بلوچستان نئے وزیراعلیٰ کے لیے کھلا میدان

بلوچستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سے گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی نے حلف لے لیا

بلوچستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سے گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی نے حلف لے لیا، فوٹو: فائل

بلوچستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سے گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی نے حلف لے لیا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ گراں بار مسائل سے دوچار بلوچستان کو منزل تک پہنچانے کے لیے جو جدوجہد ڈاکٹر عبدالمالک نے ادھوری چھوڑی ہے اس بھاری پتھر کو اب ثنااللہ زہری نے اس عزم کے ساتھ اٹھایا ہے کہ وہ کرپشن بدعنوا نی اور بے روزگا ری کے ناسور سے صو بے کے عوام کو نجات دلانا چاہتے ہیں جو بلاشبہ 'ہرکولین ٹاسک' ہے۔

انھوں نے چیف سیکریٹری کو مخا طب کرتے ہو ئے کہا کہ وہ بیو روکریسی کے گوشگزار کردیں کہ اب کسی بھی رکن اسمبلی کا جائزکام نہیں رکنا چا ہئے۔جمعرات کو وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کو بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب کرلیا ۔

یہ بلوچستان کے اس صوبہ میں اقتدار کی خوشگوار اور جمہوری اسپرٹ کے ساتھ منتقلی کا قابل تقلید نمونہ ہے جسے اب نئے منتخب وزیراعلیٰ کی قیادت میں بلوچستان کو امن کا تحفہ دینا ہے، وزیراعلیٰ ثنا اللہ زہری نے جب بلوچستان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تو54اراکین نے ان کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ راحیلہ حمید درانی بلوچستان اسمبلی کی 13ویں اور پہلی خاتون اسپیکر منتخب ہوئیں ۔


نواب ثنا اللہ زہری نے وزارت اعلیٰ کے منصب کو شہدا کے نام کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہو ئے ہرکسی سے بات چیت کے لیے تیارہیں، جولوگ ٹیبل ٹاک اور مفاہمتی عمل سے روگردا نی کرتے ہو ئے سیاسی شخصیات ، ڈاکٹرز اور دیگرکی ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں،ان کے ساتھ کوئی کمپرومائزنہیں کیا جائے گا ۔ اسی طرح ثنااللہ بلوچستان میں کرپشن کے خاتمہ اور تعلیم و صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ مری معاہدے پرعملدرآمدکر کے قائدین نے سیاسی بلوغت کاثبوت دیا ہے ، نواب ثنا اللہ زہری کی قربانیاں ہم سب کے سامنے ہے بلکہ ان کا عملی طور پر بھی بھرپور ساتھ دیں گے ۔

ان واضح یقین دہانیوں کی روشنی میں نئے وزیراعلیٰ کو بلوچستان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ایک نئے مائنڈ سیٹ کی مفاہمانہ بنیاد رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے مسائل اور ایشوز کے حل کے لیے پانسہ پلٹ کارکردگی دکھانی ہوگی جو بلوچستان میں غربت اوراحساس محرومی کے شکار سیاسی مین اسٹریم کی اس بد اعتمادی کا ازالہ کردے جب کہ لاپتا افراد کی بازیابی سمیت مزاحمت کاروں ر یاستی رٹ کو تسلیم نہ کرنے والے جنگجو عناصر اور اندرون و بیرون ملک ناراض قوم پرست بلوچ رہنماؤں کو بلا تاخیر مذاکرات کی میز پر لائے۔

لیکن یہ حیران کن کارنامہ ایک ناقابل تسخیر جذبہ عمل اور شفاف انتظامی سسٹم کا احیاء کرنے والی روادار صوبائی حکومت ہی انجام دے سکتی ہے جو ثنااللہ زہری کی حکومت بھی ہوسکتی ہے جو بلوچستان کے قبائلی بطن سے جدید جمہوری روایات کو بروئے کار لاکر بد امنی اور شورش کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردے۔ نئی حکومت کے لیے میدان عمل کھلا ہوا ہے۔
Load Next Story