سیاست اور اقتدار عوام کا حق ہے

جو لوگ اس نیابتی جمہوریت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں وہ جمہوریت کے خلاف نہیں ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

CHAKWAL:
پاکستان میں جمہوریت کے نام پر 68 سال سے جو پرفریب کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے عوام اب اس حد تک بیزار ہیں کہ اگر انھیں موقع ملے تو وہ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

جو لوگ اس نیابتی جمہوریت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں وہ جمہوریت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ وہ اس پرفریب اشرافیائی جمہوریت کے خلاف ہیں جس نے ملک کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ آج ہمارا ملک دہشت گردی کے جس جہنم میں جل رہا ہے اس کا ایک بڑا سبب بھی جمہوری حکمران ہیں، جنھوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر مذہبی انتہا پسندوں کی پرورش کی بلکہ سیاست کے لیے بھی انھیں استعمال کیا۔

1971ء میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں بدلنے کا جو سانحہ پیش آیا اس کی وجہ بھی ہمارے جمہوری سیاستدان اور اشرافیائی سیاست ہی تھی جو فوجی بیوروکریسی سے گٹھ جوڑ کر کے وہ حالات پیدا کر دیے جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے عوام اور قیادت کو عَلم بغاوت بلند کرنا پڑا۔ کیا کسی جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے کہ انتخابات جیت کر اقتدار کا استحقاق رکھنے والی جماعت کو محض اس لیے اقتدار دینے سے انکار کر دیا جائے کہ اگر جیتی ہوئی جماعت کو اقتدار دے دیا گیا تو دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کے ہاتھوں سے اقتدار نکل جائے گا؟ اگر 1971ء میں ملک میں عوامی جمہوریت ہوتی، مزدوروں کا صدر ہوتا، کسانوں کا وزیر اعظم ہوتا تو نہ مشرق پاکستان کے عوام میں بغاوت کا جذبہ پیدا ہوتا، نہ مشرقی پاکستان الگ ہوتا۔

1970ء میں ایک پارٹی (نیپ) کے وفد کے ساتھ مشرقی پاکستان جانے کا اتفاق ہوا اور مولانا بھاشانی کے ساتھ بڑے بڑے عوامی جلسوں میں شرکت کا موقع بھی ملا لیکن کہیں ہم نے عوام میں علیحدگی کے وہ جذبات نہیں دیکھے جو ''ادھر تم ادھر ہم'' کے بعد دیکھے گئے۔ پلٹن میدان میں لاکھوں عوام کے سیلابی جلسے میں جن میں نوجوان طلبا کی اکثریت تھی، کوئی پاکستان مخالف بات کی گئی نہ علیحدگی کے نعرے لگائے گئے، البتہ ون یونٹ جیسے غیر منصفانہ اور جمہوریت دشمن اقدامات کے خلاف احتجاج ضرور کیا جاتا رہا۔ 1970ء ہی میں جب شیخ مجیب الرحمن کراچی آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں؟ تو مجیب الرحمن نے کہا پاکستان اگر ٹوٹا تو اسے توڑنے والے ہم نہیں بلکہ مغربی پاکستان کے رہنما ہوں گے۔

مشرقی پاکستان میں عوامی برتری کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کی قیادت نے جمہوریت کے حقیقی دشمن نظام جاگیرداری کو ختم کر دیا تھا۔ 1971ء کے پاکستان میں اگر وڈیرہ شاہی کی بالادستی نہ ہوتی اور عوام کے حقیقی نمایندے غریبوں، مزدوروں، کسانوں، طلبا، وکلا، ادیبوں، شاعروں کے نمایندے برسر اقتدار ہوتے تو نہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیاں ہوتیں نہ مشرقی پاکستان الگ ہوتا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے حوالے سے حمود الرحمن کمیشن نے جو رپورٹ تیار کی تھی اسے عوام میں آنے سے روکنے والے کون تھے؟ اگر حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ باہر آتی تو وہ پردہ نشین بے پردہ ہو جاتے جنھوں نے فوجی بیورو کریسی کے ساتھ مل کر وہ حالات پیدا کر دیے تھے جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں سامنے آیا۔


