یاسر کا کیریئر بچانے کے ’’نسخے‘‘ کی تلاش شروع
پی سی بی کے تھنک ٹینک نے ڈوپنگ کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کیلیے میڈیکل پینل تشکیل دے دیا
’’بی‘‘ ٹیسٹ کرانے کی درخواست7روزمیں کرنا ہوگی،ایک ہفتے بعدفیصلے کیخلاف اپیل کرسکیں گے،غلطی سے ممنوعہ دوااستعمال کرنے پربھی چھوٹ نہیں ملتی۔ فوٹو: فائل
پی سی بی یاسر شاہ کا کیریئر تباہ ہونے سے بچانے کے ''نسخے'' تلاش کرنے لگا، تھنک ٹینک نے سرجوڑ لیے،ڈوپنگ کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کیلیے میڈیکل پینل تشکیل دے دیا گیا۔
قانونی اور طبی لحاظ سے مشاورت مکمل ہوگئی، یورین سیمپل کا ''بی'' ٹیسٹ کرانے کی درخواست 7روز میں کرنا ہوگی، لیگ اسپنر ایک ہفتے بعد آئی سی سی فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرسکیں گے، غلطی سے ممنوعہ دوا استعمال کرنے پر بھی چھوٹ نہیں دی جاتی، 2سے 4 سالہ پابندی کی تلوار لٹکنے لگی، چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی فراہم نہ کرنے کا تاثر درست نہیں، ایک سال میں 100 گھنٹے لیکچرز دیے جاتے ہیں، تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرینگے۔تفصیلات کے مطابق 2015 میں کامیاب ترین پاکستانی بولرثابت ہونے والے یاسرشاہ کو آئی سی سی نے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پرمعطل کر دیا ہے، ان کے ہرقسم کی کرکٹ کھیلنے پر غیرمعینہ مدت تک پابندی عائد کردی گئی،حتمی فیصلے میں سزا کا تعین کیا جائے گی۔
وہ اگر ٹریبونل کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے تو جان چھوٹ سکتی ہے، ان کا سیمپل13نومبر کو یو اے ای میں انگلینڈ سے ون ڈے سیریز کے دوران لیا گیا تھا،پالیسی کے تحت کونسل کسی بھی میچ کے دوران کسی کرکٹر کو ٹیسٹ کیلیے منتخب کرسکتی ہے، لیگ اسپنر کے جسم میں ہائپر ٹینشن کے علاج کیلیے استعمال ہونے والا کیمیکل کلورو ٹالیڈون پایا گیا تھا، یہ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی ممنوعہ ادویات میں شامل ہے، اچانک گرنے والی افتاد پر گزشتہ روز پی سی بی کے ایوانوں میں کھلبلی مچی رہی،کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا، میڈیکل پینل یاسر شاہ سے بات کرتے ہوئے ابتدائی طور پر یہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے رہاکہ یہ دوا انھوں نے کب اور کیوں استعمال کی؟اینٹی ڈوپنگ کے حوالے سے بار بار معلومات فراہم کیے جانے کے باوجود لیگ اسپنر نے اس معاملے میں غفلت کیوں برتی؟
یاد رہے کہ سابق آسٹریلوی اسپنر شین وارن نے بھی ڈوپنگ کیس میں پکڑے جانے پر کہا تھا کہ غلطی سے اپنی نانی کی طرف سے دی جانے والی دوا استعمال کی، اس کے باوجود انھیں پابندی کی سزا سنا دی گئی تھی، یاسر شاہ کو پابندی سے بچانے کی مہم پی سی بی کے تھنک ٹینک کیلیے آسان نہیں ہوگی کیونکہ آئی سی سی کسی قانون سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پر چھوٹ دینے پر یقین نہیں رکھتی،جان بوجھ کر جرم کرنے والا بھی یہی کہہ سکتا ہے کہ مجھے علم نہیں تھا، البتہ غلطی کا اعتراف کرنے کی صورت میں سزا تھوڑی کم ہوجاتی ہے،قوانین کے مطابق اتوار کو آئی سی سی کی جانب سے پریس ریلیز جاری کیے جانے کے بعد یاسر شاہ کے پاس یورین سیمپل کا ''بی'' ٹیسٹ کرانے کی درخواست کیلیے 7دن ہیں، اس کے ایک ہفتے بعد وہ آئی سی سی فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں، لیگ اسپنر کو ڈوپنگ کیس میں 2سے 4 سال کی پابندی کا سامنا ہے، قومی امکان یہی ہے کہ دورئہ نیوزی لینڈ میں ظفر گوہر ان کے متبادل ہوںگے۔
گزشتہ روز پی سی بی کی پریس ریلیز میں کہا گیاکہ ہم کرکٹ میں ممنوعہ اشیاء استعمال کرنے کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، یاسر شاہ کو کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے کونسل کو منصفانہ نتیجے تک پہنچنے میں بھرپور مدد دی جائے گی، بورڈ اس حوالے سے نہ صرف سخت نگرانی بلکہ کھلاڑیوں کو آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ قوانین سے متعلق آگاہ کرنے کے تعلیمی سیشن بھی منعقد کرتا رہتا ہے۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ کرکٹرز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کی جاتی، ایک سال میں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ سے متعلق 100 گھنٹے لیکچرز دیے جاتے ہیں، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈوپ ٹیسٹ کے معاملے پر قانونی اور طبی لحاظ سے مشاورت مکمل کرلی،تمام امور کا بغور جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریںگے۔
