24 مسلم ملکوں کا اتحاد
بعض عرب ملکوں خصوصاً سعودی عرب کی کوششوں سے 34 مسلم ملکوں کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
بعض عرب ملکوں خصوصاً سعودی عرب کی کوششوں سے 34 مسلم ملکوں کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے، جو مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ اس اتحاد کی قیادت سعودی عرب کرے گا اور اس اتحاد کا مرکز بھی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوگا۔ اس اتحاد میں سارے مسلم ملک شامل ہیں جن کی تعداد 57 بتائی جاتی ہے۔ پاکستان بھی اس اتحاد میں شامل ہے۔ عراق، شام اور ایران کی عدم شمولیت پر ہر طرف سے سوال اٹھ رہے ہیں، کیونکہ ان ملکوں سے بوجوہ سعودی عرب اور عرب امارات کے تعلقات دوستانہ نہیں رہے، اس پس منظر میں ان ملکوں کی اس اعلان کردہ اتحاد میں عدم شمولیت کو ان ہی حوالوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
دہشت گردی اب کوئی قومی مسئلہ رہی ہے نہ علاقائی مسئلہ، بلکہ یہ بیماری عالمی مسئلہ بن گئی ہے۔ اس تناظر میں اگر دہشت گردی کے خلاف کوئی موثر اتحاد ناگزیر سمجھا جاتا ہے تو منطقی طور پر اس اتحاد کو عالمی سطح کا اتحاد ہونا چاہیے تاکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی طاقت ایک پلیٹ فارم پر مرکوز ہوجائے اور یہ اتحاد اجتماعی طور پر دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہوسکے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے نتائج یقیناً بہتر نکل سکتے ہیں۔ مغربی ممالک اپنے طور پر دہشت گردی کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں، روس اپنے طور پر دہشت گردی کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے اور ان سب کا مشترکہ ہدف شام، عراق اور یمن ہے۔ عراق اور شام میں دہشت گرد اس قدر مضبوط ہیں کہ انھوں نے ان ملکوں کے کئی اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف اس قدر موثر کارروائیوں کے باوجود ان کی پیش رفت کیسے جاری ہے؟
اس اتحاد کے حوالے سے ایک سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اس اتحاد کو صرف مسلم ملکوں تک ہی محدود رکھنا تھا تو کیا او آئی سی اس اتحاد سے بڑا مسلم ملکوں کا اتحاد نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر ایک نسبتاً چھوٹا اتحاد بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوالات بہت منطقی ہیں۔ 34 ملکوں کے اتحاد کی قیادت کو ان سوالوں کے جواب دینا چاہیے تاکہ مسلم ملکوں کے عوام اور خواص میں اس حوالے سے جو تحفظات پیدا ہو رہے ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے۔ کیونکہ جب تک اس حوالے سے رکن ممالک اور مسلم عوام مطمئن نہیں ہوں گے اس اتحاد کی افادیت مشکوک رہے گی۔پچھلے ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے مسلم ملکوں میں جو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اس میں فقہی عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ درست ہے کہ فقہی اختلافات کوئی نیا عنصر نہیں بلکہ یہ ہمیشہ مسلم تاریخ کا حصہ رہا ہے لیکن اکیسویں صدی میں فقہی اختلافات جس شدت سے دہشت گردی میں بدل گئے ہیں، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ مسلم قوم کی اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اختلافات شدید سے شدید تر ہوتے رہے ہیں۔ آج مسلم ملکوں میں جو مذہبی انتہا پسندی کا شیطانی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کی اساس اور بنیاد بھی فقہی اختلافات ہی ہیں۔ عراق میں یہ اختلافات اس قدر خونی بن گئے ہیں کہ بغداد دو حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا ہے، ایک حصہ سنی کمیونٹی کا ہے دوسرا شیعہ کمیونٹی کا۔ کوئی سنی شیعہ کمیونٹی کے علاقے میں نہیں جاسکتا کوئی شیعہ سنی کمیونٹی کے علاقے میں نہیں جاسکتا، جاتا ہے تو زندہ واپس نہیں آتا۔ پاکستان میں جو 50 ہزار سے زیادہ مسلمان دہشت گردی کی نذر ہوگئے ہیں، اس کی بنیاد بھی فقہی نفرتیں ہیں، مسلمانوں کا انتہائی بے دردی سے خون بہا رہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ان فقہی دھڑوں میں سے ایک کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا ہے اور دوسرے کی سرپرستی کا اعزاز ایران کو حاصل ہے۔ ایران میں شہنشاہ ایران شاہ رضا شاہ کے بعد جو حکومت برسر اقتدار آئی اگر وہ فقہی حصار سے باہر نکل کر مسلمانوں کی اجتماعی بھلائی پر اپنی توجہ مرکوز کردیتی تو نہ صرف یہ فتنے ختم ہوجاتے بلکہ مسلمانوں میں اتحاد کی راہیں بھی کھل جاتیں لیکن افسوس کہ ایرانی قیادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے کا یہ موقع ضایع کردیا اور فقہی فکر کے راستے پر اس طرح گامزن ہوگئی کہ دونوں فقہ دو جنگجو قوتوں میں بٹ گئے، جن کی بنیاد نفرت پر رکھی گئی۔
اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے ساتھ مسلم ملکوں میں ہم خیال مذہبی گروپوں کی مالی مدد کرتے رہے اور ایران اپنے ہم خیال مذہبی دھڑوں کو فیڈ کرتا رہا۔ یوں مسلم ملکوں میں فقہی اختلافات مضبوط ہوئے اور دہشت گردی خودکش حملوں تک پہنچ کر مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث بن گئے۔34 مسلم ملکوں کے اس اتحاد نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان فاصلے اور بڑھا دیے ہیں۔ اگر اس تفریق کا خاتمہ اور مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا ازالہ کرنا ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اور ایران اور اس کے اتحادی فقہی تقسیم کے حصار سے باہر نکلیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تقسیم کی جڑیں 14 سو سال کی گہرائی میں گڑھی ہوئی ہیں، لیکن اگر اس تقسیم کو قدم اول کے طور پر کم نقصان رساں بنانے کی کوششیں کی جائیں تو سب سے پہلے فقہ کے نام پر ہونے والی خونریزی کو روکنا پڑے گا اور دونوں فقہوں کے ماننے والوں کے بھس بھرے ذہنوں میں اس حقیقت کو پیوست کرنا پڑے گا کہ اس تقسیم نے نہ صرف مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیل دیا ہے بلکہ ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن بنا ہوا ہے اور کافروں سے زیادہ بہیمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کا خون انتہائی بے دردی سے بہا رہا ہے اور ساری دنیا میں مذہب اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔چونکہ انتہا پسندی نے اب فقہی حدود کو پھلانگ کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لہٰذا اب اسے کنٹرول کرنے کے لیے 34 مسلم ملکوں کا اتحاد کافی نہیں۔
اگر پہلے قدم کے طور پر دہشت گردی کے خلاف کوئی منظم اور منصوبہ بند جنگ لڑی جاسکتی ہے تو اس میں ایران، شام اور عراق کے ساتھ ان مسلم ملکوں کو شامل کیا جانا چاہیے جو اس اتحاد سے باہر ہیں بدقسمتی سے 34 ملکوں کے اس اتحاد میں ایران، شام اور عراق کی عدم شرکت سے وہ دھڑے بندی اور مضبوط ہوگی جو پہلے ہی سے ان ملکوں کے درمیان موجود ہے۔
