رینجرز تنازع بحرانی کیفیت ختم ہونی چاہیے

دہشت گردی کے خلاف جس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے عسکری قیادت مسلسل زور دیتی آرہی ہے

سندھ کے لیے 2015 ء مشکلات کا سال ثابت ہوا۔ صوبہ انتظامی لحاظ سے شدید بحرانی کیفیت سے دوچار رہا جس سے نکلنے کے لیے وفاق سے رینجرز اختیارات پر کشمکش کا فی الفور خاتمہ ہونا ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل

LONDON:
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ نیشنل ایکشن پلان وہ نہیں جس پر ہم سب متفق تھے، نیشنل ایکشن پلان کی نگرانی کے لیے پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنائی جائے، نیشنل ایکشن پلان سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں۔ گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی آٹھویں برسی پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں کمی سے متعلق صورتحال کے سیاق وسباق میں عوامی عدالت جانے اور دمادم مست قلندر ہوجانے کی جو بات کی ہے، وہ ماضی کے تلخ تجربوں سے الگ کوئی کہانی نہیں اس لیے اس سے بچنے میں ہی سندھ کی عافیت ہے، اگرچہ جمہوری روایات اور سیاسی تجربات وحوادث کے ملکی تناظر میں بات دمادم سے بھی کئی مرتبہ آگے جا چکی ہے لیکن ثابت یہی ہوا کہ سیاسی اختلافات کا جمہوری طرز حکومت میں آخر کار مکالمہ کی میز پر جاکر حل تلاش کرنا احسن طریقہ ہے یا انتہائی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

تاہم صائب رائے جو سیاسی حلقوں کی جانب سے اب تک دی جا چکی ہے اس پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو بلا تاخیر غور و فکر کرنا چاہیے، تدبر تحمل اور سنجیدگی سے وزیراعظم نواز شریف اور دیگر وفاقی اداروں سے ایک غیر جذباتی منطقی اور زمینی حقائق سے جڑی مفاہمت ناگزیر ہے، جس میں نیشنل ایکشن پلان کے حوالہ سے ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے جو دہشت گردی اور بد امنی کے خاتمہ میں ممد و معاون ثابت ہو نا کہ اس پلان کو بھی متنازع بنایا جائے جس کا ملک اور شہر قائد متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے اس استدلال کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ امن صرف وفاق کی وجہ سے قائم نہیں ہوا ہے بلکہ سندھ پولیس اور رینجرز کے افسران و اہلکاروں نے قربانیاں دے کر شہر کراچی کو بچایا ہے جب کہ امید تو یہی کی جانی چاہیے کہ اب بھی رینجرز اور پولیس مل کر سندھ میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اشتراک و تعاون اور رابطے کو فعال بنا کر دہشتگردوں کے عزائم ناکام بنا سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے عسکری قیادت مسلسل زور دیتی آرہی ہے اور وفاقی وزارت داخلہ اور دیگر ادارے اسی پلان کے ذریعے ملکی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی سندھ سمیت پورے ملک میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اسے کسی طور نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان قومی ضرورت ہے اسے پی پی یا کسی سیاسی جماعت کو ہدف بنانے کے لیے بروئے کار لانے کا تاثر مناسب نہیں ۔ پیپلز پارٹی کو اس مسئلہ پر سلامتی اور امن کے قیام پر مامور اداروں سے بھرپور تعاون کے لیے مکمل معاونت کرنی چاہیے، یہ قومی سلامتی کا اہم معاملہ اور سندھ حکومت کی سب سے بڑی آزمائش بھی ہے، پیپلزپارٹی خود ایک داخلی تنظیمی سٹرکچرل تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے آصف زرداری کو پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کا صدرمنتخب کرلیا ہے۔


اسی اجلاس کے ذرایع کے مطابق پیپلزپارٹی رینجرز کے اختیارات کے معاملے میں تحفظات کے باوجود فوری طور پر کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھائے گی۔ اجلاس کی بریفنگ میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد بہتری آئیگی۔ مگر پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے تفصیلی ملاقات کی نوبت نہیں آئی، الگ ملاقات کا شیڈول نہیں تھا ، وزیراعظم بن قاسم پورٹ اور تاجروں کی ایک تقریب میں مصروف رہے، رینجرز اختیارات پر تحفظات کے حوالہ سے وزیراعظم نواز شریف سے وزیراعلیٰ کی ایئر پورٹ پر مختصربات چیت کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا۔

ادھر سندھ اسمبلی کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں کمی کے اقدام کو سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں چیلنج کیا گیا ہے، درخواست بیرسٹر ظفراللہ نے دائر کی ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کراچی اور سندھ کے حالات رینجرز کو مکمل اختیارات دے کر ہی حل کیے جاسکتے ہیں، زرداری نائیک ملاقات میں طے پایا گیا کہ فی الحال سندھ حکومت وفاق کوایک خط تحریرکرے گی جس میں کہا جائے گا کہ وفاقی حکومت سندھ اسمبلی کی قرارداد کا احترام کرے اور رینجرز کے اختیارات اور صوبائی خودمختاری کے معاملے پر حکومت سندھ کے ساتھ تعاون کرے جب کہ سابق صدر کو مشورہ دیا گیا ہے کہ رینجرز کے معاملے پر فی الحال سپریم کورٹ سے رجوع نہ کیا جائے۔

ادھرسینیٹر اعتزاز احسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، دہشتگردوں اور بھتہ خوروں کے خلاف رینجرز کی کارروائیوں پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سرکاری اداروں پر چھاپوں اور افسران کی گرفتاری کے لیے سندھ کے وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے، قائد حزب اختلاف شید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کے سنگین نتائج نکلیں گے، جمہوریت میں مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کیے جاتے ہیں، انھوں نے صائب بات کی کہ سندھ کے مسئلے پر وزیراعظم کو وزیراعلیٰ سندھ سے بات چیت کرنی چاہیے۔

سندھ کے لیے 2015 ء مشکلات کا سال ثابت ہوا۔ صوبہ انتظامی لحاظ سے شدید بحرانی کیفیت سے دوچار رہا جس سے نکلنے کے لیے وفاق سے رینجرز اختیارات پر کشمکش کا فی الفور خاتمہ ہونا ناگزیر ہے ۔ سندھ حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کی سربراہی کا کردار ادا کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کرنے کا تہیہ کرلے۔دیگر راستے سیاسی تباہی کے ہیں۔
Load Next Story