پاکستان میں ون یونٹ کے نفاذ کے ساتھ چھوٹے صوبوں کے ساتھ جن ناانصافیوں کا سلسلہ شروع ہوا اس کا نتیجہ آج ہم بلوچستان کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ اگر پاکستانی سیاست پر حقیقی عوامی نمایندوں، مزدوروں، کسانوں، غریب طبقات کا غلبہ ہوتا تو نہ چھوٹے صوبوں میں وہ بے چینی ہوتی جس کا مشاہدہ ہم عشروں سے کر رہے ہیں نہ آئین میں 18 ویں ترمیم کی ضرورت پیش آتی۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے قتل سے جاگیرداروں نے جو سازش شروع کی تھی وہ آج ولی عہدی نظام کی شکل میں اس ملک کے 20 کروڑ عوام کے مستقبل پر تلوار کی طرح لٹک رہی ہے۔

مشکل یہ ہے کہ ملک میں ایک ایسا نظام مستحکم کیا گیا ہے جو نچلے طبقات کو اوپر آنے ہی نہیں دیتا۔ حقیقی جمہوریت یا عوامی جمہوریت کا مطلب اکثریت کی حکومت ہوتا ہے۔ کیا اس ملک کی 68 سالہ تاریخ میں کبھی مزدوروں، کسانوں کے نمایندے قانون ساز اداروں میں گئے ہیں؟ کیا پاکستان کی 68 سالہ زندگی میں غریب طبقات مزدوروں، کسانوں کے اہل ایماندار اور ملک و قوم سے مخلص نمایندے صدارت یا وزارت عظمیٰ کی کرسیوں تک پہنچ سکے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر ہمارے جمہوریت نواز دوستوں کو سنجیدگی اور ایمانداری سے غور کرنا چاہیے، محض آنکھ بند کرکے جمہوریت کے راگ الاپنے کا مطلب وڈیرہ شاہی کو مضبوط کرنے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے۔

بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے جس کے حکمرانوں سے سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن بھارت میں آج وزارت عظمیٰ کی کرسی پر جو شخص براجمان ہے وہ اپنی زندگی میں ایک ڈھابے کے ہوٹل پر باہر والے کی خدمات انجام دیتا رہا ہے، ہم اس کے ماضی کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن اس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ پاکستان میں 68 سال کے دوران کوئی مزدور رہنما صدر مملکت کیوں نہ بن سکا؟ کوئی کسان رہنما اس ملک کا وزیر اعظم کیوں نہ بن سکا؟ کوئی شاعر، کوئی ادیب، کوئی دانشور کسی صوبے کا گورنر یا وزیراعلیٰ کیوں نہ بن سکا؟ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں پر زمینی اور صنعتی اشرافیہ مسلط ہے اور مڈل کلاس کے ضمیر فروش اس کے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان بنے ہوئے ہیں۔

مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ سرمایہ دارانہ جمہوریت ہی رائج ہے لیکن ان ملکوں میں ہر طبقے کے عوام کو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے اور اعلیٰ سطح کی قیادت تک پہنچنے کی آزادی ہے، پھر ان ملکوں میں ایک ایسا بلدیاتی نظام رائج ہے جس میں طویل عرصے تک عوامی خدمات انجام دیے بغیر کوئی شخص قانون ساز اداروں تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب کہ ہمارے ملک میں زمینی اور صنعتی اشرافیہ کی اولاد ٹارزنوں کی طرح بغیر بلدیاتی اداروں میں عوام کی خدمات انجام دیے بغیر سیاست اور قومی اور بین الاقوامی مسائل کے ادراک کے بغیر محض اس لیے عوام کے سروں پر کود پڑتی ہے کہ اس کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔

اس ملک میں مزدوروں کی تعداد ساڑھے چار کروڑ بتائی جاتی ہے، پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں میں زرعی معیشت سے جڑے ہوئے ہاریوں اور کسانوں کی تعداد دیہی آبادی کے 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ کیا مزدوروں، کسانوں کی نمایندگی ہمارے قانون ساز اداروں میں موجود ہے؟ جمہوریت کا مطلب اکثریت کی حکومت بتایا جاتا ہے۔

کیا 68 سالہ سیاسی زندگی اور نام نہاد جمہوریت میں کبھی اکثریت کی حکومت رہی ہے؟ ان حقائق بلکہ تلخ حقائق کے پس منظر میں لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہوتی ہے کے فراڈ نعروں کے بجائے اس ملک کی اکثریت مزدوروں کسانوں کے اہل ایماندار مخلص عوام دوست نمایندوں کو آگے لانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ سیاست اور اقتدار پر بالادستی ان کا حق ہے اور جب تک یہ حق اکثریت کو نہیں ملے گا جمہوریت ایک فراڈ ہی رہے گی۔
Load Next Story