حیدآباد بلدیاتی انتظامیہ عید کے موقع پر آلائشیں اٹھانے میں ناکام

ٹائون سٹی میں اضافی عارضی بھرتیوں کے باوجود آلائشیں سڑکوں اور گلیوں میں پڑی رہیں.

بلدیاتی انتظامیہ کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود حیدرآباد کی سڑکوں پر قربانی کے جانوروں کی آلائشیں جمع ہیں۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس

عید کے تینوں ایام میں قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھانا حیدرآباد کے تینوں شہری ٹائونز کے لیے مسئلہ بنا رہا۔

جبکہ ٹائون سٹی کے افسران کے لیے تو یہ کام انتہائی مشکل ثابت ہوا جہاں 12 سو کے قریب سینڑی ورکرز ہونے کے باوجود آلائشیں اٹھانے کے لیے60 سے سو کے قریب عارضی ورکرز بھرتی کیے گئے، تعلقہ لطیف آباد میں ایڈمنسٹریشن نے 15 سوزوکیاں کرائے پر حاصل کیں جن کے ساتھ سینٹری ورکرز نے صرف کچرے کے ڈھیروں سے آلائشیں اٹھا کر مقررہ مقامات پرپہنچائیں جبکہ تعلقہ قاسم آباد میں موجود سرکاری 7 گاڑیوں اور 2 ٹریکٹرز کے ذریعے ہی آلائشیں ٹھکانے لگائی گئیں۔


تاہم ٹائون سٹی کی20 یو سیز سے آلائشیں اٹھانے کے لیے بلدیاتی افسران نے بغیر کسی ٹینڈر با اثر ٹھیکیدار سے مبینہ طور پر 37 فیصد کمیشن کے عوض20 ٹریکٹرز ٹرالیاں اور سو عارضی سینٹری ورکرز کو فیلڈ میں اتارا، لیکن شہر کی اہم شاہراہوں سے عید کے تیسرے دن کی شام کو گزرنے والے شہری گواہ ہیں کہ گورنمنٹ بوائز اسکول نمبر ایک گول بلڈنگ، ٹائون سٹی کی عمارت کے عین پیچھے عید گاہ چاڑی، ہوپفل اسکول اسٹیشن روڈ، سنار گلی پریٹ آبادو دیگر مقامات پر آلائشیں موجود تھیں ۔ واضح رہے کہ ٹائون سٹی میں 4 سو کے قریب پرانے سینٹری ورکرز ہیں جبکہ 31 دسمبر 2009 کو 20 یونین کونسلز میں مجموعی طور پر 423 سینٹری ورکرز بھرتی کیے گئے اورکمپلین سینٹر کے نام پر 101 سینٹری ورکرز الگ بھرتی کیے گئے۔

تاہم اتنے سینٹری ورکرز کی موجودگی کے باوجود بلدیاتی افسران نے آلائشیں اٹھانے کے لیے 60 سے سو عارضی ورکرز بھی رکھے جنہیں مچھر کالونی سے تعلق رکھنے والے ایک ٹھیکیدار نے 3 روز کے لیے 7 سو روپے روز پر ملازم رکھا جبکہ خود نے13سو روپے فی کس کے حساب سے بل بنا کر مین ٹھکیدار کے حوالے کر دیا جو دو ہزار روپے فی کس کے حساب سے بلدیہ میں بل جمع کرائے گا۔ مذکورہ ٹھیکدار کا کہنا ہے کہ بلدیہ میں نئے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کے بعد ایک آفیسر نے عید سے پہلے تمام ٹھیکیداروں سے میٹنگ کے بعد جاری ہونے والے تمام پرانے چیکس کے کیش ہونے پر 7 فیصد اور آئندہ چیکس پر کمیشن بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا بتا کر یقین دہانی کرا دی ہے کہ 12 فیصد کمیشن صرف ایک آفیسر کو دینے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگی ایک ہفتے میں کرائی جائے گی۔

جبکہ دیگر مقامات کے کمیشن الگ ہوں گے یوں ایک ٹھیکیدار کو مجموعی طور پر اب ٹاون سٹی میں 37 فیصد کمیشن ادا کرنا پڑے گا، جس کی وجہ سے ہر کام کی لاگت میں پچاس فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ عید سے پہلے ہی ایکسپریس اخبار اس بات کی نشاندہی کر چکا تھا کہ ملازمین کی تنخواہوں کی رقم میں سے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کی جائے گی اور آئندہ 24 گھنٹوں میں ملازمین کی تنخواہوں سے پہلے ٹھیکیداروں کو 70 لاکھ روپے دے دیے جائیں گے جبکہ سرکاری و ٹھیکیدار کی ملا کر 55 گاڑیاں بننے کے باوجود نہ تو صحیح طریقے سے ٹاون سٹی سے آلائشیں اٹھائی جا سکیں اور نہ ہی کچرے کے ڈھیر اٹھائے گئے۔
Load Next Story