قانونی اور طبی لحاظ سے مشاورت مکمل ہوگئی، یورین سیمپل کا ''بی'' ٹیسٹ کرانے کی درخواست 7روز میں کرنا ہوگی، لیگ اسپنر ایک ہفتے بعد آئی سی سی فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرسکیں گے، غلطی سے ممنوعہ دوا استعمال کرنے پر بھی چھوٹ نہیں دی جاتی، 2سے 4 سالہ پابندی کی تلوار لٹکنے لگی، چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی فراہم نہ کرنے کا تاثر درست نہیں، ایک سال میں 100 گھنٹے لیکچرز دیے جاتے ہیں، تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرینگے۔تفصیلات کے مطابق 2015 میں کامیاب ترین پاکستانی بولرثابت ہونے والے یاسرشاہ کو آئی سی سی نے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پرمعطل کر دیا ہے، ان کے ہرقسم کی کرکٹ کھیلنے پر غیرمعینہ مدت تک پابندی عائد کردی گئی،حتمی فیصلے میں سزا کا تعین کیا جائے گی۔
وہ اگر ٹریبونل کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے تو جان چھوٹ سکتی ہے، ان کا سیمپل13نومبر کو یو اے ای میں انگلینڈ سے ون ڈے سیریز کے دوران لیا گیا تھا،پالیسی کے تحت کونسل کسی بھی میچ کے دوران کسی کرکٹر کو ٹیسٹ کیلیے منتخب کرسکتی ہے، لیگ اسپنر کے جسم میں ہائپر ٹینشن کے علاج کیلیے استعمال ہونے والا کیمیکل کلورو ٹالیڈون پایا گیا تھا، یہ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی ممنوعہ ادویات میں شامل ہے، اچانک گرنے والی افتاد پر گزشتہ روز پی سی بی کے ایوانوں میں کھلبلی مچی رہی،کیس کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا، میڈیکل پینل یاسر شاہ سے بات کرتے ہوئے ابتدائی طور پر یہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے رہاکہ یہ دوا انھوں نے کب اور کیوں استعمال کی؟اینٹی ڈوپنگ کے حوالے سے بار بار معلومات فراہم کیے جانے کے باوجود لیگ اسپنر نے اس معاملے میں غفلت کیوں برتی؟
یاد رہے کہ سابق آسٹریلوی اسپنر شین وارن نے بھی ڈوپنگ کیس میں پکڑے جانے پر کہا تھا کہ غلطی سے اپنی نانی کی طرف سے دی جانے والی دوا استعمال کی، اس کے باوجود انھیں پابندی کی سزا سنا دی گئی تھی، یاسر شاہ کو پابندی سے بچانے کی مہم پی سی بی کے تھنک ٹینک کیلیے آسان نہیں ہوگی کیونکہ آئی سی سی کسی قانون سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پر چھوٹ دینے پر یقین نہیں رکھتی،جان بوجھ کر جرم کرنے والا بھی یہی کہہ سکتا ہے کہ مجھے علم نہیں تھا، البتہ غلطی کا اعتراف کرنے کی صورت میں سزا تھوڑی کم ہوجاتی ہے،قوانین کے مطابق اتوار کو آئی سی سی کی جانب سے پریس ریلیز جاری کیے جانے کے بعد یاسر شاہ کے پاس یورین سیمپل کا ''بی'' ٹیسٹ کرانے کی درخواست کیلیے 7دن ہیں، اس کے ایک ہفتے بعد وہ آئی سی سی فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں، لیگ اسپنر کو ڈوپنگ کیس میں 2سے 4 سال کی پابندی کا سامنا ہے، قومی امکان یہی ہے کہ دورئہ نیوزی لینڈ میں ظفر گوہر ان کے متبادل ہوںگے۔
گزشتہ روز پی سی بی کی پریس ریلیز میں کہا گیاکہ ہم کرکٹ میں ممنوعہ اشیاء استعمال کرنے کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، یاسر شاہ کو کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے کونسل کو منصفانہ نتیجے تک پہنچنے میں بھرپور مدد دی جائے گی، بورڈ اس حوالے سے نہ صرف سخت نگرانی بلکہ کھلاڑیوں کو آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ قوانین سے متعلق آگاہ کرنے کے تعلیمی سیشن بھی منعقد کرتا رہتا ہے۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ کرکٹرز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کی جاتی، ایک سال میں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ سے متعلق 100 گھنٹے لیکچرز دیے جاتے ہیں، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈوپ ٹیسٹ کے معاملے پر قانونی اور طبی لحاظ سے مشاورت مکمل کرلی،تمام امور کا بغور جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریںگے۔