مندوخیل نے جو تفصیلات جمع کی ہیں وہ انتہائی لرزا دینے والی ہیں کہ اوپر سے ''سو روپے'' جب عوام کی فلاح و بہبود ؟ ترقیاتی کاموں ؟ اور فنڈز کو ٹھکانے لگانے کے لیے چلتے ہیں تو عوام تک پہنچتے برف کی طرح پگھلتے پگھلتے آٹھ دس روپے یا اس سے بھی کم رہ جاتے ہیں۔
تھوڑا سا اگر شیخ صاحب کے الفاظ میں بیان ہو جائے تو اچھا ہو گا، لکھتے ہیں ''پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) ایکٹ کے تحت 1976ء میں بنا ہوا ایک خود مختار ادارہ ہے جسے حکومت پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے ہر ادارے کے قیام کے کچھ بیسک اصول ہوتے ہیں اور وہ اگر ان بیسک اصولوں پر قائم رہے تو ادارے کی افادیت اپنی جگہ، اس سے ملک و قوم کو بھی فائدہ پہنچتا ہے لیکن جب ادارہ کرپشن میں ڈوب جائے تو پھر ادارے کا اللہ ہی حافظ ، جس طرح ٹرین اپنی ٹریک سے ہٹ جائے تو تباہی تباہی ہوتی ہے آج پاکستان انجینئرنگ کونسل کا حال احوال خستہ اور بیکار روڈوں سے واضح ہوتا ہے گٹروں کا پانی روڈوں پر ابلتا رہتا ہے ہر طرف ایک ہی شکایت ہے کہ پانی نہیں ہے اور اگر پانی آتا بھی ہے تو زیادہ تر گندا پانی آتا ہے اور اس گندے پانی سے لوگوں کو ڈائریا ہو جاتا ہے اور اس بیماری سے بے تحاشا اموات ہوتی ہیں کیا ۔
ان اموات کے ذمے دار متعلقہ ادارے نہیں ہیں، کیا رشوت خور ذمے دار نہیں ہیں اب تو یہ حال ہے کہ صرف چیک ریسو کرنے پر 30-25 فیصد لیتے ہیں اور بعض محکموں کے بارے میں تو اخبارات میں آتا رہا ہے کہ 70 فیصد کمیشن بھی لیا جاتا ہے اب جب 70 فیصد کمیشن دفتر والوں کا اور 6 فیصد انکم ٹیکس ایک فیصد وائر چارجز تین فیصد کمیشن اور ٹوٹل ہو گیا 80 فیصد اور 10 فیصد سیکیورٹی، تو شاید اسی لیے تو سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور سیوریج کی لائنوں میں اوور فلو ہو رہا ہے'' اس سے آگے موصوف نے ان تباہیوں اور تباہ کاریوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جو کراچی اور گرد و نواح میں پیش آتی رہی ہیں اور جن کی ذمے داری صرف اور صرف خراب تعمیراتی؟ اور ترقیاتی محمکہ پر عائد ہوتی ہے ان میں ایک حادثے کا ذکر خصوصی طور پر قابل توجہ ہے۔
کراچی سے شکار پور جانے والی ایک بس میمن گوٹھ لنک روڈ پر ٹینکر سے ٹکرا گئی اس خوف ناک حادثے میں 60 سے زیادہ مسافر جل بھن کر کوئلہ بن گئے ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، فائر بریگیڈ دو گھنٹے ''تاخیر'' سے پہنچی صرف پانچ منٹ کی مسافت پر واقع پاکستان اسٹیل کے پتھر دل حکام نے التجاؤں کے باوجود آگ بجھانے والی گاڑیاں نہیں بھیجیں، ٹینکر ایک خاص کیمیکل سے بھرا ہوا تھا، ساتھ ہی اس کی ڈیزل ٹینکی بھی پھٹ گئی، رہی سہی کمی بس کی چھت پر لدے ہوئے گیس سلنڈوں نے پوری کر دی۔
اب جیسا کہ میں نے لکھا ہے روڈوں کی حالت خستہ، پلوں کی حالت خستہ، انفراسٹرکچر تباہ و برباد، ظاہر سی بات ہے کہ ذمے دار سائٹ کے انجینئر اور متعلقہ ادارہ ہے کیوں کہ متعلقہ ادارہ اس بات کا ذمے دار ہے کہ جو کنٹریکٹر کمپنی معیاری کام کرنے سے قاصر رہے اسے بلیک لسٹ کر دے۔ میرے خیال میں موجودہ حالات میں پاکستان کی اسی فیصد کمپنیاں بلیک لسٹ ہو جاتیں اب یہ بلیک لسٹ کیوں نہیں ہوتیں اور متعلقہ انجینئروں کو سزا کیوں نہیں ملتی یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟
شیخ صاحب کے ''سوالیہ نشان'' کا جواب غالباً آٹھ سالہ بچے بھی دے سکتے ہیں ہاں البتہ انجینئرنگ کونسل اور حکومت کے لیے یہ ''جواب'' مشکل ہو جیسا ایک نوجوان سے جب انٹرویو میں پوچھا گیا کہ سبز پتوں کا رنگ کیا ہوتا ہے تو اس نے کافی دیر سوچتے کے بعد جواب دیا کہ یہ ہمارے نصاب میں شامل نہیں تھا لیکن اسے پھر بھی نوکری مل گئی کیوں کہ وہ وزیر کا بھتیجا تھا۔اس سے آگے شیخ صاحب نے رجسٹریشن اور رجسٹرڈ کمپنیوں کے بارے میں بھی اچھی خاصی تفصیل دی ہے کہ کمپنیاں کیسے رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور کن کن مزاروں پر کتنے کتنے چڑھاوے چڑھانا پڑتے ہیں، دوسرا کالم جس کا عنوان ہے ''عدالت جانے سے پہلے ہزار بار سوچیں''... اس پر کبھی بعد میں بات کریں گے کیوں کہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے۔