پاکستان مسلم ملکوں میں ایک طاقتور جوہری ملک ہے۔ پاکستان کے مشیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ اتحاد کے حوالے سے ہماری حکومت کلیئر نہیں ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اتحادوں میں شمولیت سے پہلے شامل ہونے والے ملک ہر طرح مطمئن ہوتے ہیں، پاکستان اگر اس اتحاد سے مطمئن نہ تھا تو اس نے بغیر اطمینان کے اس اتحاد میں شرکت کیوں کی؟ سعودی عرب کی بھی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اتحاد کے اغراض و مقاصد سمیت اس کے تمام منصوبوں اور اس پر عملدرآمد کی تفصیل سے ممبر ملکوں کو آگاہ کرتا ان کوتاہیوں کے باوجود ایک مثبت خبر یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران براہ راست مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔
دہشت گردی اب کوئی قومی مسئلہ رہی ہے نہ علاقائی مسئلہ، بلکہ یہ بیماری عالمی مسئلہ بن گئی ہے۔ اس تناظر میں اگر دہشت گردی کے خلاف کوئی موثر اتحاد ناگزیر سمجھا جاتا ہے تو منطقی طور پر اس اتحاد کو عالمی سطح کا اتحاد ہونا چاہیے تاکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی طاقت ایک پلیٹ فارم پر مرکوز ہوجائے اور یہ اتحاد اجتماعی طور پر دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہوسکے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے نتائج یقیناً بہتر نکل سکتے ہیں۔ مغربی ممالک اپنے طور پر دہشت گردی کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں، روس اپنے طور پر دہشت گردی کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے اور ان سب کا مشترکہ ہدف شام، عراق اور یمن ہے۔ عراق اور شام میں دہشت گرد اس قدر مضبوط ہیں کہ انھوں نے ان ملکوں کے کئی اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف اس قدر موثر کارروائیوں کے باوجود ان کی پیش رفت کیسے جاری ہے؟
اس اتحاد کے حوالے سے ایک سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اس اتحاد کو صرف مسلم ملکوں تک ہی محدود رکھنا تھا تو کیا او آئی سی اس اتحاد سے بڑا مسلم ملکوں کا اتحاد نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر ایک نسبتاً چھوٹا اتحاد بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوالات بہت منطقی ہیں۔ 34 ملکوں کے اتحاد کی قیادت کو ان سوالوں کے جواب دینا چاہیے تاکہ مسلم ملکوں کے عوام اور خواص میں اس حوالے سے جو تحفظات پیدا ہو رہے ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے۔ کیونکہ جب تک اس حوالے سے رکن ممالک اور مسلم عوام مطمئن نہیں ہوں گے اس اتحاد کی افادیت مشکوک رہے گی۔پچھلے ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے مسلم ملکوں میں جو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اس میں فقہی عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ درست ہے کہ فقہی اختلافات کوئی نیا عنصر نہیں بلکہ یہ ہمیشہ مسلم تاریخ کا حصہ رہا ہے لیکن اکیسویں صدی میں فقہی اختلافات جس شدت سے دہشت گردی میں بدل گئے ہیں، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ مسلم قوم کی اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اختلافات شدید سے شدید تر ہوتے رہے ہیں۔ آج مسلم ملکوں میں جو مذہبی انتہا پسندی کا شیطانی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کی اساس اور بنیاد بھی فقہی اختلافات ہی ہیں۔ عراق میں یہ اختلافات اس قدر خونی بن گئے ہیں کہ بغداد دو حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا ہے، ایک حصہ سنی کمیونٹی کا ہے دوسرا شیعہ کمیونٹی کا۔ کوئی سنی شیعہ کمیونٹی کے علاقے میں نہیں جاسکتا کوئی شیعہ سنی کمیونٹی کے علاقے میں نہیں جاسکتا، جاتا ہے تو زندہ واپس نہیں آتا۔ پاکستان میں جو 50 ہزار سے زیادہ مسلمان دہشت گردی کی نذر ہوگئے ہیں، اس کی بنیاد بھی فقہی نفرتیں ہیں، مسلمانوں کا انتہائی بے دردی سے خون بہا رہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ان فقہی دھڑوں میں سے ایک کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا ہے اور دوسرے کی سرپرستی کا اعزاز ایران کو حاصل ہے۔ ایران میں شہنشاہ ایران شاہ رضا شاہ کے بعد جو حکومت برسر اقتدار آئی اگر وہ فقہی حصار سے باہر نکل کر مسلمانوں کی اجتماعی بھلائی پر اپنی توجہ مرکوز کردیتی تو نہ صرف یہ فتنے ختم ہوجاتے بلکہ مسلمانوں میں اتحاد کی راہیں بھی کھل جاتیں لیکن افسوس کہ ایرانی قیادت نے مسلمانوں کو متحد کرنے کا یہ موقع ضایع کردیا اور فقہی فکر کے راستے پر اس طرح گامزن ہوگئی کہ دونوں فقہ دو جنگجو قوتوں میں بٹ گئے، جن کی بنیاد نفرت پر رکھی گئی۔
اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے ساتھ مسلم ملکوں میں ہم خیال مذہبی گروپوں کی مالی مدد کرتے رہے اور ایران اپنے ہم خیال مذہبی دھڑوں کو فیڈ کرتا رہا۔ یوں مسلم ملکوں میں فقہی اختلافات مضبوط ہوئے اور دہشت گردی خودکش حملوں تک پہنچ کر مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث بن گئے۔34 مسلم ملکوں کے اس اتحاد نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان فاصلے اور بڑھا دیے ہیں۔ اگر اس تفریق کا خاتمہ اور مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا ازالہ کرنا ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اور ایران اور اس کے اتحادی فقہی تقسیم کے حصار سے باہر نکلیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تقسیم کی جڑیں 14 سو سال کی گہرائی میں گڑھی ہوئی ہیں، لیکن اگر اس تقسیم کو قدم اول کے طور پر کم نقصان رساں بنانے کی کوششیں کی جائیں تو سب سے پہلے فقہ کے نام پر ہونے والی خونریزی کو روکنا پڑے گا اور دونوں فقہوں کے ماننے والوں کے بھس بھرے ذہنوں میں اس حقیقت کو پیوست کرنا پڑے گا کہ اس تقسیم نے نہ صرف مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیل دیا ہے بلکہ ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن بنا ہوا ہے اور کافروں سے زیادہ بہیمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کا خون انتہائی بے دردی سے بہا رہا ہے اور ساری دنیا میں مذہب اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔چونکہ انتہا پسندی نے اب فقہی حدود کو پھلانگ کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لہٰذا اب اسے کنٹرول کرنے کے لیے 34 مسلم ملکوں کا اتحاد کافی نہیں۔
اگر پہلے قدم کے طور پر دہشت گردی کے خلاف کوئی منظم اور منصوبہ بند جنگ لڑی جاسکتی ہے تو اس میں ایران، شام اور عراق کے ساتھ ان مسلم ملکوں کو شامل کیا جانا چاہیے جو اس اتحاد سے باہر ہیں بدقسمتی سے 34 ملکوں کے اس اتحاد میں ایران، شام اور عراق کی عدم شرکت سے وہ دھڑے بندی اور مضبوط ہوگی جو پہلے ہی سے ان ملکوں کے درمیان موجود ہے۔
پاکستان مسلم ملکوں میں ایک طاقتور جوہری ملک ہے۔ پاکستان کے مشیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ اتحاد کے حوالے سے ہماری حکومت کلیئر نہیں ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اتحادوں میں شمولیت سے پہلے شامل ہونے والے ملک ہر طرح مطمئن ہوتے ہیں، پاکستان اگر اس اتحاد سے مطمئن نہ تھا تو اس نے بغیر اطمینان کے اس اتحاد میں شرکت کیوں کی؟ سعودی عرب کی بھی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اتحاد کے اغراض و مقاصد سمیت اس کے تمام منصوبوں اور اس پر عملدرآمد کی تفصیل سے ممبر ملکوں کو آگاہ کرتا ان کوتاہیوں کے باوجود ایک مثبت خبر یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران براہ راست مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